Column

اُس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو ….. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

کچھ برس ہوئے ہیں،انتخابات کے لیے مہم اپنے عروج پرتھی، تحریک انصاف نے لاہور میں جلسہ رکھا، بتایاگیا کہ عمران خان اہم خطاب کریں گے، وہ خطاب کے لیے جلسہ گاہ پہنچے تو عوام کاجوش و خرو دیدنی تھا۔ کنٹینرز پر خاصا بلند سٹیج بنایاگیا تھا تاکہ پورا مجمع قائدین کی صورت دیکھ سکے۔ عمران خان کو سٹیج پر پہنچانے کے لیے لفٹر لایاگیا جو غلط پارک کی گئی گاڑی کو اٹھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عمران خان لفٹر پر رکھے گئے پھٹوں پر کھڑے ہوگئے، نصف درجن ساتھی ہمراہ تھے۔ لفٹر نے اوپر کی طرف اٹھنا شروع کیا۔ وزن کے سبب توازن بگڑا، لوگ ایک دوسرے پرگرے۔ عمران خان ہوا میں قلابازی کھاتے کمر کے بل زمین پر آگرے ،  اٹھنے کی کوشش کی، نہ اٹھ سکے، شاید کمر کی ہڈی پٹخ گئی تھی، ساتھیوں نے ڈانڈ ڈولی کرکے گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال منتقل کیاگیا، مضروب کو اس طرح اٹھانا حماقت تھی، بہتر ہوتا انہیں پھٹے پر لٹاکرگاڑی تک لاتے تاکہ جسم اور ہڈیوں کو مزید نقصان سے بچایا جاسکتا، ہسپتال میں طبی معائنے کے بعد پہلی خبر آئی کہ شدید چوٹوں کے سبب وہ طویل عرصہ زیر علاج رہے گا، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس چوٹ کے سبب وہ ہمیشہ کے لیے مفلوج ہوجائیں اورکبھی بسترسے نہ اٹھ سکیں۔ یہ خبر بجلی بن کر ان کے مداحوںپر گری، لاکھوں ہاتھ خدا کی بارگاہ میں اٹھ گئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مفلوج ہونے سے بچالے اور صحت کاملہ عطا فرمائے۔ دعائیں قبول ہوگئیں، وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے، وہ مستقل مزاجی سے آگے بڑھتے رہے اور چار برس قبل ہونے والے انتخابات میںڈیڑھ سو کے قریب نشستیں حاصل کرلیں جو وزیراعظم بننے کے لیے ناکافی تھیں۔ غیر مرئی ہاتھ حرکت میں آئے اور کمی پوری کردی گئی وہ وزیراعظم بن گئے، عہدے کے حلف کے بعد پہلے خطاب کے لیے آئے جس کا پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں انتظار کیا جارہا تھا کہ نو منتخب وزیراعظم یا صدر کاپہلا خطاب ، پالیسی خطاب سمجھا جاتا ہے۔ خطاب شروع ہوا اور ڈیڑھ منٹ میں ختم ہوگیا۔ سب حیران رہ گئے ایک دوسرے سے پوچھنے لگے ہوا کیا ہے، خطاب میں عظیم پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا اور ایک ماہ کا وقت لیاگیا ، وزیراعظم کی پہلی تقریر نے قوم کو ناامید کیا وہ ان سے کسی انقلابی لائحہ عمل کی توقع کررہی تھی جو پوری نہ ہوسکی۔

