تازہ ترینتحریکخبریں

ن لیگ کے وکیل سے پوچھیں گے عوام کے پاس جانے میں کیا مسئلہ ہے؟ چیف جسٹس

اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں پی ٹی آئی اور صدر مملکت کے وکلا نے نئے الیکشن کی تجویز دے دی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے۔۔ ن لیگ کے وکیل سے پوچھیں گے عوام کے پاس جانے میں کیا مسئلہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں اسپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی ، چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل نے پنجاب اسمبلی کی صورتحال سےعدالت کوآگاہ کیا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قومی اسمبلی میں 3 اپریل والے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں ، ہم نے دوسری سائیڈ کو سننا ہے ، یک طرفہ فیصلہ نہیں دینا چاہتے۔

وکیل ن لیگ اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ لاہور میں حالات کشیدہ ہیں، ڈپٹی اسپیکر نے شام کو آج اجلاس بلایا تھا تاہم اسمبلی کا عملہ ڈپٹی اسپیکر کا حکم نہیں مان رہا، لگتا ہے آج بھی وزیراعلیٰ کا الیکشن نہیں ہو سکے گا۔

چیف جسٹس نے کہا آج بہت اہم کیس سن رہے ہیں، کوشش ہے کہ مقدمہ کو نمٹایا جائے، سیاسی طور پر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

جسٹس عطا بندیال کا کہنا تھا کہ عدالت پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ فیصلہ نہیں کر رہی، یکطرفہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں؟ پنجاب کے حوالے سے فی الحال مداخلت نہیں کر رہے، کوئی مسئلہ ہے تو درخواست دیں، سماعت کے آخرمیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے اپ ڈیٹ لیں گے۔

پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا ایم کیو ایم، ٹی ایل پی ،جماعت اسلامی کیس میں فریق نہیں، راہ حق اور باپ پارٹی بھی پارلیمان کا حصہ ہیں مگرفریق نہیں، ازخودنوٹس کی ہمیشہ عدالت کے اندر اور باہر حمایت کی ہے، عدالت کا مشکور ہوں کہ قوم پر مہربانی کرتے ہوئے نوٹس لیا۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عدالت کو کہا گیا ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ بدنیتی پر مبنی ،غیرآئینی ہے، بدوسری طرف آرٹیکل 5 کے تحت انہیں غدار کہا گیا ہے ، درخواست گزاروں نے عدالت سے آرٹیکل 69،95 کی تشریح کی استدعا کی، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ کسی آرٹیکل کو علیحدہ نہیں دیکھ سکتے مگر آرٹیکل95 کا خاص مقصد ہے۔

وکیل بابر اعوان نے مزید کہا کہ شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے، درخواست گزارچاہتےہیں سلامتی کمیٹی کا حوالہ نظراندازکیاجائے، اپوزیشن چاہتی ہےعدالت انکےحق میں فوری مختصرحکم نامہ جاری کرے۔

بابر اعوان نے سوال کیا کیاآئین پاکستان کا موازنہ بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ کے آئین سے کیا جاسکتا ہے؟ وہ ایک سجدہ جسے توگراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کونجات، سیاسی جماعت جس کی مرکز،صوبے،کشمیر،جی بی میں حکومت ہے، یہ کہتے ہیں اس سیاسی جماعت کو نظر انداز کردیں۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے دلائل میں مزید کہا کہ درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے وہ جمہوریت بچانے آئے ہیں ، میرا یقین ہے اس مقدمےمیں کوئی نقطہ انداز نہیں ہوگا، کیا پارلیمنٹ کی تمام کارروائی آرٹیکل 69 کی زد میں نہیں ، حالیہ صورتحال سندھ ہاؤس اورلاہور کےہوٹل کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

بابر اعوان نے سوال کیا کہ کیا سندھ ہاؤس ،لاہورکےہوٹل میں جو ہوا اسےنظراندازکیاجاسکتاہے؟ ب کیس میں جس برطانوی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا وہ لاگو نہیں ہوتا، اراکین کے کردار پر قرآن و سنت ،مفتی تقی عثمانی کا نوٹ بھی دوں گا، اسپیکر کی رولنگ پر نعیم بخاری دلائل دیں گے۔

وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہرشخص پر لازم ہے کہ آئین وقانون کی تابعداری کرے، ہر شخص آئین اور قانون کے تابع ہے، شہریوں پر لازم ہے کہ وہ ریاست کیساتھ وفادارہوں،جو باہر سے پاکستان آتے ہیں انہیں بھی حقوق حاصل ہیں ، دیگر ممالک کے آئین میں ایسے حقوق نہیں دیے گئے۔

چیف جسٹس نے بابر اعوان سے مکالمے میں کہا آپ کیا یہ اسپیکرکی رولنگ کاپس منظر بیان کررہےہیں، جس پر بابر اعوان نے جواب دیا کہ جی جناب یہ ہی پس منظر ہے تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تو پھر آپ پر لازم ہے کہ اس کاحتمی نتیجہ بھی بتائیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ میں بظاہر الزامات ہیں کوئی فائنڈنگ نہیں، کیا اسپیکر حقائق سامنے لائے بغیر ایسی رولنگ دے سکتا ہے؟ یہی آئینی نقطہ ہے جس پر عدالت نے فیصلہ دینا ہے۔

جسٹس عطا بندیال کا کہنا تھا کہ کیا اسپیکر آرٹیکل95 سے باہر جاکر رولنگ دے سکتا ہے جو ایجنڈے پر نہیں، اسپیکر کی رولنگ کا دفاع لازمی کریں لیکن ٹھوس مواد پر۔

بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ آپ کو 3راستے بتائے گئے ، جس پر چیف جسٹس نے بابر اعوان سے مکالمے میں کہا کہ راستے ہمیں نہ بتائیں راستے ہم خود نکل لیں گے، آپ حقایق بیان کریں۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بابر اعوان پرہی اعتراض کرتے ہوئے کہا آفیشل معاملات زیربحث لانا ہےتویہ سیاسی جماعت نہیں کہہ سکتی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا وفاقی کابینہ کی میٹنگ کب ہوئی تھی؟ جس پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ کابینہ اجلاس کی تاریخ معلوم کرکے بتاؤں گا، کیا کچھ باتیں ان کیمرا ہو سکتی ہیں؟ فارن آفس نے جو بریفنگ دی وہ عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فی الحال خط نہیں مانگ رہے۔

چیف جسٹس نے بابر اعوان کی ان کیمرا بریفنگ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا فی الحال ایسا کچھ نہیں ہے کہ ان کیمرا سماعت کریں۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ یہ رولنگ سے پڑھ دیں اس میں جو کچھ ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل کا نکتہ بھی صحیح ہے، ہم بھی فارن پالیسی کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہتے، ہم بھی اسے یہاں ڈسکس نہیں کرناچاہتے ،آپ واقعات بتائیں۔

وکیل پی ٹی آئی نے بتایا کہ پی ڈی ایم جماعتوں نے معاملہ پارلیمان میں لانےکامطالبہ کیا، تمام سیاسی جماعتوں کو تحریری نوٹس دیے گئے، تفصیل میں گیا توآپ کہیں گے یہ اسپیکر کے وکیل کو کہنے دیں۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ میں بات اشاروں میں بتا رہا ہوں، فلاں فلاں مسئلے پر وہ ملک اس ملک کے پرائم منسٹر سے ناراض ہے، اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو پھر سب ٹھیک ہے، تحریک عدم اعتماد اگر کامیاب نہ ہوئی تو پھرڈیش ڈیش ڈیش ، 8 مارچ کوتحریک عدم اعتماد آ جاتی ہے جس کا ذکر کہیں اور سے آیا۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی کمیٹی قومی سلامتی کا بائیکاٹ کیا، کمیٹی اجلاس کی تفصیل نعیم بخاری پیش کریں گے، مشیر قومی سلامتی نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دی تھی، نیشنل سکیورٹی کونسل کی میٹنگ نےسفارتی احتجاج کا فیصلہ کیا، کونسل نے قرار دیا پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی گئی۔

