Columnمحمد مبشر انوار

نوشتہ دیوار …. محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

قرآن کریم میں اللہ رب العزت کا ارشاد مبارک ہے کہ ’’وہ بھی چالیں چل رہے تھے اور اللہ بھی منصوبہ بندی کررہا تھااور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے‘‘اللہ رب العزت کے اس فرمان کا براہ راست تعلق تو بنی اسرائیل کی ان خفیہ چالوں سے متعلق ہے جو وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے خلاف چل رہے تھے،اور دوسری طرف اللہ رب العزت بنی اسرائیل کی چالوں کو ناکام کرنے کے لیے اپنی چالیں چل رہا تھااور پھر اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔قرآن حکیم میں بیان کی گئی حکمت کی باتیں رہتی دنیا تک کے لیے ہیں اور انسان ان میں سے اپنے موقع و محل کے مطابق منطبق کرتا رہتا ہے لیکن بالعموم جب کسی بھی شخص کو اپنے مخالفین کے مقابل کوئی غیبی امداد حاصل ہو تو وہ فوراً اپنے رب کی کہی ہوئی ان باتوں کو دہراتا اور سکون محسوس کرتا ہے۔

موجودہ حکومت نے یہ کب سوچا تھا کہ عمران خان کو حکومت سے نکالنے کے بعدانہیں ایسی غیر متوقع صورتحال اور عوامی دباؤکا سامنا کرنا پڑے گا۔ دنیا کا کون سااہم خطہ ہے جہاں عمران خان کو حکومت سے نکالنے کے بعد پاکستانی مظاہرے نہیں کر رہے ؟عمران حکومت کو گرانے سے قبل عمران کے مخالفین ان پر جو تبری پڑھتے،جو الزامات لگاتے رہے،اس میں انہیں کہیں امریکی ایجنٹ کہا جاتا کبھی یہودی ایجنٹ(ان کے سابقہ سسرال کی وجہ سے)ان کی اہلیت کے حوالے سے،ان کی حکومت میں جاری میگا کربشن کے حوالے سے کیا کیا الزامات نہیں تھے،جو عمران پر نہیں لگائے گئے۔

مخالفین کی طرف سے لگائے الزامات کی فہرست یوں تو بہت طویل ہے لیکن امریکہ کے حوالے سے تسلسل کے ساتھ جو الزامات لگے،ان کی تفصیل کچھ یوں رہی کہ جب افغانستان سے نکلنے کے لیے اسلام آباد مانگا گیا،تو دے دیا گیا،جب امریکہ نے سی پیک کو رول بیک کرنے کا کہا تو کر دیا گیا،جب امریکہ نے سی پیک کی خفیہ دستاویزات آئی ایم ایف کو دکھانے کا بولا تو آئی ایم ایف کے حوالے کر دی گئی،جب امریکہ نے معیشت آئی ایم ایف کے حوالے کرنے کا کہا گیا تو معیشت آئی ایم ایف کے حوالے کر دی گئی،جب امریکہ نے اسٹیٹ بنک کو آئی ایم ایف کے حوالے کرنے کا کہا،تو آئین میں ترمیم کر کے حوالے کر دیا گیا، وزارت خزانہ ،ایف بی آر سٹیٹ بنک مکمل طور پر آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گئے،

جب امریکہ نے شکورے قادیانی کو مانگا تو راتوں رات اس کو امریکہ پہنچا دیا گیا، جب عیسائی آقاؤں نے آسیہ بیبی کو مانگا تو دن رات ایک کرکے آسیہ کو آقاؤں کے حضور پیش کردیا گیا،جب امریکہ بہادر نے حکم دیا تو کشمیر مودی کی جھولی میں ڈال دیا گیا، جب امریکہ بہادر نے کہا تو ابھی نندن چوبیس گھنٹے کے اندر اندر باعزت طریقے سے بھارت کے حوالے کر دیا گیا،جب امریکہ نے کہا کلبھوشن کی رہائی کے لیے قوانین تبدیل کر کے راہ ہموار کر دی گئی،اور اس کے بعد طنزیہ رائے کہ ایسے فرمانبردار بغل بچے کے خلاف امریکہ سازش کرے گا؟یہ سارے الزامات اور رائے سوشل میڈیا پر مسلسل پھیلائے جا رہے تھے ؍ہیں اور یہ پوچھا جا رہا ہے بلکہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کلیتاً پاکستانی سیاستدانوں کی جہد مسلسل اور اندرونی کاوش ہے ،اگر اس تاویل کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر اس کا امکان اور توقع رکھنی چاہیے کہ موجودہ حکومت ان تمام اقدامات سے دو قدم آگے جا کر ہی امریکی خدمات سرانجام دے گی کہ بھکاری تو کبھی اپنی مرضی کے تابع نہیں رہتے اوریہ بات بھی موجودہ وزیراعظم شہباز شریف خود کہہ چکے ہیں۔

