Editorial

سفارتی مراسلہ پر نئی بحث کا آغاز

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی رولنگ اور قومی سلامتی کمیٹی کا37 واں اجلاس ملکی سیاست میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ جہاں تک ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا معاملہ ہے تو سپریم کورٹ میں جناب چیف جسٹس پاکستان ،جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان پر مشتمل لارجر بینچ روزانہ کی بنیاد پر اِس معاملے کی سماعت کررہا ہے اور امکان ہے کہ آج بروز بدھ اِس پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے مفصل رہنمائی آجائے گی لیکن اِسی معاملے پر دوسری طرف مطالبات پر مبنی ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے،
جس کا پس منظر یہ ہے کہ  31مارچ کو وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا اور اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں دفاع، توانائی، اطلاعات، داخلہ خزانہ، انسانی حقوق، منصوبہ بندی و ترقی کے وفاقی وزرا سمیت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس، معاون خصوصی قومی سلامتی سمیت سنیئر حکام شریک ہوئے اور کمیٹی کو پاکستانی سفیر سے غیرملکی اعلیٰ عہدیدار کی باضابطہ کمیونیکیشن سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے غیر ملکی سفارتکار کی استعمال کی گئی زبان پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ غیرملکی مراسلہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے،
پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی بھی طرح کی مداخلت ناقابل برداشت ہے اور اندرونی معاملات میں مداخلت کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔اعلامیے کے مطابق غیر ملکی آفیشل کی استعمال کی گئی زبان غیر سفارتی ہے، سفارتی آداب مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ ملک سے سخت احتجاج کیا جائے گا اور غیرملکی مراسلے کا جواب سفارتی آداب کومدنظر رکھ کردیا جائے گا۔متعلقہ ملک کو اسلام آباد اور اس کے دارالحکومت میں سخت احتجاجی مراسلہ دیا جائے گا جبکہ سخت مراسلہ باضابطہ چینل کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔ یہ تو تھا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جو ہم نے من و عن بیان کیا ہے اِس اجلاس میں جو مراسلہ زیر بحث آیا دراصل یہ وہی ہے جو 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ عام سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے لہراتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، میرے پاس خط ہے اور وہ ثبوت ہے۔
وزیراعظم کے دعوے کے بعد اب اپوزیشن کی جانب سے مراسلہ پر کئی طرح کے سوالات اٹھائے جارہے ہیں لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جب قومی سلامتی کمیٹی نے اِس مراسلہ  کی صداقت پر اعلامیہ کی صورت میں مہر ثبت کردی تھی تو پھر اِس معاملے کی جانب سنجیدگی ظاہر کی جانی چاہیے تھی جو نہیں کی گئی۔ متذکرہ اعلامیہ کی روشنی میں اِس ملک کے آفیشنل کو طلب کرکے نہ صرف احتجاج کیاگیا بلکہ احتجاج پر مبنی مراسلہ بھی تھمایاگیا اور ایک سے زائد بار امریکہ نے اِس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور ایک روز قبل بھی امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اِس مراسلہ کے معاملے پر الزامات کو مسترد کیا ۔
واضح رہنا چاہیے کہ ترکی، روس اور چین پہلے ہی اِس معاملے اپنا موقف ظاہر
کرچکے ہیں اور روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک بار پھر اِس معاملے پر تفصیلی موقف سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو فواد چودھری جو اُس وقت تک وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات تھے اُنہوں نے اِسی خط کا حوالہ دیکر مختصر تقریر کی جس کے مندرجات سبھی کے سامنے ہیں اور اِسی تقریر کو بنیاد بناتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت کسی بھی غیر ملکی طاقت کے کہنے پر حکومت تبدیل نہیں کی جا سکتی لہٰذا اپوزیشن کی 8 مارچ کو وزیراعظم کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کو آئین سے انحراف قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا جاتا ہے اور قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیا جاتا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے متحدہ اپوزیشن اِس سارے معاملے کو جھوٹ اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے اِس سے دور رہنے کے بعد اب قومی سلامتی کمیٹی کے عسکری ارکان سے وضاحت مانگ رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہاہے کہ معاملہ تحریک عدم اعتماد تک نہیں رہا اب ملکی سلامتی کا ہے، تاخیرنقصان دہ ہوگی۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ اداروں کوسوچنا ہوگا پاکستان کی وفادار قیادت کو غداری کے الزام میں دھکیلنے کے کیا نتائج ہونگے۔ پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ترجمان پاک فوج وضاحت کریں کیا کمیٹی نے 197 ارکان کو بیرونی سازش کاحصہ قراردیا ؟اور نون لیگ کے صدر شہبازشریف نے کہاکہ عمران خان اور اس کے حواریوں نے آئین کی واضح خلاف ورزی و آئین شکنی کی۔
دراصل اعلیٰ سطح پر اِس معاملے پر قومی اسمبلی کا ان کیمرہ اجلاس بلانے کی بات بھی ہوئی اور دستیاب معلومات کے مطابق حزب اختلاف اِس سارے معاملے سے یکسر پرے رہی اور پھر ڈپٹی سپیکر نے اِسی معاملے کو بنیاد بناکر تحریک عدم اعتماد کو مسترد کیا۔ ہمیں تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے سارا فوکس اِسی مراسلے  پر رکھا اور قومی سلامتی کے اداروں کو بھی اِس معاملے میں آن بورڈ لیا جس کی واضح مثال قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اور اُس کا اعلامیہ ہے اور درحقیقت یہ اعلامیہ اُس مراسلہ کی صداقت پر مہر کے مترادف ہے لیکن دوسری طرف حزب اختلاف اپنی نمبر گیم پوری کرنے میں مگن رہی شاید اُنہیں یہ یقین تھا کہ حکومت بھی اراکین اسمبلی کی واپسی اورجوڑ توڑ کے لیے ایسا ہی کررہی ہوگی مگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے وہ سرپرائز دیا جو بقول آصف علی زرداری کے، اپوزیشن میں زیر بحث تو آیا تھا لیکن دیگر شرکا نے خیال ظاہر کیا تھا کہ حکومت ایسا نہیں کرسکتی مگر حکومت نے ویسا ہی ہوا جس کے امکان کو حزب اختلاف نے رد کیا تھا چونکہ وزیراعظم عمران خان حزب اختلاف کی سرگرمیوں کو امریکہ کی خواہش سے مشروط کررہے ہیں اور ابتک سامنے آنے والے مواد سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کے پاس اقتدار کی وجہ سے اُن کے پاس بھرپور معلومات اور شواہد ہیں جن کو وہ حزب اختلاف کے استعمال خاص موقعے پر استعمال کرسکتے ہیں۔ بات کو سمیٹتے ہوئے ہم فقط اتنا ہی گذارش کرنا چاہیں گے کہ سیاسی معاملات سے قومی سلامتی کے اداروں کو پرے ہی رکھنا چاہیے جیسا کہ اسٹبلشمنٹ کئی بار واضح طور پر قومی سیاست سے اپنی لاتعلقی ظاہر کرچکی ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button