Editorial

شہباز شریف 23 ویں وزیراعظم منتخب

قومی اسمبلی نے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف کو پاکستان کے 23 ویں وزیراعظم کے طور پر منتخب کرلیا ہے۔ نئے قائد ایوان کے لیے متحدہ اپوزیشن کی جانب سے میاں محمد شہباز شریف اور تحریک انصاف کی جانب سے شاہ محمود قریشی، وزیراعظم کے امیدوار تھے تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے بائیکاٹ کے بعد میاں محمد شہباز شریف واحد امیدوار رہ گئے اور انہیں ایوان میں 174 ووٹ ملے ۔ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور میاں محمد شہبازشریف کا بطور وزیراعظم انتخاب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو ملنے والی یکے بعد دیگرے بڑی خوشخبریاں اور کامیابیاں ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اب بطور وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف کو ہر قدم پر نئے نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گابالکل بجا کہ انہیں پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسری اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہوگی اور اتحادی جماعتوں کو بھی وزارتیں دی جائیں گی لیکن اصل میں امتحان تب شروع ہوگا جب وہ اپنی ٹیم تشکیل دینے کے بعد حکومتی معاملات سنبھالیں گے کیوں کہ مخلوط حکومت نے عوامی مسائل کو حل نہ کرپانے کی بنیاد پر سابقہ حکومت کو ہٹایا اِس لیے میاں محمد شہبازشریف کو سب سے پہلے اُن مسائل کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کرنا پڑے گی جن مسائل کے خاتمے کا وہ بارہا اعادہ کرچکے ہیں اور بطور وزیراعلیٰ پنجاب ایسے مسائل سے نمٹنے کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ اِن مسائل میں سرفہرست مہنگائی اور روزگار کے مسائل ہیں جو سابقہ حکومت کے لیے بھی پریشانی کا باعث رہے اور یقیناً موجودہ حکومت کی اولین ترجیح انہی کو حل کرنا ہوگا کیوں کہ ایک اندازے کے مطابق ملک میں ساٹھ لاکھ سے زائد پاکستانی بے روزگار ہیں جبکہ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد بھی دوکروڑ سے زائد ہے۔ ڈالر کی قیمت اگرچہ چند روز میں کم ہوئی ہے لیکن ملک میں مہنگائی کے طوفان کی ایک بڑی وجہ ڈالر کی قیمت پر حکومتی کنٹرول نہ ہونا بھی رہا ہے۔ زیادہ لاگت سے تیار ہونے والی مہنگی بجلی صنعتوں اور زراعت کی کمر توڑ رہی ہے جبکہ گھریلو صارفین بھی بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پریشان ہیں، اِس لیے اگر بجلی کی قیمتیں کم کردی جاتی ہیں تو اس کا ناصرف صنعتوں اور زراعت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ عام صارف کو بھی ریلیف ملے گا کیوں کہ مختلف وجوہات کی بنا پر ایک عام پاکستانی صارف کی ماہانہ آمدن کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی میں صرف ہوجاتا ہے جبکہ کچن کے اخراجات اُس کی نصف سے زائد آمدن کے قریب پہنچ چکے ہیں اِس لیے ہر ممکن حد تک کوشش کی جائے کہ یوٹیلٹی بلز اور خود ساختہ مہنگائی کو پوری قوت کے ساتھ قابو کیا جائے تاکہ عام پاکستانی بالخصوص خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے پاکستانیوں کا سفرِ زیست قدرے آسان ہو۔ جہاں تک ہمیں سمجھ ہے کہ آئی ایم ایف کے حکم پر بجلی، گیس وغیرہ کی قیمتیں بڑھائی جارہی تھیں، اس معاملے پر بھی نظرثانی کی جانی چاہیے کہ عوام کے لیے اب دو وقت کی روٹی کا حصول بہت مشکل ہوچکا ہے۔ عام پاکستانی کے ذرائع آمدن بھی