بہرکیف اس مؤقف کو موجودہ حکومت نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ سازش کا لفظ کہیں نہیں ہے البتہ اسی پریس کانفرنس میں جنرل بابر افتخار نے سکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ کے منٹس میں مداخلت کا اعتراف کیا۔ جنرل بابر افتخار کی اس پریس کانفرنس سے قبل تک موجودہ حکومت ایسے کسی بھی منٹس سے انکاری تھی لیکن جنرل بابر افتخار کی اس پریس کانفرنس نے کم از کم ان منٹس پر مہر تصدیق ثبت کردی اس پریس کانفرنس کے پس منظر میں موجودہ حکومت مداخلت کی یہ تشریح کرتی نظر آتی ہے کہ مداخلت کسی بھی صورت سازش نہیں ہوتی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مداخلت کسی بھی پلاننگ(سازش)کا اگلا عملی مرحلہ ہی ہوتا ہے۔یہ معاملہ تو خیر اب جاری رہے گا جب تک کہ ان منٹس(لیٹر گیٹ)کی غیر جانبدارانہ طور پر تفتیش نہیں ہو جاتی،جو بنیادی طور پر عدالت عظمی ،ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا فیصلہ کرتے وقت اسے دیکھ لیتی،وہ وقت تو اب گذر چکااور اب موجودہ حکومت کی تفتیش کسی بھی صورت تحریک انصاف کو مطمئن نہیں کر سکتی۔

بہرکیف اقتدار کے تقسیم کاروں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ عوام؍جمہور اس طریقے سے باہر نکل آئے گی،عمران خان اس لحاظ سے انتہائی خوش قسمت ہیں کہ ستر کی دہائی میں یہی امریکہ تھا کہ جب اس نے پاکستان میں بھٹو حکومت کو گرایا تھا لیکن بدقسمتی سے محدود و کنٹرول میڈیا و سوشل میڈیا کی عدم موجودگی کے باوجود بڑی تعداد میں عوام سڑکوں پر آنے کے باوجود ،بھٹو کو عدالتی قتل کی بھینٹ چڑھا کر پاکستان کے بیش قیمت دماغ کو ہٹا دیا،جبکہ عمران کی حمایت میں نکلنے والے عوام کی خبر منٹوں سیکنڈوں میں دنیا کے دوسرے کونے تک پہنچ رہی ہے اور ان طاقتوں کے لیے حقائق کو چھپانا تو دور کی بات نظر انداز کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔عمران خان کے لیے یہ تحریک عدم اعتماد غیر متوقع طور پر نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی کہ اس تحریک سے پہلے تک تو آثار ایسے تھے کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن،عمران خان کی پکار کے باوجود کارکن ڈی چوک میں اتنی تعداد میں نہیں آئے کہ عمران خان ان سے خطاب ہی کر پاتے لیکن تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونے تک کے مراحل نے عمران خان اور تحریک انصاف امرت دھارا فراہم کردیااور عمران خان کی ختم ہوتی ہوئی مقبولیت ہوا کے دوش پر انتہائی بلندیوں کو چھونے لگی۔جو مراحل اس عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب کرنے کے دوران نظرآئے،ان مراحل نے عمران کے مؤقف کو تقویت دی کہ عمرانی حکومت کی بیدخلی میں غیر ملکی مداخلت ہے ،جس کے زیر اثر ادارے اور بالخصوص عدالت عظمی کا اس رات غیر معمولی جارحانہ رویہ قابل ذکر ہے،جس نے عوام کو عمران کے حق میں متحرک کیا۔