بابراعوان نےترجمان پاک فوج کی نجی ٹی وی سے گفتگو بھی پیش کر دی، جس میں ترجمان پاک فوج نےکہا جوقومی سلامتی کمیٹی میں کہاگیا وہی ہمارامؤقف ہے اور قومی سلامتی کمیٹی میٹنگ کےاعلامیہ سےمتفق ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کابینہ نے وزارت خارجہ کی بریفنگ پرکیا فیصلہ کیا؟ جس پر بابراعوان نے بتایا کہ مراسلے میں کہا گیا دوسرا ملک ہمارے وزیراعظم سے خوش نہیں، تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو کیا نتائج ہوں گے۔

اٹارنی جنرل نے کہا مناسب ہوگا خارجہ پالیسی پربات کسی سیاسی جماعت کاوکیل نہ کرے، جتنا رولنگ میں لکھا ہواہےاتنا ہی پڑھا جائے تو مناسب ہوگا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ یہ باتیں اسپیکر کے وکیل کو کرنے دیں جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کابینہ نے کیا فیصلہ کیایہ بتائیں۔

جسٹس جمال کا کہنا تھا کہ سیکشن5کہتاہےہرآدمی کوریاست سے وفادار ہونا چاہیے جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ
اگر کوئی وفادار نہیں ہے توایکشن لیاگیا ،اس الزام کے تحت تحریک کیسے مسترد کی جاسکتی ہے۔

جس پر بابراعون نے بتایا کہ ہماری اسمبلی بھی پارلیمانی کمیٹیزکےذریعےچلائی جاتی ہے ، جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ کوئی شبہ نہیں ہر شہری کو ریاست کا وفادار ہوناچاہیے، جن پر الزام لگایا گیا ان کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا۔

وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا، تحریک انصاف نے ارکان کیخلاف کارروائی کا فیصلہ کیا، پاکستان سب سے پہلے ہے،وزیر اعظم نےکابینہ میں احتیاط سے کام لیا، میں بھی احتیاط برت رہا ہو۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ بظاہریہ کیس الزامات کا ہے غلط ہیں یا درست تفصیل میں نہیں جاتے، آپ آرٹیکل 69 پر آتے ہیں تو ٹھیک ہے ، نہیں آتے تو آپ کی مرضی تو بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اتوار کو بھی عدالت کھلی ہم اس پر نہیں جاتے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہمارے شارٹ آرڈر میں پیراگراف 4اہم تھا، آپ ہمیں کسی اور طرف لیکر جا رہے ہیں، کیا معاملہ آرٹیکل 69 کا ہے کہ نہیں ؟ ہم نےفارن آئین پرانحصار کرنا ہے کہ نہیں کرنا یہ ہم نے دیکھنا ہے، ہم نے یہ کیس ختم کرنا ہے، اس کیس میں تاخیر ہمارے لئے مسئلہ بن رہا ہے۔

جسٹس عطا بندیال کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم میں اہم چیزڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کی آئینی حیثیت تھی، ہم اسپیکر کی رولنگ اور آرٹیکل 69 پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ آپ واقعاتی شواہد دے رہے ہیں کہ یہ ہوا تو یہ ہوگا، ان واقعات کو انفرادی شخصیات سےکیسے لنک کریں گے۔

جسٹس جمال مندوخیل کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے وزیر اعظم کچھ نہیں جانتے ، ابھی تحقیق ہورہی ہے، جس پر بابر اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم جو جانتے ہیں ملک کے مفاد میں نہیں بول رہے ، وزیر اعظم تفتیشی نہیں ہیں تفتیش تو کوئی تفتیش کار ہی کرے گا،بابر اعوان

جسٹس مندوخیل نے مزید کہا کہ ڈپٹی اسپیکرنے رولنگ میں بھی کہ تفتیش کی ضرورت ہے، بابر اعوان کا کہنا تھا کہ میمو کیس ابھی بھی زیر التواہے، جس پر چیف جسٹس نے مکالمے میں کہا کہ وہ ہمیں معلوم ہے۔

وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اسپیکر کا معاملہ ہے تو پھر پہلے انکے وکیل کو بات کرنے دیں، وزیراعظم کو جو علم ہے وہ ملکی مفاد میں بولنا نہیں چاہتے، وزیراعظم تفتیش کار نہیں اس لئے یہ کام متعلقہ لوگوں کو کرنے دیا جائے، حقائق متنازع ہوں تو اسکی تحقیقات ضروری ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بابر اعوان صاحب آگے چلیں ،یہ چیزیں ایک لائن میں بتا دیں، آپ اپنا پوائنٹ پڑھ لیں پھر ہم اوکے کہہ دیں گے، جس پر بابراعوان کا کہنا تھا کہ ملکہ نے کہا اجلاس ختم کریں ، برطانوی سپریم کورٹ نے کہا کوئی پارلیمانی اجلاس ملتوی نہیں کراسکتا ، پارلیمان اپنے ہاؤس کی خود ماسٹر ہوتی ہے، آرٹیکل 95کے مطابق کہاں لکھا ہےاسپیکر رولنگ نہیں دے سکتا۔

بابر اعوان نے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا جو نہیں لکھا وہ پڑھ نہیں سکتے، آرٹیکل 94 کےتحت صدروزیراعظم کو نئی تعیناتی تک کام کا کہہ سکتے ہیں، کہاں لکھا ہے کہ تحریک عدم اعتماد واپس نہیں لی جا سکتی؟ یہ کہاں لکھا ہے کہ اسپیکر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ نہیں دے سکتا؟ اگر کہیں لکھا نہیں ہوا تو اسے عدالت پڑھ بھی نہیں سکتی ، رولز بذات خود کہتے ہیں موشن کوووٹنگ کےعلاوہ بھی نمٹایا جاسکتا ہے۔

جس پرچیف جسٹس نے ریمارکس دیے لیو گرانٹ کرنے سے پہلے کر سکتے ہیں تو بابر اعوان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد نمٹانے تک اجلاس مؤخر نہیں ہو سکتا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کیا عدم اعتماد کو ووٹنگ کےعلاوہ بھی نمٹایاجا سکتا ہے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدم اعتماد کو پیش کرنے کی منظوری سے پہلے نمٹایا جا سکتا ہے ، جس پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی رولز کو آرٹیکل 95 کیساتھ ملا کر ہی پڑھا جا سکتا ہے ، اجلاس میں اسپیکر کو اختیار ہے کہ وہ کوئی اور بزنس بھی لے سکتا ہے، آپ اجلاس ریگولیٹ کرنے کی بات کررہے ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ آپ یہ بتائیں اسپیکرنےجوکیااسےاختیار حاصل تھایانہیں، جس پر بابراعوان نے بتایا کہ پارلیمان کے اپنے رولز ہیں وہ کوئی قانونی چارہ جوئی کاادارہ نہیں، اسپیکرکی عدم موجودگی میں ڈپٹی اسپیکرفرائض سرانجام دیتے ہیں، اسد قیصر کیخلاف 3اپریل کو مرتضیٰ عباسی نےتحریک عدم اعتمادجمع کرائی۔

وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ پشتون کلچر میں غیرت مندی سب سے اوپر ہوتی ہے، اسپیکر نےتحریک عدم اعتماد آنے پر ہی اجلاس کی صدارت نہ کرنے کا فیصلہ کیا، قانونی طور پر اسپیکر اجلاس کی صدارت کرنے کے اہل تھے۔

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ اسپیکر مرضی سے اجلاس میں نہ آئے تو غیرحاضر نہیں کہا جا سکتا، تو بابر اعوان نے کہا کہ رولز میں لکھا ہے اسپیکر کسی وجہ سے نہ ہو تو ڈپٹی اسپیکر صدارت کریں گے۔

جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈپٹی اسپیکر اپنی مرضی سے نہیں بیٹھے ، مگر رولز کے مطابق صرف نوٹس پراسپیکر پر پابندی عائدنہیں ہوتی ، ڈپٹی اسپیکر رولز کے تحت اجلاس کرسکتے ہیں اپنی مرضی سے نہیں تو بابر اعوان نے کہا اس کا جواب ڈپٹی اسپیکر کے وکیل دیں گے۔

بابر اعوان کا دلائل میں کہنا تھا کہ ایم این اے نےٹی وی پر کہا کہ ہارس ٹریڈنگ ہوئی ،ممبرز خریدے گئے، ایک وکیل نے کہا چھانگا مانگا نہیں رہا، اب سندھ ہاؤس ، آواری چلے گئے ، جس ادارے کے اندر یہ ایکسرسائز ہو رہی وہ اصول اور ضابطے بتاتا ہے، ذوالفقاربھٹوآئین دینےکے بعد سولی پر لٹکا تھا، وہ بھی ریفرنس زیر التوا ہے۔

