Column

آج کی رات بچیں گے تو سحر دیکھیں گے …. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی
پیش ہے بچوں کے لیے ایک سبق آموز کہانی، لیکن نوجوان، خواتین و حضرات بھی اِس سے چاہیں تو بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔
وہ پیشے کے اعتبار سے ترکھان تھا، صبح سویرے بیدار ہوتا اور دکان کھول کر بیٹھ جاتا، لوگ اپنے کام کاج کے لیے آنا شروع ہوجاتے وہ نہایت تسلی بخش طریقے سے سب کے کام کرتا، اُس روز بھی ایسا ہی ہوا، صبح سے شام تک وہ دلجمعی سے کام کرتا رہا، دن ڈھل گیا تو اُس نے دکان بند کی اورگھر کی راہ لی، جوں ہی اندھیرا گہرا ہوا، قریبی جھاڑیوں سے ایک نہایت زہریلا سانپ خوراک کی تلاش میں باہر نکلا، وہ کافی دیر تک اپنی من پسند خوراک چوہے اور چھپکلیاں ڈھونڈتا رہا مگر اِسے کچھ نہ ملا، خوراک کی تلاش میں وہ ایک سوراخ کے ذریعے ترکھان کی دکان میں داخل ہوا اور کافی دیر تک فرش پرایک کونے سے دوسرے کونے تک گھومتا رہا مگر اُسے کوئی ایسی چیز نہ مل سکی جس سے اِس کا پیٹ بھرسکتا۔ خوراک ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ کئی میزوں اور کرسیوں پر چڑھا، ایک دو الماریوں میںگھسا لیکن کچھ نہ ملا ، کافی دیر تک کھانا تلاش میںگزر گئی، اب بھوک کے مارے اُس کا برا حال تھا، اُسے خوراک تلاش کرنے میںاتنی مشکل کبھی نہ پیش آئی تھی ، اب اُسے غصہ بھی آنا شروع ہوگیا، اچانک اُس کی نظر ایک کونے میںپڑی چھپکلی سی چیز پر پڑی وہ بلاسوچے سمجھے اُس پر جھپٹا اُس نے اپنے تیز اور زہریلے دانتوںسے اُس چیز کو کاٹنا چاہا لیکن وہ اُس میں ناکام رہا، اُس کے غصے میں اضافہ ہوگیا، اُس نے ایک مرتبہ پھر حملہ کیا لیکن اِس مرتبہ اُس کے زہریلے دانت ٹوٹ گئے، وہ اِس سخت سی چیز کا کچھ نہ بگاڑ سکا بلکہ اسی کوشش میں اس کا جبڑا زخمی ہوگیا اور اُس سے خون رسنا شروع ہوگیا، اُس نے غصے کی حالت میں ایک اور فیصلہ کیا، اُس نے سخت اور چمکیلی چیز کے دستے کے گرد اپنے آپ کو لپیٹنا شروع کیا، اِس کا خیال تھا کہ وہ اپنی سخت گرفت سے اپنے ہدف کو بے بس کردے گا، جب اُسے یقین ہوگیا کہ وہ اپنے شکار کو مکمل طورپر قابو کرچکا ہے تو اُس نے اپنی تمام طاقت مجتمع کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اُس چمکیلی چیز پر حملہ کیا وہ ایک ہی سانس میں اُسے نگل لینا چاہتا تھا لیکن وہ اِس حقیقت سے بے خبر تھا کہ وہ ایک تیز دھار کلہاڑی کو کاٹنے کی کوشش کررہا ہے، تیز دھار کلہاڑی پر متعدد حملوںنے اِسے خاصا زخمی کردیا، خون تیزی سے اُس کے جسم سے رسنا شروع ہوگیا، کچھ ہی دیر بعد اُس کی قوت مزاحمت ختم ہوگئی اور وہ بے سدھ ہوکرگرپڑا، کلہاڑی کے دستے پر اُس کی گرفت ڈھیلی پڑگئی۔
رات بیت گئی، صبح ہوگئی، ترکھان نے اپنی دکان کھولی تو اُسے بعض جگہوں پر خون کے دھبے نظر آئے، وہ بہت حیران ہوا، کچھ آگے بڑھا تو اُس نے دیکھا اُس کے اوزاروں کے قریب ایک کلہاڑی کے دستے سے سیاہ رنگ کا ایک سانپ لپٹا ہوا ہے، ترکھان نے آگے بڑھ کر جائزہ لیا تو دیکھا، سانپ کلہاڑی کو کاٹنے کی جدوجہد کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھوبیٹھا تھا۔
سانپ کو کسی نے نہیں مارا بلکہ وہ اپنی غلطی اور حماقت سے اِس انجام کو پہنچا، غصے اور انتقام میں کسی دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہوئے ہم بعض اوقات اپنے آپ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچالیتے ہیں، پس ضروری ہے کہ ہر معاملے میں بلاسوچے سمجھے جارحانہ رویہ اختیارنہ کیا جائے، زندگی میں جب بھی کبھی ایسی صورت حال درپیش ہو تو ایک لمحے کے لیے رک کر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہیے کہ جو راستہ اختیار کیا جارہا ہے، وہ ہمیں کہاں لے جائے گا، غصے کی حالت میں کیے گئے فیصلے دیرپا نہیں ہوتے، غصے کی حالت میں ہر منٹ کے ہر سیکنڈ میں ہم خوشیوںسے دور ہوتے جاتے ہیں، غصے کی حالت میں کیے گئے فیصلوں سے معاملات حل ہونے کی بجائے مزید الجھ جاتے ہیں، بعض اوقات غصہ انسان کو مکمل تباہی سے دوچار کردیتا ہے۔
