Column

جمالو ؔزیر لب تبسم ! ….. قادر خان افغان

قادر خان افغان
حکومت جائے گی یا نہیں ، چلے گی یا نہیں ، عدم اعتماد کامیاب ہوگی یا ناکام ، کیا ہوگا ، کیسے ہوگا ، بس یہی ایک موضوع ہر زباں پر رہا۔ کوئی پکار تا رہا کہ کس فریب میں مبتلا ہو تمہیں ایک دن بھی وحدت و ہم آہنگی فکر ونظر کا نصیب نہیں ہوسکتا۔ بالآخر وقت اسی چیخ و پکار میں کٹ گیا اور جب فیصلہ سامنے آیا تو سارے ملک میں اٹھایا گیا قدم تشتت و افتراق کا جہنم اور شعلہ زار بن رہا تھا ۔ بار بار چاہِ بابل کے ان جادوگروں کی یاد تازہ ہو رہی تھی جو صورت کے اعتبار سے تو فرشتے لیکن عمل قول و فعل میں تضادات سے بھرا پڑا تھا ۔ گلی گلی ، محلہ محلہ اختلاف و افتراق کے شیاطین ناچنے لگے تو کچھ رو رہے تھے ، کہیں تہنیت آمیز تحائف دلنشین تھے تو کہیں گالم گلوچ کی آوازیں کان میں پڑ رہی تھیں ۔وقت حیراںکہ کیا کریں ، کہیں ’غداری‘‘ تو کسی کو’ ایمان‘ کے میزان میں تولا جارہا تھا ۔ خطرہ تھا کہ کہیں فساد برپا نہ ہوجائے، عالم یہ تھا کہ باہر کی آگ کی تپش اس قدر زیادہ تھی کہ گھر میں چولھے میں آگ بھی نہیں جل سکی کیونکہ سب کچھ پہلے ہی راکھ ہو جانے کا گمان دے رہا تھا ۔
کرنے والوں نے جو کچھ کرنا تھا کرلیا اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوگئے ، اب اخبارات میں مقالات شائع اوراداریئے لکھے جارہے ہیں ، قرار دادیں پاس ہورہی ہیں ، بڑے بڑے لیڈروں کے بیانات شائع ہو رہے ، وزراء کے تاثرات نشر ہو رہے ہیں ، یہ سب کچھ ہورہا ہے اور جمالو ؔ ، دور کھڑی ، نہایت خاموشی سے ایک تبسم زیر لبی کے ساتھ ، بھس میں ڈالی ہوئی چنگاری کی شعلہ خزیوں کا تماشہ دیکھ رہی ہے ، ان تمام تردیدی اقدامات اور اس امر پر زوردیا جاتا رہا کہ جو کچھ ہوا وہ ’’ غیر جمہوری ‘‘ تھا ۔ بعض سادہ لوح ابھی تک اس فریب میں مبتلا ہیں کہ جمہوریت نامی نظام میں ایسا نہیں ہونا چاہے تھا ، حالاں کہ جمہوریت میں یہ پہلے ہی بدرجہ اتم موجود ہے تو جمہوریت کی روح کو اساس ،سمجھنے والوں کو کیا دشواری کہ یہ سب کچھ جمہوری نہیں تھا ۔ پکار پکار کر جب کہا جاتا رہا کہ اس نظام میں بندوں کو تولانہیں بلکہ گنا جاتا ہے تو اس پر کوئی غورکرنے کو تیار ہی نہیں۔ استدعا کرتے رہے کہ ایسے تمام اُن
اقدامات کا جذبہ محرکہ تو سمجھیں کہ اس سے عوام کو کیا فائدہ ہوتا ہے تو بات ہنسی میں اڑا دی جاتی۔ایک سیاسی جماعت تو دوسری سیاسی پارٹیاں ہیں ، اس فرق کے ساتھ بعض نے فروعی مفادات کے لیے مذہب کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کی آڑ بنا ئے رکھا ، کیونکہ یہ جانتے ہیں کہ اس ملک میں مذہبی نقاب کی اوٹ میں سیاسی کامیابی بڑی آسان اور اس میں ہر شرپسندی اور ہر تخریب کو جائز سمجھ لیا جاتا ہے ، ہر جھوٹ کا شمار وجوہ نظریہ ضرورت کے تحت بولا جاتا ہے ، ہر فریب کا نام سلامتی کی مقدس جھاڑیوں میں تلاش کرلیا جاتا ہے ، اس میں اپنے سوا ، ہر حکومت ابلیسی ؔ قرار پاتی ہے اور ہر لیڈر فاسق و فاجر اور ہر عالم ؔغیر معتبر ۔
