Column

قومی اسمبلی کی بحالی ….. علی حسن

علی حسن
پاکستانی سیاست کا عجیب رنگ و ڈھنگ ہے، جب کوئی اختلافی معاملہ ہوتا ہے، سب ایک دوسرے کے گندے کپڑے چوراہے چوراہے دھو رہے ہوتے ہیں۔ آپس کی گالم گلوچ کی حد پار کرنے کے علاوہ ایک دوسرے کے خلاف طرح طرح4 کے الزامات لگانا ایک وتیرہ بن گیا ہے۔ اس طرح کے جھگڑوں میں تو یہی ہوتا ہے جیسا عمران خان حکومت کے اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کیا۔ وہ حکومت کے اٹارنی جنرل رہے اور اب اصول پسند بن کر عدالت میں کہہ دیا ہے کہ وہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا دفاع نہیں کر سکتے۔ یہ تو سابق حکومت کی پیٹھ میں بظاہر چھرا گھونپنے کے مصداق ہے لیکن یہ بات بھی ہے کہ حکومتوں کو اپنی خواہشات کے پیش نظر نہیں بلکہ اپنے قانونی مشیروں کے مشوروں پر لفظ بلفظ قائم رہنا اور عمل کرنا چاہیے تو ہی ایسی شرمندگی اور نقصانات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے دوران پاکستانی سیاست دانوں کے لیے کئی سبق ہیں۔ پہلا سبق تو یہی ہے کہ راتوں رات سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہ رکھا جائے۔بے پیندے کے لوٹے جب تک موجود ہوتے ہیں، حکومت کھڑی رہتی ہے، اس کے ساتھ بے پیندے لوٹے کی طرح اِدھر اُدھر کرتے رہتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر نخرے کرنا کون سی سیاست ہے؟ تحریک انصاف کے کراچی سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت کو ہی دیکھ لیں کہ انہوں نے پوری قومی اسمبلی کی مدت میں حکومت کو آنکھیں ہی دکھائیں۔ ایسے افراد جنہیں قدم قدم پر منانا پڑے انہیں کیوں کر ساتھ رکھا جا سکتاہے۔ سیاسی جماعتوں کو طے کرنا چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کو سیاست میں ساتھ رکھیں جن میں استقامت ہو۔ اِدھر اُدھر والے سیاست دانوں کو ہر گز ساتھ نہ رکھیں۔ خواہ اِن میں انتخابات میں کامیاب ہونے کی صلاحیت ہی کیوں نہ ہو۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ سیاسی مخالفین کو دشمن تصور نہیں کرنا چاہیے ۔
تین اپریل کے روزجو حکومت قائم تھی جس کے وزیر اعظم عمران خان تھے، سپریم کورٹ نے اسے بحال کرکے تحریک عدم اعتمادنو اپریل کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعظم نے جتنی تدبیریں اختیار کی تھیں وہ ناکا م ہو گئیں۔ بظاہرنو اپریل کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی تو وہ وزیر اعظم کے عہدے پر قائم نہیں رہیں گے۔ یہی خطرہ تھا کہ حکومت چلی جائے گی اور حزب اختلاف اقتدار پر آجائے گی اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے جیسا سپریم کورٹ نے کہاکہ غیر آئینی اقدامات کئے گئے۔ جمہوریت
میں توایسا ہوتا ہی رہتا ہے لیکن عمران خان اس جمہوری جذبے کا مظاہرہ نہیں کرسکے جو جمہوریت مغرب کی جمہوریت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی سیاست دانوں نے کبھی مغربی جمہوریت جیسے تقاضوں کا مظاہرہ کیا ہے ؟ ایک بار برسراقتدار آنے والے جانے کا سوچتے ہی نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ سیاست دانوں کے لیے بھی انتباہ ہے کہ سیاست کے اصول و ضوابط پر ثابت قدمی اور احتیاط کے ساتھ عمل کیا جائے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ خواہش تو بہتر ہے لیکن اس پر سیاسی جماعتیں عمل نہیں کریں گی۔ بھیڑ بکریوں کی طرح اراکین اسمبلیوں کی خرید و فروخت کتنی جائز ہے، کوئی سیاسی رہنمائوں سے پوچھے تو سہی۔ آج آپ ایسا کر گئے کل کوئی اور بھی ایسا ہی کر سکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے دھمکی دی تھی کہ جمعہ کے روز  مظاہرے کئے جائیں ۔ ان کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ کسی ’’نظریہ ضرورت ‘‘ کے تحت فیصلہ صادر کرے گا، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ عدالت کے فیصلے سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اب تک ’’سلیکٹڈ، سلیکٹڈ‘‘ کی رٹ لگانے والے عمران مخالفت میں بہت کچھ کہہ جاتے تھے اور بہت آگے نکل جاتے تھے ۔ عدالت نے کسی نظریہ ضرورت کی بنیاد پر فیصلہ نہیں دیا بلکہ 3 اپریل کے بعد سے جو بھی فیصلے کئے گئے تھے ، سب ہی کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ عمران مخالف عناصر اور وکلاء اس فیصلے کو تاریخی
