Column

دوہرا معیار …. امتیاز عاصی

امتیاز عاصی

سابق وزیراعظم عمران خان اقتدار سے ہٹنے کے بعد عوام کی عدالت میں جا پہنچے ہیں۔آج کل وہ بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں۔کے پی کے اور کراچی کے جلسوں میں عوام کی بہت بڑی تعداد کی شرکت نے عوام میں عمران خان کی مقبولیت پر مہر ثبت کر دی ہے ۔بقول  ان کے امریکی سازش کے تحت انہیں وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا ہے۔ان کے جلسوں میں زیادہ تر تعداد نوجوانوں اور خواتین کی ہوتی ہے جو اس امر کی غماز ہے عوام ان سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔عمران خان نے واضح اعلان کیا ہے کہ نئے انتخابات کا اعلان نہ ہوا تو وہ عوام کو سٹرکوں پر لے آئیں گے۔جس طرح عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے عدالت عظمیٰ کو رات کی تاریکی میں کھولا گیا ہے اسی سبک رفتاری سے الیکشن کمیشن نے عمران خان کی جماعت کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔انصاف کا تقاضا تو یہی تھاتمام سیاسی پارٹیوں کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت کی جاتی ۔صر ف ایک پارٹی کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت سے الیکشن کمیشن کا دوہرا معیار سامنے آنے کے بعد اس بارے قطعیت کے ساتھ تو کچھ نہیں کہا جا سکتاکہ  الیکشن کمیشن کا فیصلہ عمران خان کے خلاف آئے گا البتہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان کو منصفی کے لیے  عدالت عظمیٰ جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔تحریک انصاف کے چیئرمین نے اقتدار سے محرومی کے بعد عوام کے دلوں میں اپنے لیے پہلے سے زیادہ جگہ بنالی ہے۔ان کے ناقدین کو ابھی تک ان کے خلاف ماسوائے توشہ خانہ کی گھڑی فروخت کے سوا کچھ نہیں ملا ۔میا ں شہباز شریف کی حکومت ان کے خلاف اس معاملے کو اچھالنے کے سوا کوئی ریفرنس تو دائر کرنہیں سکتی۔ان کی جماعت کے ایک سو چوبیس اراکین نے ان کے ساتھ اپنی نشستوں سے استعفیٰ دے کر عمران خان کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔

اگرچہ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری ان کے استعفے منظور کر چکے تھے اس کے باوجود نئے اسپیکر راجا پرویز اشرف نے مستعفی ارکان کے استعفوں کا از سرنوجائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کے بعض ارکان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین سے استعفیٰ دبائو میں لیے گئے ۔پی ٹی آئی کے مستعفی ارکان کے استعفوں کا ازسر نو جائزے کا مقصد نئے اسپیکر غالباً مستعفی ارکان سے فرداً فرداً ان کے استعفوں کے بارے میں دریافت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیںجس کے بعد امکان ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کے مستعفی ارکان کو اپوزیشن بنچوں پر بٹھانے کے لیے کوشاں ہے۔ وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ نون اقتدار پر براجمان ہو چکی ہے۔عوام حیران ہیں کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے خلاف احتساب عدالت میں فرد جرم لگنا تھی اب منی لانڈرنگ کیس کا کیا بنے گا؟اس صورت حال میں عدلیہ کا بھی امتحان ہے، کیا عدالت وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے خلاف مقدمہ کی سماعت کرکے فیصلہ کرے گی۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سے محرومی سے قبل کہا تھا اگر وہ اقتدار سے قبل از وقت محروم کر دیئے گئے تو وہ زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔دیکھا جائے تو ہمارا ملک اس وقت کسی قسم کی افراتفرای کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ملک کے معاشی حالات پہلے ہی خراب ہیں۔عمران خان  اپنے دور میں اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بحال کرکے ریکارڈ زرمبادلہ ملک میں لانے میں کامیاب ہوئے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ بیرون ملک ہم وطن ان پر اعتماد کرتے ہیں۔اگرچہ وہ ماسوائے سعودی عرب اور چین کے کسی ملک سے قرض لینے میں کامیاب تو نہیں ہو سکے مگر ہم وطنوں سے ان پر بھرپور اعتماد کرکے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ضرور کیا ہے۔شریف خاندان کے سعودی عرب اور قطر کے ساتھ بڑے قریبی روابط ہیں جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ میاں شہباز شریف ان ملکوں سے امداد لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ میاں شہباز شریف کو ملکی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے ان ملکوں سے ذاتی تعلقات کو ضرور بروئے کار لانا چاہیے ۔سابق وزیراعظم نے اب ہم وطنوں سے پارٹی فنڈ دینے
کی اپیل کی ہے جس کا مثبت ردعمل سامنے آرہا ہے ۔
اوورسیز پاکستانی ان کی اپیل پر ہر صورت لبیک کہیں گے۔افسوناک پہلو یہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت ناکامیوں کا ملبہ جانے والی حکومت پر ڈال دیتی ہے جیسا کہ اب موجودہ حکومت لوڈشیڈنگ کا ملبہ عمران خان کی حکومت پر ڈال کر سرخرو ہو گئی ہے ۔متحدہ اپوزیشن خصوصاً پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری نے وزارت اعظمیٰ مسلم لیگ نون کو دے کر آنے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔ موجودہ حکومت سے عوام کے مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں ناکامی مسلم لیگ نون کے کھاتے میں جائے گی۔مسلم لیگ نون تو پہلے بھی نئے انتخابات کے انعقاد کے لیے کوشاں تھی۔ اقتدار میں آنے کے بعد ہوسکتا ہے کہ ان کی ترجیحات بدل گئی ہوں البتہ ایک بات ضرور ہے کہ حکومت کو آئندہ چھ ماہ میں ہر صورت میں انتخابات کرانا ہوں گے۔
تحریک انصاف کو اقتدار سے محروم کرکے اپوزیشن نے سیاسی شہید بنا دیا ہے۔ملک کے تمام حلقے بخوبی واقف ہیں کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سے ہٹنے کے بعد عوام کے دلوں میں پہلے سے زیادہ جگہ بنا لی ہے۔ان کے دور کی مہنگائی عوام بھول چکے ہیں۔موجودہ حکومت کے لیے مہنگائی کنٹرول کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔موجودہ حکومت کو جہاں معاشی مسائل کا سامنا ہے وہاں مخلوط حکومت کو اور بھی بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔حکومت میں شامل جماعتوں کے اپنے اپنے مفادات کی روشنی میں یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ حکومت کو نئے انتخابات کو بہت جلد اعلان کرنا پڑے گا ورنہ حکومت میں پڑنے والی دراڑوں کو پر کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
اب یہ حکومت پر منصر ہے وہ نئے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کب کرتی ہے ورنہ اسے اندرونی طور پر بہت سے مسائل کا سامنا ہوگا جن سے عہدہ برآ ہونا وزیراعظم شہباز شریف کے لیے بہت مشکل ہوگا۔ ہم چیف الیکشن کمیشن سے کہیں گے وہ تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی سماعت فوری طور پر شروع کرکے اپنی غیر جابنداری کا ثبوت دیں وگرنہ نئے انتخابات میں الیکشن کمیشن پر عوام کا اعتماد اٹھ جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button