تازہ ترینخبریںصحتصحت و سائنس

ایسے کام جنہیں کرنے سے آپ کی عمر 10 سال کم ہو جائے گی

انسان ایک لمبی اور پُرمسرت زندگی چاہتا ہے جو پیار، ہنسی اور خوشیوں سے بھرپور ہو، ہر انسان ہی اپنی زندگی میں صحتمند سال ڈالنا چاہتا ہے، کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کتنے عرصے تک زندہ رہے گا۔ 

ماہرین غذائیت کے حوالے سے میڈیا رپورٹ کے مطابق معمولات زندگی میں کچھ تبدیلیاں کرکے انسان لمبی عمر پاسکتا ہے۔

ماہرین نے مطابق انسان اگر ان تبدیلیوں کو اپنا لے تو وہ 10 سال بعد بھی اپنی موجودہ عمر جیسا ہی نظر آئے گا۔

ماہرین غذائیت نے تجویز دی کہ روز مرہ کھانے میں حقیقی غذا کو بھی شامل کیا جائے جیسا کہ دالیں اور میوے وغیرہ۔

ماہرین نے بتایا کہ ان میں بھرپور غذائی اجزاء شامل ہوتے ہیں جو آپ کے اندرونی اعضا کو بہتر انداز میں کام کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جبکہ ان کی وجہ سے عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

ماہر غذائیت نے کہا کہ اپنی غذا میں گائے کا گوشت اور پروسیسڈ فوڈ کو کم سے کم شامل کیا جائے، ایسی غذا میں کولیسٹرول کی مقدا زیادہ ہوجاتی ہے، اور دل کی بیماری اور کینسر کا بھی باعث بنتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایئرکنڈیشنز اور سکون و آرام کے عادی انسانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سورج کی روشنی میں نکلیں۔ کیونکہ سورج کی روشنی میں بھرپور وٹامن ڈی موجود ہے جو انسان میں تھکاوٹ کو کم کرتا ہے اور موڈ کو بہتر کرتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انسانوں میں آج کل وٹامن ڈی کی کمی ہونا عام بات ہے لہٰذا ضروری ہے کہ انسان کے جسم میں کیلشیئم اور فوسفیٹ کی مناسب مقدار شامل ہو اور دن میں کم از کم آدھا گھنٹہ سورج کی روشنی کئی معنوں میں بہتر ہے۔

اسی طرح انسان کو کم از کم 13 گھنٹے بغیر کھائے پیے رہنا چاہیے۔

ماہرین نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ اگر آپ پوری رات بھوکے رہیں تو اس سے آپ کے اعضا کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بہتر کرنے اور اپنے کام پر فوکس کرسکیں اور یہی دائمی مرض کے خطرات کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

ماہر غذائیت کا کہنا تھا کہ اپنے آپ کو متحرک رکھنے کے لیے انسان کو پورے دن میں کم از کم 10 ہزار قدم چلنا چاہیے۔ یہ نسخہ ایسے لوگوں کے لیے جو ورزش میں زیادہ وقت نہیں گزار پاتے۔

انہوں نے بتایا کہ نجی اور پیشہ وارانہ ایونٹس انسان پر ذہنی دباؤ پیدا کرتے ہیں جس کے صحت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں، لہٰذا اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان ایسے من پسند مشاغل کو اختیار کرے جو اس کے ذہن کو پرسکون رکھ سکیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button