ColumnImtiaz Ahmad Shad

سوشل میڈیا کی لت ….. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

دنیا کی تمام چیزوں میں شر و خیر کا پہلو چھپا ہوتا ہے۔ اب یہ ہماری استعداد پر منحصر ہے کہ ہم کون سا پہلو اختیار کرتے ہیں۔ اگر کسی چیز کا استعمال صحیح اور جائز کاموں کے لیے کیا جائے جس سے انسانیت فیض یاب ہوتی ہوتو ظاہر سی بات ہے کہ اس کے فیوض و برکات اور ثمرات بہت فائدے مند ہوں گے۔ یہی حال سوشل میڈیا کے استعمال کا بھی ہے۔ سوشل میڈیا ایسی ایجاد ہے جس کی افادیت و نقصانات دونوں ہیں، یہ دو دھاری تلوار ہے۔ حقیقتاً اگر دیکھا جائے تو اس کے نقصانات اس کی افادیت سے زیادہ ہیں، چاہے وہ مذہبی ہوں، جسمانی ہوں یا معاشرتی و سماجی۔ اب یہ استفادہ کرنے والوں پر منحصر ہے کہ وہ اس سے کیسے مستفید ہوتے ہیں؟ جب کہ حالات و واقعات شاہد ہیں کہ سوشل میڈیا کا جائز استعمال کرنے والے بھی ناجائز چیزوں سے اپنی حفاظت نہیں کرپاتے۔آج معاشرے کا کوئی بھی فرد، والدین ہوں، اولاد ہو، گھر کے بڑے بزرگ ہوں، سوشل میڈیا کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ خواتین صنف نازک ہیں اور مردوں کی بہ نسبت سادہ لوح، جذباتی، کسی پر بھی جلد بھروسہ کرنے والی اس لیے ان کے متاثر ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں اور اسی کے نتیجے میں خاموشی سے ان کا استحصال شدت سے ہوتا ہے۔جدید نیٹ ورک ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے آزاد پلیٹ فارمز بڑی آسانی سے مہیا ہوجاتے ہیں۔ فی زمانہ سوشل میڈیا ایک ایسی لت بن چکا ہے، جس میں بچوں سے لے کر بوڑھوں اور عورتوں تک سب گرفتار ہیں۔ ماہرین کے نزدیک لت کی تعریف یہ ہے کہ کوئی بھی ایسا عمل، جس کو کرنے سے آپ کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آپ یہ بات جاننے کے باوجود اس عادت کو ترک کرنے سے قاصر ہوں۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سماجی رابطے کے تمام ذرائع کا استعمال کرنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد کے لیے ان تمام ذرائع کا استعمال ایک نشہ بن چکا ہے، چاہے وہ مرد ہویا زن۔سوشل میڈیا جہاں اپنے آپ میں مفید ہے وہیں حد درجہ مضر و خطرناک بھی ہے۔ زندگی میں جو کام سوشل میڈیا سے باہر کرنامرد و زن پر حرام و ناجائز ہے وہ سوشل میڈیا پر کرنا بھی حرام و ناجائز ہی ہیں اور جو کام جائز ہیں وہ سوشل میڈیا پر بھی جائز ہوجاتا ہے، چونکہ سوشل میڈیا کی اس لہر سے بچنا آج کل کے دور میں انتہائی مشکل ہے۔ تو ایسے حالات میں اس فتنہ سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں اور اگر بہت
زیادہ ضرورت ہوتو سوشل میڈیا کے منفی استعمال سے گریز، اس کے مثبت استعمال کی طرف رہنمائی اور اصلاحی امور کی انجام دہی کے لیے اس کا استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ موجودہ دور میں اصلاحی کوششوں کی شدید ضرورت ہے۔سوشل میڈیا نے جہاں مردوں کو اپنا گرویدہ بنایا ہے وہیں خواتین بھی اس سے پوری طرح مستفید ہو رہی ہیں، ایک وقت تھا جب صرف مرد حضرات انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال کرتے نظر آتے تھے، مگر آج یہ صورتحال ہے کہ خواتین بھی اس دوڑ میں پوری طرح شامل ہو چکی ہیں۔ موجودہ دور میں یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے کہ خواتین اپنا 68فیصد وقت سوشل میڈیا پر زیادہ گزار رہی ہیں جبکہ مردوں میں یہ تناسب 32فیصد ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ آج 80 فیصد گھروں کے ٹوٹنے میں سب سے اہم کردار اس سوشل میڈیا کا ہے جس نے میاں بیوی کے درمیان دوریاں پیدا کردی ہیں اور جس کی وجہ سے خاندان کے خاندان تباہ ہو رہے ہیں اور خانگی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔یہ بات تو اب عیاں ہو چکی کہ میڈیا کی یہ قسم جہاں نعمت بن کر آئی، وہیں یہ ہماری زندگیوں میں مشکلات بھی لارہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بالخصوص نوجوان طبقے کو شہرت کی لت پڑ چکی ہے۔ہر کوئی ’’وائرل‘‘ہونے کا خواہش مند ہے، مرد و زن میں سے ہر دوسرا شخص کسی بھی قیمت پر راتوں رات مشہور ہونا چاہتا ہے۔ شہرت کے اس حصول کے لیے اسے خواہ کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے ۔اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے بوڑھے ہوں یا جواں سبھی یکساں دوڑ میں شامل ہیں۔بعض نوجوان الٹی سیدھی حرکتوں سے لوگوں کی توجہ مرکوز کرتے ہیں تو بعض سیاسی سماجی شخصیات کے ساتھ تصاویر بنوا کر من پسند کیپشن کے ساتھ سوشل میڈیا کی زینت بنتے ہیں،مقصد تسکین پانا ہے ۔اس عادت نے خودی اور خودداری تک ختم کر دی ہے۔جن کو یہ لت پڑ چکی وہ بن بلائے ہر اس محفل میں پہنچ جاتے ہیں جہاں بڑی شخصیات مدعو ہوتی ہیں۔بعض تو ایسے پروفیشنل بن چکے کہ اپنے ساتھ باقاعدہ کوریج کے لیے کیمرہ مین لیے گھومتے ہیں۔ماہ مقدس میں صدقہ ،خیرات ،زکوۃ ہر مسلمان اپنی حیثیت سے بڑھ کر ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر افسوس صد افسوس سوشل میڈیا پر شہرت کی ہوس ہمیں اس مقام تک لے آئی ہے کہ ضرورت مندوں میں راشن کی تقسیم ہو یا افطار پارٹیاں، ہر جگہ ویڈیوز اور تصاویر بنا کر پھیلایا جاتا ہے تاکہ دیکھنے والوں کو یہ لگے کہ کس قدر مال دار آدمی ہے۔بعض جگہوں پرحال یہ ہے کہ لوگ کوئی نیکی کرنے سے قبل بھی اس کا چرچا سوشل میڈیا پر کرنالازم سمجھتے ہیں۔غرض عبادات سے لے کر اخلاقیات تک سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال نے سب چیزوں کا جنازہ نکال دیا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ سوشل میڈیا کے صرف نقصانات ہی ہیں ،اس کے بے شمار فوائد بھی ہیں۔ اگر ہمارے نوجوان اس کا درست استعمال جان کر اس پر کام کریں تو یقیناً معاشرے میں بہتری آسکتی ہے۔ سوشل میڈیا رابطہ کرنے کا آسان اور سستا ذریعہ ہے اس پر ہم اپنے خیالات کا اظہار ایک دوسرے کی ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ان گنت موضوعات پر تعلیمی ،معلوماتی مواد موجود ہے اسے پڑھ اور دیکھ کر اپنی علمی ،ادبی پیاس بجھائی جا سکتی ہے۔ بہت سے لوگ نظر آرہے ہیں کہ وہ اس پلیٹ فارم کواپنے کاروبار،نیک اور فلاحی کاموں کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ فیس بک، وٹس ایپ، یوٹیوب پر آن لائن کلاسز پر کام ہو رہا ہے،کسی علاقے کے مسائل حکام تک پہنچانے میں یہ پلیٹ فارم بہت اہم رول ادا کررہے ہیں۔ وہ مسائل جومین سٹریم میڈیا نظر انداز کر جاتاہے انہیں فیس بک اور یوٹیوب پر اپلوڈ کرکے حکومت تک پہنچایا جاسکتا ہے۔اگر کسی بندے کے پاس کسی کام میں ہنر موجود ہو اور وہ اپنا ہنر دوسروں کی ساتھ شیئر کر سکتا ہے۔اسی طرح آپ سوشل میڈیا پر اپنا ہنر دکھا کرپیسے کما سکتے ہیں۔بطور قوم اگر ہم سوشل میڈیا کا درست استعمال کرنا شروع کر دیں تو یقیناً بہت سے مسائل کا فوری حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button