انہوں نے اپنی کابینہ کا اعلان کیا اور اعادہ کیا کہ ان کی ٹیم ملک کی کایا پلٹ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ خزانے کی وزارت اسد عمر کو ملی جنہیں خزانے کے ابجد سے واقفیت نہ تھی، جسے چپڑاسی نہ رکھنے کا ذکر زور شور سے کرتے تھے اُسے من پسند وزارت ملی، جنہیں پنجاب کا ڈاکو کہتے تھے ان سے بغل گیر ہوئے اور انہیں اتحادی بنالیا، قوم کو ایک مرتبہ پھر مایوسی ملی۔ شہرہ آفاق بیان دیا کہ ڈالر کو کھلا چھوڑ دو، ڈالر کے ناچ نے ملکی معیشت کو ناچ نچادیا، ملکی کرنسی ساٹھ فیصد قدر کھو بیٹھی ہے، کچھ عرصہ بعد وزیر خزانہ نالائق قرار پائے، وزارت چھین لی گئی، اب انتخاب کوئی عظیم پاکستانی نہیں بلکہ امریکی شہریت کے حامل حفیظ شیخ
تھے وہ اس کے خدوخال سنوارتے کم اور برباد زیادہ کرتے رہے۔ وزیراعظم کے تصور کے مطابق شاید امریکہ اور یورپی استعمار سے ہمارے مالیاتی امور کو آزایا جارہا تھا اسی دوران اٹھارہ امریکی اور برطانوی شہریت کے حامل افراد کو ملک میں اہم عہدے اور وزارتیں تقسیم کردی گئیں، یہ پوری ٹیم خود مختار نئے پاکستان کی تعمیر میں جُت گئی امریکہ آئی ایم ایف کے حکم پر مصر میں متعین ایک شخص کو امپورٹ کرکے سٹیٹ بینک آف پاکستان کا سربراہ بنایاگیا، امریکی شہریت رکھنے والا یہ شخص مصر کی معیشت کو تباہ کرنے کا کارنامہ سرانجام دے چکا تھا، پاکستان کی معیشت اس کے بے رحم ہاتھوں میں دے دی گئی، اس کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے قانون میں ترمیم کی گئی، سٹیٹ بینک آف پاکستان کو حکومت پاکستان کے اثر سے آزاد کردیاگیا، مزید قانونی تحفظ فراہم کرتے ہوئے سٹیٹ بینک کے کسی بھی افسر اور ان فیصلے کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار نیب اور ایف آئی اے سے چھین لیاگیا تاکہ یہ سب لوگ آزادانہ اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہناسکیں۔ فیصل ووڈا اور زلفی بخاری کے ساتھ ساتھ سواتی صاحب کی غیر ملکی شہریت کے معاملے میں جھوٹ کا سرکاری طور پر ساتھ دیاگیا، انہیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی مگر عدالتوں نے جھوٹ کا پول کھول دیا اور انہیں گھر جانا پڑا۔
کنٹینر پر کھڑے ہوکر کی گئی سب خوبصورت باتیں خوبصورت وعدے فراموش کردئیے گئے، وعدہ کرنا اور مکرجانا پالیسی بن گئی، ساتھ ہی کہاگیا کہ یوٹرن لینے سے کامیابیاں ملتی ہیں۔ عمران خان کے ووٹر اس طرز عمل سے ایک مرتبہ پھر مایوس ہوئے، مایوسی کی اس وقت انتہا ہوگئی جب برس ہا برس تک چوروں اور ملکی دولت لوٹنے والوں کو پکڑنے اور قرار واقعی سزا دینے کی باتیں کرنے والے عمران خان کی حکومت کے شکنجے میں جو کچھ چور اور ڈاکو پھنس گئے، ملک میں شادی مرگ کا سماں تھا خیال تھا کہ اب ملک لوٹنے والے نشان عبرت بن جائیں گے لیکن منظر بدل گیا، شکنجہ ڈھیلا کرکے چوروں اور ملک لوٹنے والوں کو آزاد چھوڑ دیاگیا، سرکاری صفوں میں موجود مافیا منہ زور ہوگیا، آٹا مافیا، چینی مافیا، ادویات مافیا، گندم مافیا، اہل پاکستان کو جی بھر کے لوٹتا رہا۔ نیا پاکستان بنانے کا وعدہ کرنے والے نے آنکھیں بند کیے رکھیں، مخلص ورکرز بددل ہوگئے،کارکن گھربیٹھ گئے، اقتدار تک لانے والے پچیس برس تک مشکل وقت میں ساتھ رہنے والے اس قابل نہ سمجھے گئے کہ کبھی ان کا حال ہی پوچھ لیا جاتا، منزل انہیںملی جو شریک سفر نہ تھے۔
ممبران قومی اسمبلی میں بددلی پھیلی تو خواب غفلت سے بیدار ہوئے مگر اب بہت دیر ہوچکی تھی، ان کا موقف تھا کہ اپنے ووٹرز اورسپورٹرز کے پاس جانے، انہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے، یہاں پہنچ کر ایک خط لہرایا اور بتایا کہ امریکہ انہیں ناپسند کرتا ہے اور انہیں اقتدارسے ہٹانے کی سازش کررہا ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ امریکہ کی خوشنودی کے لیے کیا کچھ نہ کیاگیا پھر امریکہ کیوں ناراض ہے، بات سمجھ میں نہیں آئی، بہتر ہوتا اس سازش کا الزام چین کے سر لگاتے، امریکہ اقتدار میں لایا، امریکہ کی مرضی کی پالیسیاں بنائی گئیں، کشمیر پر خاموشی اختیار کی گئی، بھارت نے کشمیر کی حیثیت بدل ڈالی تو قوم کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ کیا میں کشمیر پر حملہ کردوں؟ تواتر سے کیے گئے پندرہ روز سے جاری جلسہ عام اورقوم سے خطابات میں بھارت اور بھارتی حکومت کی تعریفیںقوم کا دل مزید دُکھاگئی ہیں، کیا یہ بھارت سے مدد کی درخواست کی جارہی تھی، آخری دو تقریروں میں تو واضح طور پر امریکہ کو مخاطب کرکے انہیں باور کرانے کی کوشش کی گئی اور کہاگیا کہ میں امریکہ اور یورپ کے خلاف نہیں ہوں، ان سب تقریروں کے پیچھے ایک ہی پیغام تھا، آگے آئیے مجھے بچائیے۔
تمام عمر سپورٹس مین شپ کا سبق دینے والا وسعت ذہن و قلب کا پرچار کرنے والا ایک شان سے مقتل پہنچتا تو میں قصیدہ لکھتا کہ شان سلامت رہی ہے وہ تو آخری اوور کھیلنے ہی نہیں آیا، اسے لانے کی کوشش کی گئی وہ نہیں مانا، آج وہ ماضی بن گیا ہے، مگر درخشاں ماضی نہیں، دیکھئے منیر نیازی کیا کہتے ہیں
اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو
یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو
لائی ہے اب اڑا کے گئے موسموں کی باس
برکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو
پھرتے ہیں مثل موج ہوا شہر شہر میں
آوارگی کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو
شام الم ڈھلی تو چلی درد کی ہوا
راتوں کی پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو
آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button