ColumnNasir Sherazi

خان پھر وزیراعظم ….. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

اقتدار میں آنے والا وزیراعظم عوام کا محبوب رہنما کہلاتا ہے جبکہ اقتدار سے رخصت ہونے والے وزیراعظم کو سابق محبوب کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے، اُس سے ایسا ہی سلوک روا رکھا جاتا ہے جب تک نئے انتخابات نہیں ہوجاتے، تب تک موجودہ وزیراعظم اور سابق وزیراعظم کو حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد سے ہی جانا جائے گا کہ کون کتنے چاہنے والوں کا محبوب ہے۔خان کے مخالفین اگر اس کے حاصل کردہ ووٹوں میں سے ڈھونڈ، ڈھونڈ کر دودھ سے پانی کی طرح علیحدہ کردیں تو بھی اس کے ووٹ کروڑ سے کم نہیں تھے۔ پس وہ اگر کروڑوں دلوں پر راج نہیں کرتا تو بھی لاکھوں دلوںمیںبستا ہے، یہی لاکھوں افراد اس کے جلسے میں آتے ہیں، ان کی گنتی ہر شخص کی نظر یا نظر کی عینک کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہے، اس کے مخالفین اس پر مغرب زدہ ہونے کا الزام لگاتے  اور اصرار کرتے ہیں کہ اس کا مذہب سے دور کا بھی تعلق نہیں، ایسے ہی ایک گروہ نے تصدیق کی ہے کہ اِس نے امریکی صدر کی کامیابی پر دو رکعت نفل ادا کیے، اس سے ایک ثابت ہوگئی کہ اُسے نماز آتی ہے،

اب یہ اعتراض بھی نہیں کیا جاسکتا کہ چونکہ نماز بذبان خاموشی ادا کی گئی لہٰذا اس کی نماز نہیں ہوئی۔ سب خاموشی سے ہی نماز پڑھتے ہیں، اس پر پتلون پہن کر نماز پڑھنے کا الزام بھی نہیں لگ سکتا وہ پتلون پہنتا ہی نہیں، جین وہ صرف لندن جائے تو پہنتا ہے ورنہ آپ اُسے صبح ، شام و رات شلوار قمیص میں ہی دیکھیں گے، مجھے تو اس کے مکمل مذہبی ہونے پر کوئی شک نہیں، جب سے اِس نے اپنی چیچی انگلی میں چاندی میں مرصع انگوٹھی میں عقیق پہننا شروع کردیا ہے، تب سے میرا یقین پختہ ہوگیا ہے وہ سفر میں ہو یا قیام میں، نیند میں ہو یا بیدار ہو، تسبیح ہر وقت اس کے ہاتھ میں نظر آتی ہے، وہ تنہا بیٹھا ہو یا لوگوں کے جھرمٹ
میں ہو، ہر وقت تسبیح پھیرتا نظر آتا ہے، وہ تسبیح پر ہر وقت کیا پڑھتا ہے،

یہ اُس کا اور اللہ کا معاملہ ہے، بندوں کو اِس پر رائے زنی کا کوئی حق نہیں۔ اس کے دینی علم میں وقت کے ساتھ ساتھ خاصا اضافہ ہوا ہے، میں نے نوٹ کیا ہے کہ ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے اس نے اپنی انگوٹھی گھمانے میں مہارت حاصل کرلی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اس معاملے میں خان سے بہت پیچھے ہیں۔ وہ وزیراعلیٰ سے وزیراعظم کے منصب تک پہنچ گئے ہیں لیکن شلوار قمیص، تسبیح اور انگوٹھی جیسی چیزوں سے بہت دور ہیں۔

خان کو چاہیے کہ اپنا مذہبی اور روحانی پوسچر برقرار رکھے بلکہ اس میں کچھ اضافہ کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے جلسے ذرا پہلے شروع کرے، اس کے لیے افطار سے قبل کا وقت بہتر ہے، ایک جم غفیر کو افطاری کا ثواب بہت زیادہ ہوتا ہے، پھر وہ وہیں پر نماز کی امامت کرانے کے بعد ، بعد ازطعام اپنی تقریر کاآغاز کرے تو زیادہ بہتر ہے۔ بھرے پیٹوں سیاسی گفتگو زیادہ اچھی لگتی ہے، نماز عشاء کا وقفہ اور پھر نماز کی امامت کرنا ایک پسندیدہ فعل ہے، خان کو اس کا فائدہ ہوگا، خان کے اپنی سابق اہلیہ جمائما سے تعلقات بہت اچھے ہیں، خان جب بھی لندن جائے اسی کے پاس قیام ہوتا ہے، عمران خان اس وقت اپنی الیکشن مہم پر ہے، ایسے میں اگر جمائما بھی پاکستان آجائے تو اس کا بہت فائدہ ہوگا، وہ اپنے سابق خاوند کی الیکشن مہم میں حصہ لے کر ایک سیاسی قرض اتار سکتی ہے۔ خان نے جمائما کے بھائی کی الیکشن مہم میں حصہ لیا تھا، وہ لندن کے میئر کا الیکشن تو نہ جیت سکا، اس کے مدمقابل ایک مسلمان پاکستانی نژاد محمد صادق نے اُسے شکست دی لیکن قرض تو پھر قرض ہی ہوتا ہے، ادائیگی قرض کا یہ سنہری موقعہ ہے۔ تحریک انصاف کے تمام رہنما، لیگی رہنمائوں پر الزام لگاتے رہے کہ شریف خاندان کی اولادیں اور جائیدادیں امریکہ، برطانیہ و یورپ کے دیگر شہروں میں ہیں، اسے چاہیے کہ اپنے دونوں بیٹوں قاسم خان اور سلمان خان کو پاکستان بلالے، ابھی تک شریف خاندان، آصف علی زرداری اور  مولانا فضل الرحمان حکومت بنانے میں مصروف ہیں، انہیں یہ بات یاد ہی نہیں، کل کلاں فرصت ملنے پر وہ یہی الزام لگائیں تو جھٹ سے اپنی بلٹ پروف گاڑی کی چھت کھول دے، قاسم اور سلمان سر باہر نکالیں تو مخالفین شرم سے ڈوب مریں، اس موقعے پر خان خود بھی درمیان میں کھڑا ہو تو کیا کمال کا سین ہوگا۔