عدالت نے استفسار سیاست میں مداوا کیا ہوتی ہے؟ وکیل پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ سیاست میں مداواعوام کے پاس جانا ہوتا ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس میں کہا کہ سیاسی جماعتوں کوبھی سوچنا چاہئے لوگ کیوں چھوڑ کر جارہے ہیں، آرٹیکل 63 اے یہی مداوا دے رہا ہے، جبکہ چیف جسٹس نے بابر اعوان سے مکالمے میں کہا آپ کہہ رہے ہیں کہ مستقل نااہل کریں، سیاستدان کیا کر رہے ہیں یہ توسیاسی مسئلہ ہے سیاسی جماعت دیکھے۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پی پی چیئرمین نے بھی کہا ہے کہ وہ الیکشن کیلئے تیار ہیں، الیکشن کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا، انڈیا ، بنگلادیش نے ای وی ایم کاراستہ نکالامگر ہم نہیں مانتے، یہاں سے راستہ بنناہے تو میں سعادت سمجھتا ہوں کہ تاریخ کا حصہ بنوں، ڈیڈلاک روکنے کیلئےآپ نےازخود نوٹس لیا اورکہا ماورائےآئین کام نہیں ہوگا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وہی چہرے ہر بار ایک سے دوسری جگہ نظر آتے ہیں،آئین کے تحفظ کا حلف لیا ہے، وہ فیصلہ کریں گے جوعوام کے مفاد اور سب کوماننا لازم ہوگا۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا فیصلہ ادھر آئے یاادھر ملک متاثر ہو گا ، نگران وزیر اعظم کےانتخاب میں دو دن رہ گئے ہیں اللہ اس ملک پر راضی رہے آپ پر راضی رہے ، راستہ نتخابات ہے میری بس یہی گزارش ہے۔

بابر اعوان کے بعد صدر مملکت کے وکیل بیرسٹرعلی ظفر کے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا صدر مملکت کے اقدام کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جا سکتا ، اس معاملے کاحل نئے الیکشن ہی ہیں۔

صدر کی جانب سے آرٹیکل 184 تھری کے تحت درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا گیا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا
ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے دلائل کا آغاز کروں گا، آرٹیکل 69 عدالت اور پارلیمان کے درمیان حد مقرر کرتا ہے، آرٹیکل 69 آگ کی دیوار ہے ، عدالت اس دیوار کو پھلانگ کر پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہمارا آئین پارلیمنٹ اورعدلیہ کے درمیان ایک حد قائم کرتا ہے ،اگر اس حد کو پارکیا جائے تو تباہی ہو گی اور عوام متاثر ہو گی ، پارلیمنٹ عدالت کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرتی ،عدالت پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرسکتی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جہاں آئین کہ خلاف ورزی ہو وہاں بھی مداخلت نہیں کی جاسکتی؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ پروسیجر اور آئینی خلاف ورزی میں فرق کرنا پڑے گا ، ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ کیخلاف عدالت سے رجوع پارلیمنٹ میں مداخلت ہے، اسپیکر کو ہدایات دراصل پارلیمنٹ کو ہدایات دینا ہوگا جوغیرآئینی ہے۔

جسٹس عطا بندیال نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ آئین کی خلاف ورزی کرےکیاتب بھی مداخلت نہیں ہوسکتی؟ علی ظفر کا کہنا تھا کہ کیا غیر آئینی ہے اور کیا نہیں اس پر بعد میں دلائل دوں گا ، جسٹس مقبول باقر نے ریٹائرمنٹ پر اداروں میں توازن کی بات کی تھی، باہمی احترام سے ہی اداروں میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے ، پارلیمنٹ کو اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہوتا ہے؟ جس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 91 کے تحت وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہے، عدالت کو اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا وزیراعظم کی اسمبلی تحلیل ایڈوائس کا جائزہ لے سکتے ہیں؟ صدر کے وکیل نے بتایا کہ اسمبلی تحلیل ایڈوائس رولنگ کے نتیجے میں ہے تو جائزہ نہیں لیا جاسکتا، اسمبلی سے باہر کا جائزہ لے سکتے ہیں مگر پارلیمنٹ کارروائی بنیاد پر نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کا مطلب ہے کہ رولنگ ریورس نہیں کر سکتے، جس پر علی ظفر نے کہا جی رولنگ ریورس نہیں ہو سکتی، آرٹیکل 5نہ ہو توبھی ہرشہری آئین پر عملدرآمد کا پابند ہے۔

