تازہ ترینخبریںپاکستان سے

سپریم کورٹ کا لارجر بینچ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر آج سماعت کرے گا

ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کے بعد وزیراعظم کی تجویز پر صدر عارف علوی کے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کی قانونی حیثیت پر سپریم کورٹ کا لارجر بینج آج سماعت کرے گا۔

خیال رہے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی جانب سے اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف پیش کی گئی تھی تحریک عدم اعتماد بغیر ووٹنگ مسترد کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ازخود نوٹس لیا تھا۔

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل تین رکنی بینج نے ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھےکہ وزیراعظم اور صدر کے تمام احکامات سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوں گے۔

عدالت نے سیکریٹری دفاع کو ملک میں امن وامان سے متعلق اقدامات پر آگاہ کرنےکا نوٹس جاری کیا تھا جبکہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کر دیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا تھاکہ رمضان شریف ہے، سماعت کو لٹکانا نہیں چاہتے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ کوئی حکومتی ادارہ غیر آئینی حرکت نہیں کرے گا، تمام سیاسی جماعتیں اور حکومتی ادارے اس صورت حال سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ از خود نوٹس میں صدر مملکت کو پارٹی بنا دیتے ہیں، کل 63-اے صدارتی ریفرنس کی مختصر سماعت کے بعد سماعت کریں گے کیونکہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کس وجہ سے ملتوی ہوا، جس پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور وکیل رہنما اعظم نذیر تارڑ نے بتایا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس امن و امان کی خراب صورت حال پر ملتوی ہوا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ قومی اسمبلی کی کارروائی میں دائرہ اختیار سے زیادہ مداخلت نہیں کر سکتے، قومی اسمبلی کی کارروائی سے ہم آگاہ ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی کی صورت حال پر درخواست آئے گی تو دیکھیں گے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے سیاسی صورت حال پر لیے گئے نوٹس پرسماعت کے لیے 5 رکنی نیا لارجر بینج بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ کا نیا 5 رکنی لارجر بینچ آج ایک بجے نوٹس پر سماعت کرے گا۔

سپریم کورٹ میں زیر سماعت آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے ریفرنس پر کل ہونے والی سماعت کو بھی مؤخر کردیا گیاتھا ۔

سماعت کے تحریری حکم نامے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ آفس نے عدم اعتماد کے معاملے پر میڈیا میں رپورٹ ہونے والے معاملات کا نوٹ بھجوایا اور رپورٹس کے مطابق ڈپٹی اسپیکر نے عدم اعتماد کی تحریک آئین کے آرٹیکل 5 کی روشنی میں مسترد کی۔

سپریم کورٹ نے بتایا کہ نوٹ پر چیف جسٹس آف پاکستان کے چیمبر سے نوٹس جاری کیا گیا، سپریم کورٹ کے لیے سب سے اہم بات ملک میں امن و امان قائم کرنا ہے۔

تحریری حکمنامے میں کہا گیا کہ دیکھنا ہوگا کہ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو آرٹیکل 69 کے تحت تحفظ حاصل ہے یا نہیں تاہم صدر مملکت اور وزیر اعظم کا جاری کردہ کوئی بھی حکم سپریم کورٹ سے مشروط ہوگا۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نے ملک کو انتشار کی جانب دھکیل دیا ہے، امید ہے سپریم کورٹ آئین کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button