Editorial

 ملکی سیاست کیلئے اہم ترین دن

آج کا دن ملکی سیاسی تاریخ میں ایک بار پھر ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہورہا ہے، اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی(پنجاب) فیصلہ کریں گے کہ ملک کی آئندہ خارجہ پالیسی کیا ہوگی، کیا ہم Do More کی گردان مزید سننا چاہیں گے یا پھر ہم Absolutely Not کہنے والی قوم بنتے ہیں۔ آج مرکز اور پنجاب پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں کیوں کہ ایوانوں میں دو مختلف خارجہ پالیسیوں کی حامل سیاسی طاقتیں بیٹھی ہیں، موجودہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف جارحانہ لیکن غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی پر یقین رکھتی ہے لیکن دوسری طرف حزب اختلاف کی بیشتر جماعتوں کا جھکائو محتاط اور دھیمی خارجہ پالیسی کی جانب واضح نظر آتا ہے جیسا کہ حزب اختلاف کے بعض رہنمائوں کے ردعمل میں بھی سامنے آچکا ہے کہ ہم کسی طاقت سے ٹکر لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں بظاہر وفاق میں نمبر گیم حزب اختلاف کے حق میں ہے کیونکہ حکومت کے منحرف اراکین ہی نہیں بلکہ ایم کیو ایم سمیت دوسری اتحادی پارٹیاں بھی حزب اختلاف کے پلڑے میں جاچکی ہیں اگرچہ پنجاب میں وزیراعلیٰ کے منصب کی قربانی دے کر وزیراعظم عمران خان نے یہاں کا معاملہ قدرے ہاتھ میں کرلیا ہوا ہے لیکن مرکز میں صورت حال بظاہر حزب اختلاف کے حق میں نظر آرہی ہے جن کے متوقع وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف ہیں جو اس وقت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں پھر بھی وزیراعظم عمران خان کا دعویٰ ہے کہ آج وہ بڑا سرپرائز دیں گے اور اگر ہم عدم اعتماد جیت جاتے ہیں تو قبل از وقت انتخابات کی طرف چلے جائیں گے اورپھر عوام سے کہیں گے کہ انہیں بھاری اکثریت دیں تاکہ وہ ملک کو ٹھیک کریں کیوں کہ اکثریت سے آکر ہی سارا گند صاف ہوسکتا ہے۔  ذرائع ابلاغ کے مطابق عسکری قیادت اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں تحریک عدم اعتماد، وزیراعظم کا استعفیٰ یا قبل ازوقت انتخابات متذکرہ تینوں آپشن سامنے آئے لیکن گماں ظاہر کیاگیا کہ حزب اختلاف تحریک عدم اعتماد واپس لینے کی صورت میں قبل ازوقت انتخابات کرانے کی یقین دہانی پر راضی نہیں ہوگی اور پھر ذرائع ابلاغ کے ذریعے بھی حزب اختلاف کے رہنمائوں نے اِس آپشن کو رد کیاچونکہ آج وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کارروائی یعنی رائے شماری ہورہی ہے اِس لیے یہ معاملہ تو واضح ہوگیا ہے، حزب اختلاف چونکہ حکومتی اتحادی مسلم لیگ قاف کو ساتھ ملانا چاہتی تھی لیکن مشاورت میں تاخیر کی وجہ سے پی ٹی آئی نے اتحادی قاف لیگ کا مطالبہ مان کر پنجاب میں چودھری پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا ہوا ہے، دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہبازشریف وزارت اعلیٰ کے لیے امیدوار ہیں یوں آج شام تک مرکز اور پنجاب میں صورت حال واضح ہوجائے گی کہ اقتدار اب کس کو ملتا ہے، وزیراعظم عمران خان اور اُن کی ٹیم تحریک عدم اعتماد کو سازش قرار دے کر حزب اختلاف کا ایک بڑے ملک کے ساتھ گٹھ جوڑ ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے بلاشبہ حزب اختلاف اِس خط کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی لیکن دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ، عسکری قیادت اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں سمیت امریکی آفیشل کی دفتر خارجہ میں طلبی کو دیکھا جائے تو خط کے معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔
