تازہ ترینخبریںپاکستان سے

نیب کے تمام عہدیداروں کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، ایاز صادق کا مطالبہ

مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے دور حکومت کے دوران کرپشن میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین سمیت تمام عملے کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالا جائے۔

پیپلزپارٹی کی نائب صدر شیری رحمٰن کے ہمراہ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے نیب پر اس وقت کی پی ٹی آئی حکومت کی غلط کاریوں سے آنکھیں چرانے اور ان کے حریفوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔

مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے بھی گزشتہ روز نیب کے خلاف اسی طرح کے خیال کا اظہار کیا تھا اور اپنی پارٹی کی نو منتخب حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ نیب کو تحلیل کر کے اس کے ملازمین کا احتساب کرے۔

آج ایک پریس کانفرنس میں ایاز صادق کا کہنا تھا کہ نیب کا یہ سمجھنا غلط تھا کہ اس کی اپنی تمام "بدکاریوں” کے باوجوداس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی، ہمیں ہمیشہ عمران خان اور نیب کے درمیان گٹھ جوڑ کا یقین تھا، اور یہ تعلق وقت کے ساتھ سچ ثابت ہوا۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ نیب کے تمام عہدیداروں کے عالی شان طرز زندگی کی تحقیقات کی جائیں۔

قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی کے اراکین کی جانب سے جمع کرائے گئے استعفوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایاز صادق نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کا اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کا ارادہ نہیں ہے اور وہ اس معاملے پر محض ایک جعلی تاثر پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ استعفیٰ جمع کرانے کا ایک مناسب طریقہ کار ہے جس میں اسپیکر کے سامے ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہوتا ہے، استعفے اس طرح نہیں دیے جاتے جس طرح پی ٹی آئی نے جمع کرائے ہیں، انہوں نے جان بوجھ کر مستعفی ہونے کےعمل کے قواعد سے گریز کیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم حکومت کا حصہ ہے اور ان کے ساتھ کیا گیا معاہدہ موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button