Column

غلامی قبول نہیں …… ناصر نقوی

ناصر نقوی
کسی بھی آزاد ریاست کے لیے کسی بھی مفاد میں غلامی قبول کرنا اچھی بات نہیں۔ اس لیے کہ آزاد ریاست کے لیے دی گئی قربانیوں سے منہ موڑنا کسی بھی صورت حال میں جائز نہیں۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ایجنڈے پر اقتدار کے لیے مصلحت پسندی میں خاموش رہنا بھی ملکی مفاد پر سمجھوتا ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے مجھے غلامی قبول نہیں، مجھے اس بات کا علم ہے کہ ماضی میں آزاد پالیسی کے ردعمل پر بیرونی طاقتوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلوائی تھی، اس وقت بھی بیرون ملک سے میری حکومت گرانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس حوالے سے مجھے تحریری دھمکی بھی دی گئی ہے ۔ حقیقت میں ہماری آزاد خارجہ پالیسی کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بھٹو کے خلاف بھی ایسا ہی ماحول بتایا گیا تھا اور پھر بھٹو کو پھانسی دے دی گئی لیکن جب اور اَب میں واضح فرق ہے ۔ وقت بدل چکا ہے اس وقت بلاول ہوس اقتدار میں نانا کے قاتلوں کے ساتھ نہ صرف بیٹھا ہے بلکہ ایسے لوگوں کے کہنے پر چل رہا ہے جنہیں پاکستان اور پاکستانیوں سے کوئی سروکار نہیں ، ہم نے ایسے نقاب پوشوں کو بے نقاب کرنے کی ٹھان رکھی ہے کیونکہ ملکی دولت لوٹنے والے چوروں ، ڈاکوئوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جاسکتا ، ’’میں نہیں چھوڑوں گا ‘‘ کا نعرہ لگایا تو تمام چور گھبرا کر اکٹھے ہو گئے۔ لندن پلان کے تحت پیسہ باہر سے آرہا ہے اور ہمارے معصوم لوگ جانے انجانے میں استعمال ہو رہے ہیں۔ مجھے ملنے والا دھمکی آمیز خط انتہائی حساس ہے، جس میں تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پر سنگین حالات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے میں یہ خط قومی تقاضوں کے تحت عام نہیں کر سکتا ۔لیکن اعلیٰ قومی مفاد میں چیف جسٹس آف پاکستان کو دکھا سکتا ہوں تاہم یہ حقیقت ہے کہ میں ڈرنے ، جھکنے اور گھبرانے والا آدمی نہیں ، خواہ کچھ بھی ہو یہ بات اٹل ہے کہ غیر ملکی آقاؤں کی خواہش پر مجھے غلامی قبول نہیں ،یہ باتیں ایک سے زیادہ مرتبہ عمران خان نے کیں ۔
ماضی میں جھانکیں تو ہمیں بالکل ایسے ہی
الفاظ کی تکرار کرتے ملک کے پہلے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بھی نظر آتے ہیں انھوں نے تاشقند کی بلی کو تھیلے سے باہر نکال کر سیاسی ہلچل اور ملکی مفاد ات کو نقصان پہنچنے کی نشاندہی اسی طرح عوامی اجتماعات میں کی لیکن وہ پھانسی چڑھ کر دنیا چھوڑ گئے۔ تاشقند کی بلی تھیلے سے باہر نہیں آئی ، ماضی کے سیاسی حالات میں قطری خط بھی بڑا اہم رہ چکا ہے لیکن شور شرابے ، ہنگامہ خیزی کے بعد وہ بھی منظر عام پر نہیں آسکا ۔ موجودہ خط وزیر اعظم نے جلسہ عام میں لہرا کر سرپرائز دیا ۔ پھر بھی عام لوگ اس سے متاثر نہیں ہو سکے البتہ پرویز الٰہی کی بطور وزیر اعلیٰ نامزد گی موجودہ سیاسی حالات اور تحریک عدم اعتماد کی فضاء میں اہم ثابت ہوئی۔ مبصرین کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم نے حقیقی سرپرائز دے دیا۔ پرویز الٰہی نے بھی اس نامزدگی اور اعتماد پر شکریہ ادا کر دیا ، قاف لیگ کے کارکنوں نے بھی مٹھائیاں تقسیم کرتے ہوئے پنجاب کے روایتی بھنگڑے سے صوبے بھر میں خوشی کا اظہار کیا لیکن حقیقت یہی ہے کہ ابھی کھیل ختم نہیں ہوا ، ابھی سیاست کے امتحان اور بھی ہیں اگر وفاق میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو کسی بھی صورت پرویز الٰہی پنجاب میں اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکیں
