Column

امریکی دھمکی، کتنی حقیقت کتناا فسانہ …. عمران ریاض

عمران ریاض

گزشتہ سال جون، جولائی کے اندر عمران خان کی عوامی مقبولیت بہت حد تک کم ہوچکی تھی۔ وجہ صرف ایک تھی مہنگائی، بلاشبہ اس بات کا ادراک عمران خان کو بھی ہوگیا تھا اور وہ ایسے مافیاز کے خلاف سرگرم تھے لیکن اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج عوام تک نہیں پہنچ رہے تھے بلکہ اس حد تک لوگوں میں یہ بات مذاق بن گئی تھی کہ وزیراعظم جس چیز کی قیمت کے بڑھنے کا نوٹس لیتے ، لوگ کہتے یہ لیں وزیراعظم نے نوٹس لے لیا اب یہ چیز مزید مہنگی ہوگی اور پھر ایسا ہوتا بھی رہا ان دنوں فوجی حلقوں نے محسوس کیا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ ان کی بھی بدنامی ہو رہی ہے تو فوج نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خود کو حکومت سے فاصلے پر کرنا شروع کردیا۔

یہ وہی دور تھا جب اپوزیشن اتحاد ختم اور اپوزیشن تتر بتر ہو چکی تھی۔ اپوزیشن جماعتیں اگرچہ اپنے اپنے طور چھوٹی موٹی حکومت مخالف سرگرمیوں میں مصروف تھیں، لیکن صاف نظر آرہا تھا کہ ان سرگرمیوں سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں پھر 6 اکتوبر بھی تاریخی دن آتا ہے جب فوج نے سیاسی معاملات میں مکمل غیر جانبداری کا فیصلہ کرلیا تھا یہ 6اکتوبر وہی دن تھا جس دن آئی ایس پی آر نے موجودہ آئی ایس آئی چیف جنرل ندیم احمد انجم کی تقرری کی خبر دی جبکہ وزیراعظم نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اس تقرری کو اپنے اختیارات میں مداخلت قرار دے دیا۔ اگرچہ چند دنوں بعد وزیراعظم نے جنرل ندیم انجم کی ہی بطور ڈی جی ایس کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی اور فوجی قیادت اور وزیراعظم کے درمیان علط فہمیوں کی خلیج بہت گہری ہو چکی تھی اور پلوں کے نیچے بہت سا پانی بہہ چکا تھا جب یہ تاثر مزید گہرا ہوتا گیا کہ فوجی قیادت اور سیاسی قیادت کے تعلقات ماضی جیسے نہیں رہے تو حکومت کے اراکین اسمبلی اور اتحادی پریشان ہوگئے کہ حکومت کی کارکردگی تو ایسی ہے کہ اس کارکردگی کے ساتھ آئندہ الیکشن میں جانا مشکل ہے، تو انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے رابطے شروع کردیے ان رابطوں کی وجہ سے اپوزیشن پر حکومت اندرونی کیفیت آشکار ہوگئی دوسری طرف اپوزیشن کو حکومت اور فوجی قیادت میں بڑھتے اختلافات کا پتہ چل رہاتھا جب اپوزیشن نے اچھی طرح ٹھونک بجا کریہ چیک کر لیا کہ اس مرتبہ واقعتاً اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے تو انہوں نے اس صورتحال کا سیاسی فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور اپنے اپنے سابقہ اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے آپس میں میل ملاقاتیں کیں اور ان کا اتفاق اس بات پر ہوا کہ یہی وہ صحیح وقت ہے ، انہیں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لا کر انہیں وزرات اعظمیٰ سے فارغ کر دیا جائے۔ جب انہوں نے آپس میں نوٹس ایکسچینج کیے تو معلوم ہوا کہ تحریک انصاف کے اندر سے بہت سارے ارکان پارٹی چھوڑ کردوسری پارٹیوں میں شمولیت کرنا چا ہتے ہیں۔ دریں اثنا جب حکومتی
اتحادیوں سے ملاقاتیں شروع ہوئیں تو معلوم ہوا یہ سب تو حکومت سے سخت ناراض بیٹھے ہیں چنانچہ اسی اثنا یہ فیصلہ ہوا کہ مارچ میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی اور اسی ماہ کے آخر تک حکومت فارغ کردیں گے،
چنانچہ ایسا ہی ہوا لیکن شروع شروع میں عدم اعتماد کی تحریک کو آسان لینے والے عمران خان کو جب واضح ہوگیا کہ ان کو بچانے اب اسٹیبلشمنٹ نہیں آئی تو انہوں نے اس آئینی پراسس کی راہ میں روڑے اٹکانے کی ہر کوشش کی لیکن معاملہ سپریم کورٹ میں گیا تو سپریم کورٹ کے 5ججوں پر مشتمل فل بینچ نے متفقہ فیصلہ صادر کر دیا کہ آئین کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک کو نبٹایا جائے اور اسکا ٹائم فریم بھی دیا اور عمران خان کوجب یہ یقین ہوگیا کہ گیم ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہے اور ان کے پاس حکومتی کارکردگی کا کوئی خاص بیانیہ نہیں تو پھر وہ کس بیانیے کے ساتھ عوام میں جائیں جس پر انہوں نے مختلف پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کی ان میں سے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا اس کو غیر ملکی سازش قرار دیتے ہیں یہ سودا بکے گا۔
انہوں نے خان کو بتایا کہ امریکہ میں پاکستانی اسد مجید کی ایک کیبل انکی نظر سے گزری ہے جس پر سازش کی عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے اس کے بعد وزیراعظم کو یہ کیبل دکھائی گئی تو انہوں نے گو ہیڈ کہہ دیا اور آج کل جس طرح اس کیبل کو بیانیہ بنایا جارہا ہے وہ سب آپ کے سامنے ہے۔عمران خان کی رخصتی کے جو عوامل بنے میں نے ترتیب وار آپ کے سامنے رکھ دئیے ہیں اور یہی حقیقت ہے اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے ، سب افسانہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button