Column

غیر ملکی دھمکیاں ….. ناصر نقوی

راولپنڈی صدر بازار اور درودیوار اس بات کے گواہ ہیں کہ ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی عوامی ہجوم اور نعروں میں جیب سے ایک کاغذ نکال کر دکھایا اور بتایا کہ ان کے خلاف عالمی سازش ہو رہی ہے اور ،، سفید ہاتھی،، میری جان کے درپے ہے لیکن سیاسی رہنماؤں اور اپوزیشن نے اسے سیاسی ڈرامہ ،، قرار دیتے ہو ئے نہ صرف توجہ نہیں دی بلکہ بھٹو صاحب کا مذاق اڑایا، اس وقت بھی تقریباً ویسی ہی صور ت حال ہے موجودہ وزیر اعظم نے از خود بھٹو ثانی بننے کے اعلان کے بعد جیب سے ایک خط نکال کر عوامی جلسہ عام میں لہرایا اور ماضی کے الفاظ دوہرائے کہ ان کا اقتدار چھینے کے لیے عالمی سازشیں ہو رہی ہیں بیرونی سرمایہ کاری بھی کی جارہی ہے لیکن یہ دھمکی آمیز خط میں ملک وملت کی خاطر کسی کو نہیں دکھاؤں گا البتہ یہ چیف جسٹس آف پاکستان کو دکھایا جاسکتا ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر اس خط کی تفصیلات عوام کو پہنچا دوں تو اپوزیشن کے چہرے بےنقاب ہو جائیں گے اور وہ برباد ہو جائے گی لیکن میں اعلیٰ قومی مفاد میں ایسا نہیں کروں گا قوم کے لیے اعلیٰ قومی مفاد کا نعرہ نیا نہیں تھا۔ اس لیے ہضم ہو گا سوائے یوتھیوں کے کسی نے اس دھمکی آمیز خط پر ردعمل نہیں دیا اور اسے سیاسی سیکنڈل ہی قرار دیا گیا حالانکہ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ حکومت، اپوزیشن اور عوام سے ہر گز پوشیدہ نہیں ، پھر بھی یہ دھمکی آمیز خط کوئی دھماکہ خیزی پیدا نہیں کرسکا لہٰذا ’’یو ٹرن‘‘ کی خداداد صلاحیتوں سے بھر پور وزیر اعظم نے اپنے روایتی یو ٹرن کامظاہرہ کیا اور اس متنازعہ خط کو اتحادیوں اور اپنے بااعتماد صحافیوں کو دکھانے کا فیصلہ کیا تاہم خان اعظم نے خط پھر بھی کسی کو نہیں دکھایا اور اس کے مندرجات سے آگاہی دے کر کام چلا لیا پھر انہوں نے قوم سے خطاب کر کے اپنا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیاکیونکہ اقتدار کے میچ کی آخری گیند تک مقابلے کا اعلان وہ اور ان کی کابینہ پہلے ہی کر چکی تھی لیکن انہیں ایک مرتبہ پھر دباؤ اور نظریہ ضرورت کے تحت یو ٹرن لینا پڑا اور قوم سے خطاب موخر ہو گیا حالانکہ یہ افواہ شہر لاہور میں زبان زدعام تھی کہ خان اعظم ایک جذباتی اور تاریخی تقریر کے بعد مستعفی ہو جائیں گے ہمیں تو ایسی امید نہیں تھی لیکن شہر کے بکیوں نے اپنے رجسٹر کھول لیے اور بھاری شرطیں لگ گئیں کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں گے کہ نہیں ، ایسی صورت حال زبردستی کے صدر پرویز مشرف کے قوم سے آخری خطاب میں بھی بنی تھی اس وقت بھی عام تاثر یہ تھا کہ پرویز مشرف کمانڈو ہیں اس لیے حالات کا مقابلہ کریں گے استعفیٰ ہر گز نہیں دیں گے لیکن وقت نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیااور لوگوں کے اندازے دھرے رہ گئے دوسری جانب اس دھمکی آمیز خط کو قومی سلامتی کمیٹی میں بھی پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس پر ماہرین کی رائے ہے کہ ایسا وزیر اعظم کو سب سے پہلے کرنا چاہیے تھا جو انہوں نے سب سے بعد میں کیا تاہم ایک شہری کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ امید ہے قومی مفاد پر وزیر اعظم نے اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے خفیہ دستایزات ظاہر نہیں کریں گے خط سے متعلق روکنے کا عدالتی حکم وزیراعظم پر اعتبار نہ کرنے کے مترادف ہو گا البتہ وزیر اعظم جو بھی فیصلہ کریں وہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مطابق ہو نا چاہیے ۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس تحریری فیصلے کے بعد دھمکی آمیز خط کا گیند ایک مرتبہ پھر صرف عمران خاں کے کورٹ میں آگیا۔