آگاہ رہیں کہ یہ خالص اقتدار کی جنگ تھی جو یہاں مسلسل لڑی جا تی رہی اور جاتی رہے گی ، قیادت کے منصب کے لیے جو سب کچھ کیا گیا، وہ جاری رہے گا کیونکہ یہ سب کا وتیرہ رہا ہے۔ اقتدار چھیننے کے لیے یہ عمومی طریقہ کار ہوتاہے کہ ملک میں مسلسل شور مچاتے رہیں کہ پاکستان کو بیرونی مداخلت اور اندرون خانہ سازشی عناصر کا سامنا اور ملک تاریخ کے نازک ترین دور سے گذر رہا ہے ۔ یہ سنتے سنتے کئی دہائیاں گذر گئی لیکن ملک
نازک دور سے ابھی تک نکل ہی نہیں سکا ، سفر سقر کا اختتام کب ہوگا ، شاید اس سے کوئی بھی آگاہ نہیں۔ جب بھی جمہوری نظام کے تحت ہی حکومت سازی ہوتی ہے تو کوئی بھی فریق ہو شور مچانا شروع کردیتا ہے کہ یہ کام ان کے سپرد ہونا چاہیے تھا ، چاہے کوئی کسی بھی طریقہ سے مسند اقتدار تک پہنچا ہو ، وہ اس سے پہلے پہنچنا چاہنے کی خواہش رکھتے لیکن ہما ؔکسی اور کے سر پر رکھ دیا جاتا ۔
پارلیمنٹ اشرافیہ کی آجامگاہ بن چکی جس کے راستے میں ایک عام آدمی کا گذر بھی نہیں ہو سکتا ۔ انتخابی عمل میں تو پہلے ہی اہل و قابل شخصیات صرف اس لیے خاموش ہوجاتی ہیں کیونکہ ان کے پاس تو پولنگ ایجنٹس پورا کرنے کے لیے درکار رقم و اخراجات کا وسیلہ ہی نہیں ہوتا ، کہاں تو وہ کروڑوں روپوں کی دوڑ میں شامل ہوکہ قانون سازی کے آخری اختیارات ان کے بھی سپرد ہونے چاہئیں  (اس کا نام ان کی اصطلاح میں ’’ جمہوری نظام ‘ ‘ ہے ) لیکن جو ان سے بڑھ کر کاروبار سیاست میں بھاری سرمایہ کاری کے باوجود شکست سے دوچار ہوجاتے ہیں وہ ہر حکومت اور حکومت کی مشینری کے ہر پُرزے میں برابر کیڑے ڈالتے، نکالتے اور اس طرح ملک میں انارکی و خلفشار کے لیے نفرت پھیلاتے رہتے ہیں ، یہ کچھ مسلسل ہوتا رہتا ہے اور مختلف وقفوں کے بعد اس قسم کا قدم اٹھایا جاتا ہے جس سے اپنی قوت کا اندازہ ہوجائے،
خلفشارانگیزی کا بھی اسی قسم کا ٹیسٹ ہوتا ہے ، یہ کوئی نئی بات نہیں ، اہم مواقع پر اسی قسم کی نزاع پر قوم کے سامنے افتراق و انتشار پر جھوٹے آنسو بہاتے آگے بڑھتے ہیں۔
اس سارے قصہ میں جس کا احساس کسی کو کروٹ چین نہیں لینے نہیں دیتا یعنی یہاں حکم میرا چلے گا کسی اور کا نہیں اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو میں اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا ، وہ اپنے مقصد و موقف کو اس دھڑلے سے بیان کرتے ہیں کہ دوسری طرف عوام یہ تسلیم کرے کے باوجود کہ فلاں جماعت کس طرح ملک میں انتشار پھیلا رہی ہے تو شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپا لیتے ہیں ، خیال رہے کہ جو بھی مذہب کا لبادہ اوڑھ کر عوام کے ذہنوں میں اپنے فروعی مقاصد کے لیے انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ کسی سے تو کیا ، ملک و قوم سے وفا کے نام نہاد دعوی کرتے رہے ہیں۔ اجتماعات سے خطاب کرنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے سیاسی نظریات عوام کے ذہنوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی۔ہر وقت ملک کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے درپے رہے لیکن اس قسم کے فروعی مقاصد کے حصول کے لیے سعی کرنے والوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کی ذمہ داری کسی ایک فرد ، سیاسی جماعت یا ایک ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button