جسٹس عطا بندیال کا کہنا تھا کہ درخواست گزاروں کے مطابق آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی ہے، یہ کہتے ہیں آئینی خلاف ورزی پر پارلیمانی کارروائی کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، عدالت اختیارات کی آئینی تقسیم کا مکمل احترام کرتی ہے۔

وکیل علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ عدالت نےمداخلت کی تو پارلیمنٹ کا ہر معاملہ عدالت آجائے گا، اسپیکر کوہدایات دراصل پارلیمنٹ کو ہدایات دیناہوگاجوغیرآئینی ہے۔

چیف جسٹس نے صدر کے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ آپ کا نکتہ دلچسپ ہے کہ اسپیکر رولنگ غلط ہو توبھی اسے استحقاق ہے، رولنگ کے بعد اسمبلی تحلیل کرکے انتخابات کا اعلان کیا گیا، عوام کے پاس جانے کا اعلان کیا گیا ہے، ن لیگ وکیل سے پوچھیں گے عوام کے پاس جانے میں کیا مسئلہ ہے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ الیکشن میں جانے سےکسی کے حقوق کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟ جسٹس مندوخیل نے بھی استفسار کیا
کیا صدر نے وزیر اعظم سے اسمبلی توڑوانے کی وجہ پوچھی۔

بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ وزیراعظم ایڈوائس کرے تو صدر اسمبلیاں تحلیل کر دیتا ہے، اسمبلی اس کے لیے کوئی خاص وجہ بتانا ضروری نہیں ہوتی، وزیر اعظم کی ایڈوائس پر صدر کیلئےعمل کرنا ضروری ہے وجہ پوچھنا نہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 69 اپنی جگہ لیکن جو ہوا اس کی بھی کوئی مثال نہیں ملتی، اگر اسے ہونے دیا گیا تو اس کے بہت منفی اثرات ہوسکتےہیں ، ہم اس کیس کو جلد از جلد نمٹانا چاہتے ہیں، جس پر وکیل علی ظفر نے کہا میں جلد ہی اپنے دلائل مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

جسٹس عطا بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ بیرسٹر صلاح الدین نے کل ہٹلر والی غلط مثال دی تھی، ہٹلر دور میں جرمن پارلیمنٹ ، حکومت رولنگ کے ذریعےبرقرار رہی تھی، موجودہ کیس میں عوام سے اپیل کی گئی جس میں کوئی برائی نہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا آمر کبھی الیکشن کا اعلان نہیں کرتا۔

وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ روزے کی وجہ سے انرجی ڈاؤن ہے آج دلائل نہیں دےسکوں گا، جس کے بعد اٹارنی جنرل اور نعیم بخاری کی کل دلائل دینے کی استدعا کی، چیف جسٹس نے کہا وقت کم ہے اس لئے کوشش ہے مقدمہ جلدی نمٹایا جا سکے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بظاہر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے جارہی تھی، جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آگئی، ہماری کوشش ہےمعاملےکو جلد مکمل کیا جائے۔

جسٹس عطا بندیال کا کہنا تھا کہ عدالت کل اعظم نذیر تارڑ کی درخواست کو دیکھے گی، کل فیصلہ کریں گے ہم نے آپ کو یہاں سنیں یا ہائی کورٹ کے پاس بھیجیں، آپ کو اپنے مسائل کا خود حل نکالنا چاہیے۔

چیف جسٹس پاکستان نے مزید کہا کہ کل لارجر بینچ صبح ساڑھے 9 بجے بیٹھے گا، ہم نے کوشش کی روٹین کے مقدمات متاثر نہ ہوں، اب وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔

سپریم کورٹ میں اسپیکر رولنگ ازخود نوٹس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button