تازہ ترینخبریںپاکستان سے

27پاور پلانٹس کی خرابی کے باعث ملک بھر میں لوڈشیڈنگ، وزیراعظم کا ناراضگی کا اظہار

وزیر اعظم شہباز شریف کو جمعرات کو بتایا گیا کہ 7 ہزار میگاواٹ سے زائد کی مشترکہ پیداواری صلاحیت کے حامل 27 پاور پلانٹس تکنیکی مسائل یا ایندھن کی قلت کے باعث ایسے وقت میں کام کرنے سے قاصر ہیں جب ملک بھر میں شہریوں کو بجلی کی بندش کا سامنا ہے۔

وزارت توانائی نے بریفنگ کے دوران ان پاور پلانٹس کی فہرست پیش کی اور ایندھن کے انتظامات کے حوالے سے درست سمت متعین نہ ہونے اور سیاسی حمایت کی کمی کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

یہ وضاحت کی گئی کہ 3ہزار 535 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت کے نو بڑے پاور پلانٹس ایندھن کی قلت کی وجہ سے کام نہیں کر رہے، ان میں چار پلانٹس ایسے شامل ہیں جو ایل این جی کی کمی کی وجہ سے بند پڑے ہیں، دو فرنس آئل کی قلت کی وجہ سے، ایک کم کوئلے کی انوینٹری کے سبب اور دوسرا گیس سپلائی کے معاہدے کی معیاد ختم ہونے کی وجہ سے بند ہے۔

اس کے علاوہ 18 دیگر پلانٹس تکنیکی خرابیوں اور مرمت اور دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے کافی عرصے سے دستیاب نہیں تھے۔

ماضی میں وزارت پیٹرولیم کے قلمدان کو سنبھالنے والے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بریفنگ کے دوران نشاندہی کی کہ وزارت توانائی کے پیٹرولیم اور پاور ڈویژن کے درمیان ہم آہنگی کا مکمل فقدان ہے اور الزام تراشی میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر شروع میں ہی حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ پاور ڈویژن فوری طور پر اپنی ڈیمانڈ کی پیش گوئی کے ساتھ سامنے آئے تاکہ یہ دیکھا جائے کہ پیٹرولیم ڈویژن کی مشاورت سے فوری طور پر کیا کیا جا سکتا ہے اور اس طرح کی منصوبہ بندی اور انتظامات کے لیے ایک طریقہ کار کے ساتھ اس پر عمل کرنا چاہیے۔

وزیر اعظم شریف نے شاہد خاقان عباسی سے درخواست کی کہ وہ اپنا وقت اور مہارت رضاکارانہ طور پر دیں اور اس سلسلے میں دونوں ڈویژنوں کو مشورہ دیں کیونکہ یہ ایک سنگین مسئلہ معلوم ہوتا ہے اور اس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اجلاس میں شرکت کرنے والے ایک ذریعے نے بتایا کہ وزارت توانائی کی بریفنگ ماضی کے سیاسی رہنماؤں کے خلاف چارج شیٹ لگتی ہے کیونکہ یہ وضاحت کی گئی تھی کہ بجلی کی کوئی قلت نہیں ہوگی لیکن ایندھن اور تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے پلانٹس بند کردیے گئے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پچھلی حکومت نے تکنیکی خرابیوں کو دور کرنے یا مرمت کے لیے اسپیئر پارٹس کا بندوبست کرنے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے اور نہ ہی مناسب دیکھ بھال کے طریقہ کار پر عمل کیا گیا، زیادہ تر خرابیاں انتظامی نوعیت کی تھیں لیکن کچھ میں پالیسی کے مسائل بھی شامل تھے۔

وزیراعظم نے مجموعی صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا اور افسوس کا اظہار کیا کہ شہریوں کو ملک بھر میں گھنٹوں طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پاور پلانٹس کسی نہ کسی وجہ سے بند کر دیے گئے حالانکہ ان مشکل وقتوں میں انہیں بجلی کی پیداوار کے لیے دستیاب ہونا چاہیے تھا۔

وزیراعظم نے پاور ڈویژن اور متعلقہ کمپنیوں کو ان چیلنجوں سے فوری نمٹنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی غفلت ناقابل قبول ہے، انہوں نے پاور ڈویژن کو کہا کہ ہم رمضان کے مقدس مہینے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے ایسی صورت حال کو برداشت نہیں کر سکتے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم اگلے دو دنوں میں ایندھن اور بجلی فراہم کرنے والوں اور پروڈیوسرز کے سیشنز کا ایک سلسلہ منعقد کریں گے۔

ایک پریزنٹیشن کے مطابق 210 میگاواٹ کا لبرٹی پاور پلانٹ 18 دسمبر سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی جانب سے گردشی قرضوں میں پھنسے ہوئے فنڈز کی عدم ادائیگیوں کی وجہ سے گیس کی سپلائی منقطع ہونے کی وجہ سے بند ہے۔

اس کے علاوہ 1200 میگاواٹ کی مشترکہ صلاحیت کے چار پلانٹس جن میں روش، نندی پور، فوجی کبیر والا اور گیس ٹربائن فیصل آباد شامل ہیں، ری گیسیفائیڈ ایل این جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے 13 دسمبر سے سسٹم سے باہر ہیں۔

اس کے علاوہ 120 میگاواٹ کا حبیب اللہ کوسٹل پاور پلانٹ بھی اکتوبر 2019 میں گیس معاہدے کی معیاد ختم ہونے کی وجہ سے کام نہیں کر رہا، اس کے علاوہ 550 میگاواٹ کے جامشورو اور 840 میگاواٹ کے مظفر گڑھ پلانٹس بھی فرنس آئل کی عدم دستیابی کے باعث 8 اپریل سے بند ہیں۔

بتایا گیا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پلانٹس کب تک سسٹم سے باہر رہیں گے۔

ساہیوال میں کوئلے سے چلنے والا 620 میگاواٹ کا پلانٹ 20 مارچ سے کوئلے کی کمی کی وجہ سے کام نہیں کر رہا لیکن توقع ہے کہ 20 اپریل تک دوبارہ کام کرنے لگ جائے گا۔

اس کے علاوہ 3ہزار 605 میگاواٹ کی مجموعی صلاحیت کے حامل 18 پلانٹس تکنیکی وجوہات کی بنا پر کام نہیں کررہے اور ان میں سے کچھ کو ناکارہ ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزشر چکا ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام خرابیوں کو دور کیا جائے اور فوری سسٹم میں شامل کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button