بڑھائے جانے چاہئیں تاکہ اُس میں مہنگائی کو برداشت کرنے میں اُس میں سکت پیدا ہوسکے کیوں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ان سالوں میں سب سے زیادہ نجی شعبے سے منسلک افراد متاثر ہوئے جنہیں یا تو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا ہے یا پھر تنخواہوں میں کٹوتی سے۔ پھر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سے منسلک افراد بھی ابھی تک اُس نقصان سے باہر نہیں نکل سکے جو کرونا وائرس کی وباء کے دنوں بلکہ سالوں میں وہ اُٹھاچکے ہیںاِس لیے ملک میں بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری کو کنٹرول کرنے کے ساتھ نوکریوں کے لیے مواقع پیدا کرنا، صنعتوں کو بجلی و گیس کی فراہمی اور ٹیکس ریفارمز بھی نئی حکومت کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔ سابق حکومت بھی ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے کوششیں کرتی رہی اور کافی حد تک اِس میں کامیاب بھی ہوئی۔ صحت اور تعلیم کے شعبے بھی فوری توجہ کے متقاضی ہیں اگرچہ سابقہ حکومت نے اِن دونوں شعبوں پر کافی کام کیا ہے تاہم بہتری کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے اور یقیناً عبوری حکومت کی توجہ کا مرکز یہ مسائل بھی رہیں گے۔ آنے والے وفاقی بجٹ میں بھی نئی حکومت ملک کے عوام کو مختلف مدات میں ریلیف فراہم کرسکتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی بلکہ مختلف صوبوں میں موجود گورنر اور اراکین اسمبلی بھی نئی سیاسی صورت حال میں اپنی اپنی رکنیت سے مستعفی ہونے جارہے ہیں بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق اراکین قومی اسمبلی نے استعفوں کے معاملے میں پہل کربھی دی ہے، گورنر خیبر پختونخوا اورگورنرسندھ بھی مستعفی ہوگئے ہیں جبکہ گورنر پنجاب بھی استعفے کے لیے قیادت کے گرین سگنل کا انتظارکررہے ہیں یوں شہباز شریف حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ملک میں سیاسی استحکام لانا بھی ہوگا کیوں کہ ایک طرف پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کرچکے ہیں اور یقیناً یہ معاملہ بھی فوری اور مستقل توجہ کا متقاضی رہے گا اِس دوران مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے مطالبات اور نظریات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کیوں کہ موجودہ حکومت بالخصوص میاں محمد شہبازشریف کے لیے اتنے وسیع اتحاد کو خوش رکھنا اور انہیں ساتھ لے کر چلنا ہمہ وقت چیلنج رہے گا کہ اُن کے ساتھ وہ سیاسی جماعتیں بھی ہیں جو قریباً پونے چار سال سابقہ حکومت کا حصہ رہنے اور وزارتیں انجوائے کرنے کے باوجود بھی اپنی اتحادی حکومت سے غیر مطمئن رہیں اور اب وہ جماعتیں اتحادیوں کے پلڑے میں ہیں اِس لیے نئی حکومت کو ہر معاملے میں اپنے تمام اتحادیوں کی منشا کو مدنظر رکھنا پڑے گا کہ وہ سابقہ حکومت سے الگ ہونے کا یہی جواز پیش کرتے آئے ہیں کہ اُن کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے اِس لیے میاں محمد شہبازشریف کو ہرلمحہ بردباری اور سیاسی بصیرت سے سامنا کرنا پڑے گاتاکہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف نظریات اور مسائل رکھنے والی جماعتوں کا اتحاد بہرصورت دیرپا اور پائیدار رہے۔ نومنتخب وزیراعظم پاکستان کو درپیش چیلنجز کی فہرست کہیں زیادہ طویل ہے اِس دوران کچھ آئینی اصلاحات لانا بھی مقصود ہے جن کا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم سے اعادہ کیا جاتا رہا ہے۔ یوں میاں محمد شہبازشریف کے سامنے چیلنجز بے شمار اور اِس بقیہ آئینی مدت میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button