خان کے دونوں بیٹے بھی خان کی طرح مکمل اسلامی رنگ میں رنگے نظر آتے ہیں۔ میں نے کئی ایسی تصویریں سوشل میڈیا پر دیکھی ہیں جن میں جمائما اپنے دونوں بچوں کواسلامی تعلیمات سے روشناس کرارہی ہیں۔ خان کو چاہیے کہ اپنے الیکشن شیڈول میں اس بات کو شامل کرلے کہ ملک کے جس شہر میں جس روز جلسہ ہوگا وہاں کی سب سے بڑی جامع مسجد میں قاسم اور سلمان میں سے ایک بیٹا نماز تراویح پڑھائے گا۔ ایام اعتکاف قریب ہیں، خان اپنے بیٹے کو عام شہریوں میں گھل مل کر اعتکاف بیٹھنے کا کہہ دے تو یہ بات اس کے ووٹرز اور سپورٹرز کے لیے بہت حوصلہ افزا ہوگی۔ یوں محمود و ایاز کا فرق مٹانے کا ایک اہم موقعہ ضائع ہونے سے بچ جائے گا۔ اس کے سیاسی فائدے کا تو اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا۔ خان کے دونوں بیٹوں کے پاکستان میں ہونے کا ایک اور فائدہ بھی ہوسکتا ہے، وہ یہ کہ جب اس کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوجائے گا تو حکومت بوکھلاکر اس کے جلسے میں شریک ہونے والوں پر لاٹھی چارج کرے گی، آنسو گیس کا بے دریغ استعمال ہوگا، سرپھٹیں گے، ایسے میں اگر صرف عام آدمیوں کے، غریب آدمیوں کے سرپھٹے تو
مخالفین کی حکومت اس بات کو عمران خان کے خلاف استعمال کرے گی جس سے اس کا ووٹ بینک متاثر ہونے کا خطرہ ہے،

اس لاٹھی چارج میں اگر دونوں میں کسی کا سر پھٹ گیا اور لہو بہہ کر اس کے پائوں کی ایڑھی تک آگیا تو بس سمجھو اگلا الیکشن خان صرف اسی بات پر جیت جائے گا کہ جمہوریت کی بحالی میں ہمارا اور ہماری اولاد کا خون چوٹی سے ایڑھی تک بہہ گیا مگر یہ وقت آنے سے قبل ضروری ہے کہ ان کے بچوں نے بال بڑھارکھے ہوں، چوٹی لمبی نہ سہی کم ازکم پونی تو بن سکے، اُدھر پونی بنے گی اُدھر ہم سب مل کر اُسے چوٹی مشہور کردیں گے، سیاست میں بات کا بتنگڑ بنانا جائز ہوتا ہے، جنگ حصول اقتدار میں ویسے بھی ناجائز کچھ نہیں ہوتا، محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز کا محاورہ بہت کچھ سوچ سمجھ کر بنایاگیا ہے، حصول اقتدار بھی وطن سے محبت کا اظہار ہی ہے ورنہ اللہ نے خان کو اتنا کچھ دے رکھا ہے کہ وہ آرام سے تمام باقی زندگی عیش و آرام سے گذار سکتا ہے، جمائما کی الیکشن مہم میں اینٹری کے بعد مریم نواز کے جلسے میں کوئی نہیں جائے گا، ان کے جلسے ویران ہوجائیں گے، مگر ضروری ہے انہیں پاکستان بلانے سے قبل تسلی کرلیں کہ وہ اسلام پر قائم ہیں، اپنے پرانے مذہب کی طرف کہیں لوٹ تو نہیں گئیں، ایسا ہو تو بھی گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔خان پھر وزیر اعظم ہوگا اسے امریکہ بھی نہیں روک سکے گا وہ عالم اسلام کا سربراہ ہوگا اور مخالفین منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

  (جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button