تازہ ترینخبریںسیاسیات

کیا عدالتی فیصلے کے بعد اب حکومتی ارکان پر آرٹیکل 6 عائد ہوگا؟

آئینی و قانونی ماہرین نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخی فیصلے سے جمہوریت مضبوط اور آئین کی بالا دستی قائم ہوئی ہے ، نظریہ ضرورت دفن ہوگیا۔

آئینی وقانونی ماہر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت تحریک عدم اعتماد سے نہیں بچ سکتی ہے،اب انہیں اپوزیشن میں ہی بیٹھنا پڑے گا اور بیٹھ جانا چاہیے ، استعفوں سے حکومت ہی کو نقصان ہوگا۔

صدرسپریم کورٹ بار ایسوی ایشن احسن بھون نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل تحسین ہے ، عدلیہ اور ملک بھر کی وکلاء برادری کو مبارکباد ہو کہ قانون کی جیت ہوئی ہے،اب اصل میں نیا پاکستان بنے گا۔

سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری وسیم ممتاز ملک نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ سپریم کورٹ داد کی مستحق ہے ، عدالت نے آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ سنایا ہے ، آزاد عدلیہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کی محافظ ہے اور اس نے اس چیز کو ثابت کردیا ہے۔

صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن علی اکبر ڈوگر نے کہا عدالت عظمیٰ نےآئین اور قانون کے مطابق فیصلہ دیکر پہلی دفعہ نظریہ ضرورت دفن کردیا ہے،قومیں عدالتوں کے فیصلے تسلیم کرتی ہیں۔

وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل جعفر طیار نے کہا کہ عدالت نے آج نظریہ ضرورت کے برعکس فیصلہ دیکر اپنا فرض ادا کیا ہےجو انہونی نہیں ہے، یہ فیصلہ قانون کی بالادستی کا مظہر ہے جس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

جسٹس ( ر ) رشید اے رضوی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی فیصلہ ہے، اس فیصلے کے نتیجے میں عدلیہ کے تمام ججز کا حوصلہ بھی بڑھے گا ، فیصلے میں آئین کے تقاضوں کو پورا کیا گیا ، سپریم کورٹ کے ججز نے معاملے پر بہت باریک بینی سے جائزہ لیا اور توازن قائم کرتے ہوئے فیصلہ سنایا ہے اب عمران خان عدم اعتماد کی تحریک سے نہیں بچ سکتے۔

سندھ بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین حیدر امام رضوی نے کہا ہے توقعات سے بڑھ کر فیصلہ سنایا گیا ہے اس فیصلے کے سے آمرانہ اقدام کی شکست اور جمہوریت کی فتح ہوئی ہے ،مستقبل میں اس فیصلے کے دورس نتائج سامنے آئیں گے۔

پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کہ پرنسپل لا آفیسر اٹارنی جنرل آف پاکستان نے غیر آئینی اقدام کا دفاع کرنے سے انکار کیا، اب آگے چل کر پارلیمنٹ میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ممکن ہے جس میں صدر عارف علوی، عمران خان ، فواد چوہدری اور قاسم سوری زد میں آئیں گے۔

پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین خوشدل خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخ ساز ہے ، ثابت ہو گیا کہ عدلیہ آزاد ہے ، فیصلے سے پورے ملک میں پائی جانیوالی بے چینی اور آئینی بحران کا خاتمہ ہو گیا ہے ، قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں.

سپریم کورٹ بار کونسل کے رکن سینئر ایڈووکیٹ ہارون الرشید نے کہا ہے کہ عدالت نے فیصلہ دیکر آئین سے کھلواڑ کا راستہ بند کر تے ہوئے ثابت کر دیا کہ آئین کے ساتھ من مانی نہیں کی جا سکتی۔

آئینی وقانونی ماہر انور منصور نے کہا کہ اگر وہ اٹارنی جنرل ہوتے تو خط کو عدالت کے سامنے ضرور لاتے ، آئینی وقانونی ماہر عرفان قادر نے کہا کہ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے اس سے عدلیہ کی ساکھ بحال ہوئی ہے .

آئینی وقانونی ماہر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اگر اسپیکر صاحب پھر کوئی اپنا فیصلہ دے دیتے ہیں 63اے کے حوالے سے کسی کو ووٹ دینے سے روک دیتے ہیں اور اس کا ووٹ نہیں گنتے یہی ہوگا معاملہ واپس عدالت میں آ ئے گا ،ان کو پھر ہزیمت اٹھانا پڑے گی.

اسپیکر غیر آ ئینی طور پر اجلاس منعقد کرنے سے منع کردے تو ممبران خود اجلاس منعقد کر سکتے ہیں ، آئینی وقانونی ماہر شائق عثمانی نے کہا کہ میرے خیال میں یہ فیصلہ تو بالکل آئین کے مطابق ہے اور صحیح ہے۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان حافظ ایس اے رحمان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کو دفن کر دیا اور ٹھوس حقائق کی بنیاد پر ایک ایسا فیصلہ دیا جو پاکستان کی آئینی اور قانونی تاریخ میں یاد گار رہے گا۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور آئینی امور کے ماہر بیرسٹر عمر سجاد نے کہا ہے کہ فیصلے کے پاکستانی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہونگے لیکن پارلیمانی سیاست پھر بھی عدم استحکام کا شکار رہے گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button