اگر پاکستان کے سیاسی منظر پر نظر دوڑائی جائے تو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بھی اپوزیشن کی متحدہ تحریک چلی تھی سفید ہاتھی امریکہ بہادر کے نمائندے ہنری کسنجر نے وزیر اعظم پاکستان کو عبرت کا نشان بنانے کی دھمکی دی تھی آج بھی دھمکی آمیز خط میں یہ نشاندہی موجود ہے اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہو ئی تو حکومت ہی نہیں مملکت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور اس وقت بھی متحدہ اپوزیشن بھی موجود ہے اس وقت بھی غیر ملکی سرمایہ کاری کا شور مچاتھا اس وقت بھی خرید و فروخت کی خبریں ڈھکی چھپی نہیں ، پھر بھی عمران خاں اور ان کے ہمنوا ایک دوسرے کو اقتدار بچنے کی طفل تسلیاں دیتے رہے ۔ ان سب کا دعویٰ تھا کہ اپوزیشن چاہے جتنے پاپڑ بیل لے آخری فتح عمران خان کی ہو گی کیسی دلچسپ بات ہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ فضل الرحمان مشترکہ پریس کانفرنس میں نمبر گیم میں 175 سے کامیابی کا دعویٰ کر رہے تھے عشائیہ میں 197 اراکین کی شرکت اور مزید منحرف ممبران کے رابطوں کے باوجود ڈیوٹی فل شیخ رشیداحمد حکومتی فتح کے گن گارہے تھے حالانکہ دھمکی آمیز خط کے بارے میں بھی مخبری ہو گئی ہے کہ وہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے از خود لکھوایا ہے اسکے باوجود عمران خان دھمکی آمیز خط کے سہارے آگے بڑھنے کے علاوہ قومی خطاب میں اپوزیشن کو میر جعفر اور میر صادق قرار دے کر قوم کے عذا ب سے ڈرانے سے باز نہیں آئے ۔مجموعی طور پر دھمکی آمیز خط کی تحقیقات قوم کا اجتماعی مطالبہ ہے تاکہ حقائق جانے جاسکیں لیکن ایسی روایات ہمارے ہاں ہر گز نہیں ، بحرانی وقت گزرنے کے بعد ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں مسلم لیگ نون کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم نوازشریف کے دور میں پاکستان کی جانب سے دھماکے کرنے پر امریکی صدر بل کلنٹن کی سنگین نتائج کی دھمکیاں ملتی رہیں جو وقت کے ساتھ ہی دفن ہو گئیں قومی سلامتی کمیٹی نے اس خط پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے داخلی امور میں مداخلت قرار دیا اس لیے صرف برہمی اور احتجاج ریکارڈ کرانے سے بات نہیں بنے گی ، دھمکی عمران خان کو نہیں وزیر اعظم پاکستان اور حکومت پاکستان کو ملی ہے لہٰذا اس دھمکی آمیز خط کی حقیقت تک پہنچنا ، پاکستان کی ذمہ داری ہے اس لیے کہ حکمران کوئی بھی ہو وطن عزیز کی سلامتی پر نہ کوئی سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے نہ ہی مصلحت پسندی اختیار کی جاسکتی ہے ماضی میں کیا ہوا؟ سخت ردعمل کا مظاہرہ کیوں نہیں کیا گیا لکیر پیٹنے کی بجائے ہمارے حساس قومی اداروں کو انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے قوم کو آگاہی ملے کہ سچ کیا اور جھوٹ کیا ہے ؟ تاکہ مستقبل میں ایسی سازشوں کا خاتمہ کیا جاسکے پاکستان کے آزمودہ دوست عوامی جمہوریہ چین کا صورت حال پر ردعمل قابل تعریف ہے کہ گریٹ پاور گیم کی خواہش میں چھوٹے ممالک کو نشانہ بنایا جائے اور نہ ہی ایشیا میں کسی نئی سرد جنگ کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جائے بلکہ اجتماعی ترقی اور خوشحالی کے لیے کسی قسم کی محاذ آرائی سے پرہیز کیا جائے ہم پاکستان کی خود مختاری کے تحفظ میں ہرممکن مدد دیں گے کیونکہ ماضی کی غلطیوں کو دوہرانے کا وقت گزر چکا ، اب کوئی سفید ہاتھی اگر چھوٹے ممالک اور درمیانے درجے کے ممالک کو سرد جنگ میں دھکا دیکر اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو خود نتائج بھگتے گا، صورت حال یقیناً تشویشناک تھی لیکن ایسے میں خان اعظم نے ایک انہونا دھماکہ کر کے پوری گیم بدل دی صدر نے اسمبلیاںتوڑ دیں اور معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان پہنچ گیا جبکہ صدر نے نگران وزیر اعظم کے لیے خان اعظم اور اپوزیشن لیڈر دونوں سے آئین کے مطابق دو دو نام مانگ لیے لیکن شہباز شریف اس اقدام کے لیے رضامند نہیں تھے کیوں کہ وہ کہتے تھے کہ پہلے اسمبلی بحال کی جائے پھر کوئی بات ہو گی۔ اسی دوران روس نے امریکہ کی مخالفت میں بیان داغ دیا ہے کہ حالانکہ امریکہ بہادر مسلسل انکاری ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ غیر ملکی دھمکیاں چھوٹے اور ترقی پذیر ممالک کا ہمیشہ نصیب بنیں اس لیے موجودہ حالات میں خاموشی ، مصلحت پسندی اور حقائق سے دوری نقصان دہ ثابت ہو گی ۔ قوم کو بتایا جائے کہ ہوا کیا ؟ معاملات کس نے اور کیوں بگاڑنے کی کوشش کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button