قرار دیتے ہیں۔ یہ کیوں ضروری ہے کہ سپریم کورٹ مستقبل میں کن حالات کے پیش نظر کیا کیا فیصلے کریں گی۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں عوام کو وہ سب کچھ دیکھنے کو ملے گا ، جس کی بہت سارے لوگوں کو توقع نہیں ہوگی۔ اب دیکھنا ہوگا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو کہاں کہاں کیسے کیسے استعمال کیا جاتا ہے، اگر نیب ماضی میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ کیا خائن اور قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو روکا جا سکے گا؟ پاکستان میں کئی ایسے مقدمات کے عدالتوں میں فیصلے ہو چکے ہیں ، جن کی روشنی میں سیاست میں غیر آئینی اقدامات سے محفوظ رہاجا سکتا ہے لیکن سیاست دانوں کو اپنے اپنے مقاصد یا اسے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی جلدی ہوتی ہے اس لیے دیکھے اور سوچے بغیر کارروائی کر گزرتے ہیں۔ جیسے تین اپریل کو قومی اسمبلی میں قرار تحریک عدم اعتماد کو ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ’’بلڈوز‘‘ کر دیا تھا۔ کیا ضرورت تھی کہ ایسا کیا گیا؟ بے شک حکومت یہی چاہتی تھی لیکن سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو اپنی پارٹی یا قیادت کے فیصلوں سے بالا تر ہوکر فیصلے کرنا چاہئیں۔
فرح نامی ایک خاتون کا تعلق وزیر اعظم کی زوجہ سے جوڑا گیا ۔ اس خاتون کے بارے میں سوشل میڈیا پر غلیظ قسم کی زبان استعمال کی گئی ۔ اس کا اعادہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ خاتون جیسی بھی ہیں ، یہ باتیں اس وقت کیوں سامنے آرہی ہیں۔ فرح نون لیگ کے رکن صوبائی اسمبلی اقبال گجر کی بہو ہیں۔ کامران خان نے تو لکھا ’’ خاتونِ اول بشریٰ بی بی کی دوست فرح کے پاس مبینہ طور پر پنجاب حکومت کی چابی تھی جس سے بڑے بڑے تالے کھل جاتے تھے، ان کے معاملے میں عمران خان کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اپنے ایک ٹویٹ میں کامران خان نے فرح کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ بیشک اس عورت پر لگنے والے الزامات غلاظت کا پہاڑ ہیں، فرح کے پاس مبینہ طور پر بزدار حکومت کی چابی تھی، یہ چابی بڑے بڑے تالے کھولتی تھی ، عمران خان کی اس معاملے میں لا علمی انہیں بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی ، فرح کا اچانک دبئی بھاگ جانا اس کے خاتون اوّل سے تعلقات کی کہانیاں کوئی راز نہیں۔ خیال رہے کہ فرح پر پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما عبدالعلیم خان نے کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے تھے اور یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ فرح اور ان کا شوہر ملک سے فرار ہوچکے ہیں۔ اس خاتون پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ بھاری بھاری رقمیں لیکر سرکاری عہدوں پر تقرریاں کرایا کرتی تھیں ۔ سوشل میڈیا ان کے حوالے سے خاصا متحرک ہے۔ کیا ان کے اس اعمال سے عثمان بزدار ناواقف تھے تو کیا وفاقی حکومت بھی ناواقف تھی یا ہوگی جس کے ماتحت آئی بی ( وفاقی حکومت کا سولین خفیہ معلومات اکھٹی کرنے والا ادارہ) ہوتی ہے جو تمام اطلاعات سے وفاقی حکومت کو واقف رکھتی ہے ۔ جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان نے بھی تو سیاسی راستہ سے عمران خان پر سرمایہ کاری کی تھی، جب مفادات کا ٹکرائو ہوا تو کمزور پیٹ انسانوں کی طرح انہوں نے بھی عمران خان یا ان کے اہل خانہ کے خلاف انہیں جو کچھ علم تھا، سب کچھ اگل دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button