کہتے ہیں کہ کسی بات پر شدید غصہ آجائے تو جو کھڑے ہوئے ہوں وہ بیٹھ جائیں، جو بیٹھے ہوئے ہیں وہ لیٹ جائیں، لمبے لمبے گہرے سانس لیں، پانی کا گلاس پئیں، آنکھیں بند کریں اور خدا کو یاد کریں، گزشتہ چھ ماہ سے ملکی سیاست میں غصہ اور انتقام چھایا نظرآیا، اپوزیشن جماعتیں ایک بڑے گروپ کی شکل میں اکٹھے ہوکر حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے، سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوگئیں، حکومت کی طرف سے اعلان کیے جاتے رہے کہ حکومت کو اِس کے ممبران قومی اسمبلی کا بھرپور اعتماد حاصل ہے، کوئی اُس کا کچھ نہیں بگاڑسکتا، دریں اثناء حکومت اوراپوزیشن جماعتوں نے ایک دوسرے کے ممبران قومی اسمبلی سے رابطے شروع کیے، انہیں مختلف ترغیبات دی گئیں، ممبران قومی اسمبلی نے وفاداریاں تبدیل کرنا شروع کیں تو حکومت اور اپوزیشن میں محاذ آرائی میں اضافہ ہوگیا، قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ ہوا، ایک طرف اجلاس بلانے کی کوششیں جاری تھیں تو دوسری طرف اِسے طویل عرصہ تک ملتوی رکھنے کے جواز تلاش کیے جاتے رہے۔ دریں اثناء دونوں طرف سے دعوے جاری رہے کہ اُن کے پاس ممبران قومی اسمبلی کی اکثریت موجود ہے اور فتح اُن کے قدم چومے گی، کوئی قانونی اور اختلافی جواز نہ پاتے ہوئے عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری کا دن مقرر ہوگیا اور عین وقت پر حکومت اِسے اپنی سوچ کے مطابق روکنے میں کامیاب ہوگئی، ٹھیک کچھ منٹ بعد منصوبہ بندی کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے صدر پاکستان کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھیج دی اور قوم سے مختصر خطاب میں کہا کہ اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں گی۔
مختلف اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس عددی اکثریت موجود نہیں تھی شاید یہی وجہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے احتراز کیاگیا تاکہ یہ بات راز ہی رہے کہ اپوزیشن کوکتنے ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل تھی اور حکومت کے دامن میں کتنے ہیرے باقی رہ گئے تھے۔
آخری ایام میں حکومت کی بھرپور کوشش رہی کہ وزیراعظم کو مستعفی ہوئے بغیر فیس سیونگ مل سکے، اپوزیشن سے اِس معاملے میں خفیہ مذاکرات کیے گئے لیکن اپوزیشن کسی بات پر راضی نہ ہوئی اُن کے نزدیک عدم اعتماد تحریک پرووٹنگ میں ان کے لیے عظیم الشان کامیابی پنہاں تھی، وہ فاتح بن کر ایوان سے مسرت و انبساط کے نعرے لگاتے باہر آنا چاہتے تھے جو حکومتی حکمت عملی کے سبب نہ ہوسکا البتہ ان کی نئے اور فوری انتخابات کی خواہش پوری ہوگئی جس کے لیے حکومت انہیںمتعدد مرتبہ پیشکش کرچکی تھی۔
بظاہر لگتا ہے کہ بڑا سیاسی بحران ٹل گیا ہے لیکن شاید ایسا نہیں، اس کے پیچھے پیچھے مزید کئی بحران قطار بنائے کھڑے ہیں، ضروری نہیں کہ عبوری حکومت کی تشکیل کے بعد انتخابات شیڈول کے مطابق ہوجائیں، ابھی طویل کشمکش اور نئے محاذکھلیں گے، ایک شعر پیش خدمت ہے۔
شمع ہوجائے گی جل جل کے دھواں آج کی رات
آج کی رات بچیں گے تو سحر دیکھیں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button