تازہ ترینخبریںپاکستان سے

’جھولے‘ سے ملنے والی لاوارث بچی کی کامیابی کی کہانی

بارہ سو کے قریب لاوارث بچوں کو اپنی گود میں کِھلانے والی بلقیس ایدھی اب اس دنیا میں تو نہیں رہیں لیکن ان کی خدمات ان کے جانے کے بعد بھی مدتوں یاد رکھی جائیں گی ۔

  28 برس قبل ’ایدھی‘ کے جھولے سے ملنے والی ننھی بچی نے بلقیس ایدھی کی وفات پر اپنی کہانی سوشل میڈیا پر جاری کی ہے جسے پڑھنے والوں نے افسردہ کردیا ہے۔

یہ کہانی ہے 28  سالہ رابعہ بانو کی جسے بدقسمت والدین آج سے 28 برس قبل ’ایدھی‘ کے جھولے میں ڈال گئے تھے۔

ایدھی ہوم میں پرورش پانے والی رابعہ بانو آج دنیا کی نمبر ون شو کمپنی ’NIKE‘ میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں ، اور ملک کا نام عالمی سطح پر روشن کررہی ہیں۔

بلقیس ایدھی کے انتقال پر رابعہ بانو نے انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنی تمام تر کامیابیوں کا کریڈٹ انہیں ہی دیا۔

رابعہ بانو امریکا میں ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس، یو ایس کانگریس، یو ایس سینیٹ میں انٹرن شپ بھی کرچکی ہیں۔انہوں نے سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی لاء میں تعلیم حاصل کی۔

رابعہ بانو کی لنکڈ ان پوسٹ یہاں پڑھیں:

اٹھائیس سال پہلے مجھے کراچی، پاکستان میں واقع ایدھی ہوم میں لاوارث بچوں کے جھولے میں چھوڑ دیا گیا تھا، آپ (بلقیس ایدھی) نے مجھے پایا، آپ نے میرا نام اپنی والدہ رابعہ بانو کے نام پر رکھا،مجھے شناخت دی، پھر آپ نے مجھے گھر دیا۔ آپ کی وجہ سے آج… میں ’کچھ‘ ہوں، میری ایک پہچان ہے، اور میرے پاس پیار کرنے والے والدین ہیں کہ وہ مجھے اپنا کہلوائیں۔

آپ (بلقیس ایدھی) نے خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کی، آپ ایک سرگرم کارکن، انسان دوست، نیک مقصد کے لیے پُرعزم تھیں۔ آپ نے مجھے عورت کی طاقت سکھائی، خود دار اور خود اعتمادی کا سبق دیا اور غیر معمولی طور پر کسی مقصد کو حاصل کرنے کا سبق بھی میں نے آپ سے ہی سیکھا۔

آپ کی وجہ سے ہی پیدائش کے وقت سے یتیم ایک ننھی پاکستانی بچی نے خواب دیکھنے کی ہمت کی، آپ کی وجہ سے میں گریجویٹ سطح کی تعلیم کے ساتھ ایک خودمختار عورت ہوں اور دنیا میں ایک ایسے مقام پر ہوں کہ کہ آج کسی کے سامنے اپنا تعارف اعتماد سے کرواسکوں، آپ نے مجھے موقع دیا، آپ نے مجھے خواب دیکھنے کا موقع دیا، اور آپ نے ہی مجھے آزادی سے سے جینا سکھایا۔

دنیا کے لیے آپ بلقیس ایدھی ہیں، لیکن میرے لیے آپ بڑی اماں ہیں، آپ کی بدولت میرے پاس دو پیار کرنے والے والدین ہیں جنہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ میرے پاس وہ سب کچھ ہو جس کی میں کبھی خواہش رکھتی تھی۔

 میں ایک اعلیٰ ہائی اسکول گئی، پورے کالج میں اسکالرشپ حاصل کی،  برونکس ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس، یو ایس کانگریس، یو ایس سینیٹ میں انٹرن شپ کی اور سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پرائیویسی لاء میں ماسٹرز کرنے کے لیے لاء اسکول گئی اور ان تمام کامیابیوں کی وجہ صرف آپ ہیں۔

انہوں نے دنیا بھر میں پڑھنے والے لوگوں کو اپنی پوسٹ میں ہی بلقیس ایدھی کا تعارف بھی کروایا۔

آپ میں سے ان لوگوں کے لیے جو پہلی بار بلقیس ایدھی کے بارے میں پڑھ رہے ہیں،  میں چاہتی ہوں کہ آپ جانیں کہ وہ میرے لیے اور پورے پاکستان کے لیے کون تھیں۔ بلقیس ایدھی ایک ہیرو تھیں، وہ بہت سارے یتیموں (میری طرح) کی ماں اور انسانیت کے لیے پاور ہاؤس تھیں۔

بڑےابو (عبدالستار ایدھی) کو کھونا مشکل تھا، لیکن آپ کے کھونے نے مجھے آج پھر سے یتیم ہونے کا احساس دلایا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button