تازہ ترینخبریںدنیا سے

پاکستان کا چین کی چھتری کے نیچے جانا منظور نہیں، ہم پاکستان سے الگ ہو چکے ہیں: امریکی جنرل

سابق امریکی فوجی سربراہ مائیک مولن نے کہا ہے کہ امریکا واضح طور پر پاکستان سے فاصلہ اختیار کر چکا ہے، وائٹ ہاؤس اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کی ملکی سیاست میں ان کے ملوث ہونے کے دعوؤں کو عوامی سطح پر مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حوالے سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل مولن نے کہا کہ یہ کہنا مشکل، بہت مشکل ہے۔

یاد رہے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرد جنگ کے دوران دونوں قریبی اتحادی تھے۔

رواں ہفتے وائس آف امریکا اردو سروس سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ گزشتہ دہائی سے ہم واضح طور پر خود کو پاکستان سے الگ کر چکے ہیں، اور پاکستان کی چین کی چھتری کے نیچے جاتا جارہا ہے‘۔

ایڈمرل مولن اکتوبر 2007 سےستمبر 2011 تک امریکی فوجی کے سربراہ تھے، جو میموگیٹ تنازعے میں بھی نامزد تھے جو کہ ایک یادداشت کے گرد گھومتی ہے، جس میں ظاہری طور پر پاکستان میں ایک خوفناک فوجی قبضے کو روکنے کے لیے امریکی تعاون حاصل کرنا تھا جو کبھی نہیں ہوا۔

انہوں نے غور کیا کہ چین ناصرف پاکستان کا پڑوسی کے بلکہ اس کا بڑا حمایتی بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چین کے عالمی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے یہ قربت ‘ ان کے لیے بہتر ہے کیونکہ بیجنگ چاہے گا کہ اسے پڑوسی کے قریبی تعلقات استوار کیے جائیں جو امریکا سے قریب نہ ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا مذکورہ وجوہات کی بنا پر پاکستان اور امریکا کے تعلقات کچھ وقت سے مشکلات کا شکار ہیں۔

سقوط کابل میں پاکستان کے کردار کے حوالے دے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل مولن کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے یقینی طور پر اسے روکنے کے لیے بہت کچھ نہیں کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ بطور امریکی آرمی چیف میں نے کانگریس کا بتایا تھا کہ پاکستانی خفیہ ادارے افغانستان میں فعال ہیں ’اور میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ دونوں طرف رابطے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button