یا یوں کہنا چاہئے کہ پاکستان کی خودمختاری کے حق میں عوام سڑکوں پر آئے اور عمران کو خودمختاری کا محافظ مان لیا۔ ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر کسی ریاست کے متعلق فیصلے کرنا انتہائی آسان ٹاسک تو ہو سکتا ہے لیکن یہ قطعی ضروری نہیں کہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر کسی ریاست کی عوام سے متعلق کئے گئے فیصلے ہو بہو فیصلہ کرنے والوں کے تخیل ،اس تصویر پر پورا اتریںجس کا عکس انہوں نے کشید کر رکھا ہو۔امریکہ و مقتدر حلقوں نے بھی یہی سوچ رکھا تھا کہ جس طرح گذشتہ کئی دہائیوں سے اس ملک میں اقتدار کا کھیل میوزیکل چیئر کی طرح کھیلا جا رہا ہے ،جس طرح سیاسی قیادتیں بلا چون و چرا ان کے منصوبوں پر آمنا و صدقنا کرتی آئی ہیں اور جس طرح عوام ان سب باتوں سے لاتعلق انہی سیاسی قیادتوں کے پیچھے سر چھکائے چلتی رہتی ہے،رجیم چینج کی یہ چال بھی ویسے ہی کامیاب ہو جائے گی اور ملک کے کسی بھی حصے میں کوئی طوفان نہیں اٹھے گا۔

اس پس منظر میں جب عوام نے صرف یہ محسوس نہیں کیا بلکہ اس پر قائل ہوئی کہ اس مرتبہ پس پردہ قوتوں میں عالمی طاقتیں بھی ہیں،وہ ازخود سڑکوں پر نکل آئی اور جو پلے کارڈ عوام نے اٹھا رکھے ہیں،وہ انتہائی حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ خوشگوار حیرت بھی لئے ہوئے ہیں،ان پلے کارڈز پر جو تحریر یں ہیں،وہ ملاحظہ ہوں،ایک شخص کے ہاتھ میں اٹھائے پلے کارڈ پر لکھا ہے کہ رات کے بارہ بجے ہیں،بھو ک لگی ہے،کچھ کھلا ہو گا؟ہاں! عدالت عظمی،دوسرے پر لکھا ہے کہ جب ڈالر آتا ہے تو عدم اعتماد آتا ہے اور جب زیادہ ڈالر آتا ہے تو رات بارہ بجے سپریم کورٹ کھل جاتا ہے،تیسرے ایک بچے کے ہاتھ میں ہے جس پر لکھا ہے کہ جج انکل!سنڈے کو تو سکول بھی بند ہوتا ہے،امپورٹڈ حکومت نا منظورسیاست اور سیاستدانوں کے کردار کے حوالے سب سے زیادہ متعلقہ پلے کارڈ پر لکھا تھا غیرت مند تھا تو واپس عوام میں آیا،بے غیرت ہوتا تو لندن بھاگ جاتا،اس تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے یہ عوامی جذبات ہیں،جو اس وقت ایک ریلے کی صورت عمران کے ہمرکاب ہیں۔ قطع نظر اس حقیقت کہ عمران کی اپنی حکومت کوئی بہت قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائی اور کسی بھی طرح اس کو ایک مثالی حکومت نہیں کہا جا سکتا لیکن اس حکومت کی تبدیلی میں شامل بیرونی و اندرونی مداخلت نے اس کو نئی زندگی دے دی ہے۔موجودہ حکومت اب اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح تحریک انصاف کو فارن فنڈنگ کیس کی بنیاد پر نااہل قرار دلوایا جا سکے تاکہ عام انتخابات میں اس دردسر سے نجات ملے اور دوسری طرف جو توشہ خانہ کے ضمن میں ہونیوالی غیر اخلاقی حرکت کی بنیاد پر عمران خان کے خلاف مقدمہ بنایا جائے۔

