تازہ ترینخبریںسیاسیات

پنجاب حکومت کا سپریم کورٹ سے منحرف اراکین کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

پنجاب حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف ارکان اسمبلی کے وزیر اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے نامزد کردہ ووٹوں کو اسپیکر اسمبلی نہیں گنیں گے جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے سیکریٹری اسمبلی کو ڈپٹی اسپیکر کا دفتر کھولنے کا حکم دے دیا۔

حکومتی امیدوار برائے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی کے ترجمان فیاض الحسن چوہان نے دعویٰ کیا ہے کہ الیکشن کی دوڑ میں مسلم لیگ(ق) کے رہنما نئے وزیراعلیٰ کے طور پر سامنے آئیں گے، انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے پی ٹی آئی کے اراکین صوبائی اسمبلی کو ہوٹل میں روک رکھا ہے اور انہیں ہر چند دن بعد گھوڑوں اور مویشیوں کی طرح مختلف جگہوں پر منتقل کر رہے ہیں۔

پیر کو پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اپوزیشن پی ٹی آئی کے منحرف اراکین قومی اسمبلی کو یہ جانتے ہوئے قومی اسمبلی کے ہال میں نہیں لائی کہ وہ تاحیات نااہل ہو جائیں گے، تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ پی ٹی آئی کے بلے کے نشان پر منتخب ہونے والے اراکین صوبائی اسمبلی کو اپنے امیدوار کو ووٹ دینا ہوگا۔

فیاض الحسن چوہان نے اعلیٰ عدالتوں پر زور دیا کہ وہ آرٹیکل 63اے کو پامال کرنے پر ان اراکین کے خلاف از خود نوٹس لے کر کارروائی کریں، انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ 85 نشستوں والی پارٹی حکومتی بینچوں پر پہنچ رہی ہے، جبکہ 155 نشستوں والی جماعت کو اپوزیشن میں بیٹھنے کی راہ دکھائی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الٰہی نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور اسمبلی کو احسن طریقے سے چلایا، انہوں نے مزید کہا کہ اتوار کی رات لاکھوں لوگ سابق وزیراعظم عمران خان کی حمایت میں باہر نکلے تھے۔

ایک ایسے وقت میں جب وزیر اعظم شہباز شریف پر فرد جرم عائد کی جانی تھی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو ان نا نام ان مقدمات سے نکالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جن میں وہ ملوث تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button