Editorial

عوام اور فوج میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاہے کہ فوج کی طاقت عوام ہیں، عوام اور فوج میں غلط فہمیاں، دوریاں اور خلیج پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا، غلط معلومات اور پروپیگنڈے سے ریاستی سالمیت کو خطرہ ہوتا ہے، قیاس آرائیوں اور افواہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بروقت ردعمل کی ضرورت ہوتی ہے، دشمن قوتیں طویل عرصے سے فوج اور عوام میں پھوٹ ڈالنے کی کوششیں کر رہی ہیں مگر کامیاب نہیں ہوں گے،زیر حراست ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور گیریژن کا دورہ کیا۔ سی ایم ایچ لاہور میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بننے والے میجر حارث کی عیادت کی اور بعدازاں گیریژن آفیسرز اور سابق فوجیوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ حالیہ کئی دنوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے پاک فوج اور عوام کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اگرچہ اب کافی حد تک اِس پروپیگنڈے میں کمی آچکی ہے لیکن مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوا۔
یہ سلسلہ حالیہ دنوں میں کس موقعے پر شروع ہوا اور اِس کے کیا محرکات تھے یہ تمام باتیں ہم سبھی کو ازبر ہوچکی ہیں۔ اول تو ہماری سیاسی قیادت کو دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِس پروپیگنڈے کو شروع ہونے ہی نہیں دینا چاہیے تھا یا پھر فی الفور اس کے آگے بندھ باندھ دیا جاتا مگر بہت زیادہ تاخیر
ہوجانے کی وجہ سے یہ معاملہ اتنا بگڑ گیا کہ اس کے اثرات واضح طور پر محسوس ہونے لگے اور چند روز قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ میں واضح طور پر کہا تھا کہ پروپیگنڈے کے ذریعے اداروں کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے،
ڈس انفارمیشن سے فوج کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،محفوظ رہنے کے لیے ہمیں مربوط اقدامات کرنے پڑیں گے، عوام کی حمایت فو ج کے لیے ضروری ہے، آرمی چیف جس طرف دیکھتے ہیں 7 لاکھ افواج اسی جانب دیکھتی ہیں، فوج اتحاد کے تحت کام کرتی ہے، فو ج کے خلاف منفی مہم کا حصہ نہ بنا جائے، فوج کے خلاف پروپیگنڈے کی سازش میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہے۔یوں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جو کام ہمیشہ سے ہمارا دشمن سرحد پار بیٹھ کر کرتا آیا ہے اِس بار ہماری اپنی نہ سمجھی کی وجہ سے ہم خود شروع کربیٹھے اور پھر دشمن نے اِس مہم کو خوب خوب آگے بڑھایا اور خرابی اِس حد تک ہوگئی کہ کور کمانڈرز، ترجمان پاک فوج اور خود آرمی چیف کو اِس معاملے پربولنا پڑ گیا ہے۔
سوشل میڈیا کو جہاں ہم اظہار رائے کا بڑا ذریعہ قراردیتے ہوئے اِس کی آزادی مانگتے ہیں تو وہیں ہم سوشل میڈیا کے ذریعے ڈس انفارمیشن اور پروپیگنڈا پھیلانے کو بھی غلط سمجھتے ہیں جیسا کہ حالیہ دنوں میں دیکھنے میں بھی آیا۔ بسا اوقات ہم نہیں سمجھتے لیکن ہماری نادانی کا ملک دشمن کتنا زیادہ فائدہ اٹھالیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قومی سلامتی کا ضامن ادارہ اِس معاملے پر بار بار توجہ مبذول کروارہا ہے اِس کا تو مطلب یہی ہے کہ پروپیگنڈا ابھی ختم نہیں ہوا ۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سی ایم ایچ لاہور میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بننے والے میجر حارث کی عیادت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ قانون اپنا راستہ بنائے گا، واقعے کے ذمہ داران گرفتار کرلیے گئے ہیں، انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، کسی کوقانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
میجر حارث کے ساتھ چند روز پہلے ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا اگرچہ اب ملوث افراد قانون کے شکنجے میں آچکے ہیں مگر اِس معاملے کو بھی اُس پروپیگنڈے سے جوڑ کر من گھڑت باتیں بنائی جارہی ہیں یوں یہ پورا ہی عمل تکلیف دہ اور ناقابل برداشت ہے اگرچہ قومی سلامتی کے ضامن اداروں کے پاس سوشل میڈیا مہم سے متعلق بہت ساری معلومات آچکی ہیں لیکن اِس کے باوجود ادارہ چاہتا ہے کہ سوشل میڈیا کے لیے موجود قوانین کے مطابق اُن کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے اور ڈی جی آئی ایس پی آر واضح طور پر کہہ بھی چکے ہیں کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی اِس مہم میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے اور ہماری فوج ڈس انفارمیشن مہم کا بہت بڑا ٹارگٹ ہے اِس لیے سوسائٹی کو سوشل میڈیاکے اثرات سے بچانے کے لیے بہت مربوط اقدامات کرنا ہوں گے اور پھر بطور ذمہ دار پاکستانی ہم سب کا اتفاق ہونا چاہیے کہ جمہوریت اور اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی اور سب اداروں کا آئین کے دائرہ کار میں رہنا ہی ملکی مفاد میں ہے
یہی وجہ ہے کہ پاک فوج نے متعدد بار واضح کیا ہے کہ ملکی سیاست میں اُن کا کوئی عمل دخل نہیں اوراُنہیں سیاست میں مت گھسیٹیں ، سیاسی معاملات سے باہر ہی رکھا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اِس معاملے پر ہماری سیاسی قیادت کو ایک پیج پر آکر کوئی ایسا لائحہ عمل مرتب کرنا چاہیے تاکہ آئندہ قومی سلامتی کے ادارے ایسے پروپیگنڈے کی زد میں آنے سے محفوظ رہیں اور ملک دشمن بھی اِس معاملے کو عالمی سطح پر اُچھالنے میں کامیاب نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button