توشہ خانہ سے دوسری ریاستوں سے ملنے والے بیش قیمت تحائف کو کم قیمت پر خریدنا،سربراہ مملکت کا حق قانون نے دے رکھا ہے اور افسوس اس بات پر ہے کہ اس مار دھاڑ پر کسی بھی سربراہ مملکت نے اس گھٹیا قانون کو ختم کیا اور نہ ہی کسی عدالت میں اس ضمن میں کوئی مقدمہ پیش ہوا کہ عدالت اس قانون کو آئین پاکستان کے خلاف قرار دے کر ختم کرتی،معلوم نہیں کہ یہ از خود نوٹس کے ضمن میں آتا ہے یا نہیں۔ بقول عمران خان کے انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا البتہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ گھڑی بیچ کر انہوں نے اس رقم سے بنی گالا کی سڑک بنوائی اور باڑ لگوائی ہے(میڈیا میں کم ازکم یہی چرچہ ہے)۔ رہی بات فارن فنڈنگ کیس کی تو اس حوالے سے مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارتی اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کر دی ہیں جو اگر صحیح ثابت ہوتی ہیں تو یقینی طور پر تحریک انصاف پر پابندی لگنے کا امکان ہے۔

دوسری طرف اداروں کی طرف سے پشتون تحفظ موومنٹ کے محسن داوڑ کے حوالے سے انکشافات مع ثبوت و ٹھوس شواہدریکارڈ پر ہیں کہ انہیں فارن فنڈنگ کی گئی ہے،اگر اس کو بھی حقیقت تسلیم کیا جائے (جس کو تسلیم نہ کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ بھی نہیں)تو پھروہ کیسے اور کس طرح اسمبلی کا حصہ ہیں؟جبکہ موجودہ حکومت کی برتری ان دو اراکین کی بدولت ہی ہے۔بہرکیف ان سب معاملات سے پردہ اٹھنا چاہئے اور جو بھی غیر قانونی دھندوں میں ملوث ہے،اسے نہ صرف طشت ازبام ہونا چاہئیبلکہ قرار واقعی سزا بھی ملنی چاہئے۔

عمران خان نے کراچی جلسے میں جو سوالات اٹھائے،وہ اپنی جگہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کہ جب وہ وزیر اعظم تھے تو امریکہ نے کس کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی پر نتائج بھگتنے کا کہا؟دوسرا سوال بھی اپنی جگہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ صدارتی ریفرنس کے حوالے سے عدالت عظمی نے جواب دیا کہ جب تک جرم ہو نہیں جاتاوہ کوئی ایکشن نہیں لے سکتی لیکن عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ اور جنرل باجوہ کی معزول ہونے کے جرم سرزد ہونے سے پہلے عدالتیں کیوں کھلی؟تیسری بات عمران خان نے امریکہ و دیگر عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کی کہ وہ سب کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں اور کسی بھی صورت پرائی آگ میں کودنے سے گریز کریں گے۔ پاکستان یا پاکستانیوں کو کسی دوسری ریاست کے مفادات کے تحفظ کی خاطر جلائی گئی آگ کا ایندھن نہیں بنائیں گے اور ہر صورت پاکستان کے مفادات کا تحفظ کریں گے،جو میرے نزدیک ہو سب پاکستانیوں کو عملا کرنا چاہئے۔تعلقات اور ملکی مفادات کے حوالے سے عمران خان نے یقینا ان تمام باتوں پر عمل درآمد کیا ہے کہ جس کا ذکر ابتداء میں ایک فہرست کی صورت کیا جا چکا ہے لیکن اس کے ساتھ اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ متوازی طور پر عمران خان کی حکومت نے ان بنیادوں کو مضبوط بنانے کے بھرپور کوشش کی ہے کہ کسی طرح نہ صرف پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہو سکے بلکہ پاکستان عالمی برادری میں کھویا ہوا مقام بھی حاصل کر سکے،اور شنید یہی ہے کہ اس کے ثمرات آنے والے دو تین سالوں میں واضح ہونے والے تھے۔دورہ روس کو بھی عمران خان کی حکومت گرنے میں ایک بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے کہ ایسے وقت میں جب روس نے یوکرائن پر حملہ کیا عین اس وقت عمران روس میں موجود،ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے سستے تیل کی خریداری پر بات چیت کر رہے تھے،یہ بھی شنید ہے کہ دورہ روس پر تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہی یہ دورہ کیا گیا تھا۔ اس دورہ کی دوسری وجہ بھارت کا روس کے ساتھ سستے تیل کی خریداری بھی تھا کہ بھارت تو روس سے اپنی ملکی ضروریات پورا کرنے کے لئے سستا تیل خرید سکتا ہے لیکن پاکستان اور پاکستانی وزیر اعظم کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑاہے۔