گذشتہ کئی ماہ سے جاری سیاسی تنائو آج ختم ہوگا یا نہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی تنائو میں مزید شدت آئے گی اور دونوں صورتوں میں آئے گی، اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو عمران خان پوری طاقت کے ساتھ عوام میں اپنا مقدمہ پیش کریں گے اورجیسا کہ اُن کی گفتگو سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابات جلد کرانے کے بھی حق میں ہیں کیوں کہ اِس وقت رائے عامہ اُن کے حق میں نظر آتی ہے، سوشل میڈیا سمیت دیگر میڈیمز پر اُنہیں امریکی دھمکی کی وجہ سے لوگ بھرپور سپورٹ کا یقین دلارہے ہیں اور اِس سپورٹ کا مطلب تو یہ ہوا کہ حزب اختلاف بھلے ایوان کے اندر طاقت میں ہو لیکن ایوان سے باہر عمران خان لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹنے میں کامیاب ہورہے ہیں پھر خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج بھی پی ٹی آئی کے حق میں پوری طرح آنے سے رائے عامہ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، پس ثابت ہوا کہ بھلے اقتدار چلا جائے لیکن عمران خان عوام کی اکثریت کی ہمدردیاں سمیٹنے میں کامیاب ہورہے ہیں جبکہ دوسری طرف حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں کے نظریاتی کارکنان اگرچہ پارٹی قیادت کے فیصلوں کی تائید کررہے ہیں لیکن اِس کے باوجود اُنہیں دونوں پارٹیوں یعنی مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کی قربت پر شدید تحفظات ہیں کیوں کہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کے نظریات کے خلاف سیاست کرتی آئی ہیں لیکن پرویز مشرف اور اب عمران خان کے خلاف دونوں کے نظریات کہیں پیچھے رہ گئے ہیں ۔ خبریں تو ایسی بھی ہیں کہ غیر ملکی مداخلت میں سہولت کار بننے پر غداری کے مقدمات قائم کرنے کا فیصلہ ہورہا ہے، ایسی صورت میں سیاسی صورت حال مزید کشیدہ ہوجائے گی اور اگر اِس معاملے پر غیر جانبدار عدالتی کمیشن قائم ہوجاتا ہے تو پھر اُس کی کارروائی اور فیصلے پر اطمینان ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال داخلی حالات تو پوری طرح ہمارے سامنے ہیں ہی لیکن خارجی معاملات پر بھی نظر رہنی چاہیے کیونکہ دھمکی آمیز خط اب پوری دنیا کے سامنے آچکا ہے اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی روشنی میں امریکی آفیشلز سے اِس پر باضابطہ احتجاج بھی کیا جاچکا ہے اِس لیے یقیناً ’’انکل سام‘‘ اِس پر ردعمل تو ظاہر کریں گے اب دیکھنا یہ ہے کہ ہماری اُس صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے کیا تیاری ہے، جو انکل سام عادت سے مجبور ہوکر پیدا کرسکتے ہیں اور جیسا کہ انہوںنے اپنے خط میں بھی دھمکی دی ہے کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو پاکستان کو اِس کے نتائج بھگتنا پڑسکتے ہیں۔ ہم گذشتہ کئی روز سے اِس موضوع پر بات کرتے ہوئے اپنے ارباب اختیار اور سیاست دانوں سے یہی التماس کررہے ہیں کہ کان اور دھیان اُدھر بھی رکھیں جو لکھ کر دھمکی دے رہے ہیں اور یقیناً دھمکی آمیز خط پر ہونے والی جگ ہنسائی انہیں چین سے نہیں بیٹھنے دے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button