گے اور اگر ڈبل گیم کر کے پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ بن بھی گئے تو یہ ان کی بھول ہو گی کہ شہباز شریف اور اپوزیشن انہیں برداشت کرے گی ، حالانکہ ان کا ماضی کے حوالے سے ریکارڈ اچھا ہے۔ پھر بھی پرویز الٰہی کو بھر پور سیاسی بصیرت سے مشکلات کا ازالہ کرنا ہوگا ۔ فی الحال شہباز شریف اور آصف علی زرداری اس بات پر متفق ہیں کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ اپوزیشن کا نامزد کردہ ہی ہوگا ۔وزیر اعظم کی یہ نامزدگی ترپ کی چال ہے جو کسی بھی صورت میں پرویز الٰہی کے گلے کی ہڈی بن سکتی ہے لیکن حالات کی تبدیلی کے پیش نظر پرویز الٰہی بھی اگر عمران خان کی منفرد صلاحیت یو ٹرن سے فائدہ اٹھانے کی ٹھان لیں تو وہ اپوزیشن سے غیر مشروط معاہدہ کر کے ان کی ایک سالہ غلامی قبول کر سکتے ہیں تاہم انھیں یاد رکھنا ہو گا کہ یہ دور ماضی کی طرح کا ہر گز نہیں گزرے گا اور ہو سکتا ہے کہ پرویز الٰہی کو ان کے اپنے انداز میں کام بھی نہ کرنے دیا جائے اس لیے کہ پنجاب اور خاص طور پر لاہور مسلم لیگ نون کا قلعہ کہلاتا ہے جہاں صرف شہباز شریف نہیں مریم نواز بھی ایک حقیقت ہیں جنہیں پرویز الٰہی ایک آنکھ نہیں بھاتے ، ایسے میں پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ بننے کے باوجود کارکردگی کے اعتبار سے صفر ہو سکتے ہیں لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ بنیں یا نہ بنیں مشکلات کا شکار رہیں گے اور اگر اپوزیشن نے آنکھیں متھے پر رکھ لیں تو اول پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ نہیں لے سکیںگے اور دوئم کامیابی کی صورت میں بھی اپنا آئینی دور مکمل نہیں کر سکیں گے یعنی اپوزیشن اور حکومت کی غلامی میں انہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
ایک بات درست ہے کہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں لندن ہمیشہ اہم رہا ،ہر دور میں لندن پلان سے ملک میں سیاسی بحران کی کوشش کی گئی اور آمرانہ حکومت کے خلاف جمہوری اقدامات اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ملکی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں نے میثاق جمہوریت کا معاہدہ بھی لندن میں ہی کیا جس پر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف نے دستخط کیے تھے، اس وقت سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف لندن میں مختلف سرگرمیوں میں مصروف ہیں حکومتی وزراء جن شخصیات سے ملاقاتوں کا دعویٰ کر رہے ان کی بھی تردید کسی ذمہ دار نے نہیں کی ۔ لہٰذا عدالت عظمیٰ کو درخواست گزار کو اعلیٰ قومی مفاد میں مثبت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا کوئی حل نکالنا ہو گا تاکہ دھمکی آمیز خط کے حقائق قوم کے سامنے آ سکیں کیونکہ پاکستان ایک آزاد مملکت ہے جس کی نظریاتی اور عسکری سرحدوں پر کسی کی مداخلت برداشت نہیں کی جاسکتی لہٰذا سازشی عناصر اور دشمن ممالک کے آلہ کاروں کو بے نقاب کیا جائے اس لیے کہ ہمیں غلامی قبول نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button