اس پس منظر میں عمران خان کا اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ کسی بھی دوسری ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ’’سازش‘‘یا مقامی اشرافیہ کو ’’خرید‘‘کر حکومت گرائے کہ اس عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان ایک غلام ملک ہے اور میں عمران خان بطور پاکستانی اس کو قبول نہیں کرسکتا۔ مکرر عرض ہے کہ اگر عمران خان تمام تر بیرونی دباؤ کو قبول کرکے ،ان کی شرائط تسلیم کر رہا تھا تو امریکہ کو اس سے زیادہ کیا چاہئے تھایا کیا نئی حکومت ان تمام تر شرائط سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر امریکی خواہشات و مفادات کی تکمیل کرے گی؟موجودہ صورتحال میں امریکی خواہش و مفاد صرف اور صرف ایک نظر آ رہا ہے کہ وہ کسی طرح چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو روک سکے،جس کے لئے وہ ہر جتن کر رہا ہے۔ان اقدامات کے بعد،اور آخری گیند کھیلنے تک،واقفان حال کہتے ہیں کہابھی دو تین گیندیں باقی تھی،جو پذیرائی عمران خان کو عوام کی طرف سے ملی ہے،کون ہو گاجو اس پذیرائی کو اپنے مؤقف کی سچائی کو ثابت کرنے سے پیچھے ہٹے گا،جبکہ مقابل عمران خان ہے،جو کہتا ہے کہ ہارتا وہ ہے جو ہار مان لے۔یہ تو چند حقائق ہیں جو اس وقت پوری قوم کو ازبر ہیں اور ان سے کئی گنا زیادہ حقائق یقینا عمران خان کے سینے میں دبے ہوں گے،جو وہ کھلے عام بیان نہ بھی کرے ،تب بھی اشاروں کنایوں میں سامنے لاتا رہے گا۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ عمران اس وقت گلے کی ہڈی بن چکا ہے اور اس سے جان چھڑانے کے لئے تواتر کے ساتھ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد سے میٹنگز ہو رہی ہیں اور ایسی ہی ایک میٹنگ ایکس سروس مین کے ساتھ بھی ہوئی ہے اور اس میں عام انتخابات کی بات بھی سنی گئی ہے۔یہاں تک بھی سنا گیا ہے کہ اگر صاف شفاف عام انتخابات میں عمران خان دوبارہ منتخب ہوتا ہے تو اسے تسلیم کر لیا جائے گا،اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں میڈیا میں رپورٹ ہوئی ہیں اور اوپر بیان کی گئی باتوں کی تردید کی بجائے انہیں میڈیا سے ہٹا دیا گیا ہے،دیکھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں کیا رونما ہوتا ہے کہ پاکستان میں اگر ن لیگ کو دوبارہ حکومت مل سکتی ہے تو پھر کچھ بھی ممکن ہے۔ گو کہ شہباز شریف کے حوالے سے ہمیشہ یہ بات سنی جاتی رہی ہے کہ مقتدرہ کو ان پر کوئی اعتراض نہیں لیکن سب کو علم ہے کہ شہباز شریف نے کبھی بھی نواز شریف کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا اور آج بھی حکومت کے پس منظر میں نواز شریف موجود ہیں۔موجودہ عوامی لہر میں اگر تحریک انصاف کو ناہل قرار نہیں دیا جاتاتو دو باتیں نوشتہ دیوار نظر آ رہی ہیں کہ اگر انتخابات ہو صاف شفاف ہو جاتے ہیں تو عمران خان بھاری اکثریت سے واپس حکومت میں آ جائے گا اور دوسری موجودہ حکومت کا گھرجانا نوشتہ دیوار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button