Column

جمہوریت کو مستحکم کرنے کا راستہ تلاش کریں …. علی حسن

علی حسن

وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں ان کی تقریر مورخہ 31 مارچ، سے قبل تیزی سے یہ خبریں گشت کر رہی تھیں کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ پیش کریں گے جس میں قبل از مدت انتخابات کا انعقاد ہو سکتا تھا لیکن عمران خان کے اپنی تقریر میں کسی قسم کے سمجھوتے پر گفتگو نہیں کی البتہ یہ کہا کہ اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو بھی گئی تو وہ اور زیادہ مضبوط ہو کر ابھریں گے اور مقابلہ کریں گے۔ عمران خان کے پاس بولنے کے لیے بہت کچھ ہے اور خط والا موضوع تو عوام کو متاثر کرنے کے لیے کافی ہے۔ وہ عوام کو قائل کرنا چاہتے تھے کہ ان کے خلاف بیرونی سازش ہوئی ہے جس میں ان کے مخالفین آلہ کار ہیں۔ عوام کی بھاری تعداد خیانت کی سخت مخالف ہے ۔ وزیر اعظم یہی بات ذہنوں میں ڈالنا چاہتے تھے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو کی ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے ۔اپنی طویل پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’’عمران خان لاکھ برا سہی لیکن وطن فروش نہیں‘‘۔ ان کے مخالفین کہاں تک وضاحتیں کریں گے کہ وہ عمران خان کے خلاف ہونے والی کسی سازش سے لاعلم ہیں۔ تاثر یہ پھیلاہوا تھا کہ ان کے مخالفین کو 172کی مطلوبہ تعداد سے زیادہ اراکین کی حمایت حاصل ہے اس لیے وزیر اعظم عمران خان کا جانا تو ٹھہر گیا ہے۔ حکومتی بنچوں کے لوگ اپنے دعویٰ کرتے ہیں۔ کیا سچ ہے یہ تو اعصاب شکن انتظار کے بعد اتوار 3 اپریل کو نتیجہ آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا۔ جب پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ، آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کے ہمراہ ایوان وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے لیے آئے تو بھی سوشل میڈیا پر یہ آرا تیزی سے گشت کر رہی تھیں کہ جنرل باجوہ ’’ فیس سیونگ‘‘ فارمولا پر بات کرنے آئے ہیں۔ فارمولا کچھ اس خدوخال پر مبنی تھا کہ اپوزیشن اپنی قرار داد واپس لے اور عمران خان قبل از وقت انتخابات کرانے کو اعلان کریں ۔ اس فارمولا کی باز گشت سیاسی حلقوں میں پائی جاتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تجویز شہباز شریف کو بھیجی گئی تو پی ڈی ایم کے رہنمائوں نے اسے رد کر کرکے کہا کہ بس عمران خان اپنے استعفیٰ کا اعلان کریں۔ مخالف سیاسی رہنمائوں نے اسے جانے کے لیے محفوظ راستہ طلب کرنے کا نام دیا۔ پوسٹ ڈالنے والوں کی رائے تھی کہ وزیر اعظم تحریک عدم اعتماد کی قرار داد کی واپسی کی صورت میں قبل از وقت انتخابات کے لیے رضا مند ہو جائیں گے لیکن یہ امیدیں دھری رہ گئیں۔ وزیر اعظم نے تو کہا کہ وہ ڈٹ جائیں گے اور مقابلہ کریں گے۔ جب سمجھوتہ کی تجویز ہی رد کر دی گئی ہو تو وزیر اعظم کو یہ ہی جواب دینا چاہیے کیوں کہ ان کی سیاسی ساکھ بھی دائو پر لگی ہوئی ہے۔ اس مرحلے پر مستعفی ہونا کسی طرح بھی ان کے سیاسی کیریئر کے لیے فائدہ مند نہیں ہو سکتا ۔ تحریک کی ناکامی کے بعد ممکن ہے وہ انتخابات کے انعقاد کا اعلان کردیں ۔

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اپوزیشن حکومت بنائے گی اور انتخابات کرانے کا کوئی فیصلہ کریگی۔نون لیگ، خصوصاً نواز شریف انتخابات کے فوری انعقاد کے حق میں ہیں لیکن آصف علی زرداری اس مدت کو طول دلانے کے حق میں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان بھی فوری انتخابات کرانے کے حامی ہیں۔ نون لیگ سمجھتی ہے کہ میدان گرم ہے اور اسے بڑی تعداد میں حامیوں کی مدد حاصل ہوگی۔ مولانا بھی اپنے دائرہ اثر حلقوں میں یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے حامی چارجڈ ہیں جو انتخابات کے انعقاد میں طوالت کی صورت میں ٹھنڈے پڑ سکتے ہیں۔ پی پی کا تو پنجاب میں ایسا کوئی خاص اثر نہیں ہے کہ اسے ایسی کامیابی مل سکے جو وزیر اعظم کے انتخاب کی صورت میں اس کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکے۔ پنجاب کے میدان جنگ میں تو نون لیگ کو تحریک انصاف کے امیدواروں سے سامنا ہوگااور یہ کہنا کہ تحریک انصاف کو امیدوار نہیں ملیں گے، غلط فہمی ہوگی۔
وزیراعظم کو جس نے بھی دھمکی آمیز خط لکھا، وہ بات اپنی جگہ لیکن اس مرحلے پر عوام وزیر اعظم کی تحریک عدم اعتماد کی ناکامی میںکوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ کردار تو سارے کا سارا قومی اسمبلی کے اراکین کا ہی رہ گیا ہے۔ وہ کیا سوچتے ہیں اور کیا کرتے ہیں۔ وزیراعظم کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کے بارے میں ہی خبریں گشت کر رہی ہیں کہ کئی اراکین بشمول بظاہر تین وزراء جن میں قاف لیگ کے بشیر چیمہ، ایم کیو ایم کے فروغ نسیم اور امین الحق شا مل ہیں۔ چیمہ تو اب تک وفاقی وزیر تھے۔ وہ قاف لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد وزارت کے مزے لیتے رہے لیکن عمران خان سے اتنے شدید ناراض ہیں کہ وہ کسی طرح بھی ان کی حمایت کرنے پر آمادہ نہیں۔ اگر اتنی ہی ناراضگی تھی تو ہمت کرتے اور پہلے ہی مستعفی ہو جاتے۔ انتظار کس کا تھا۔ ایم کیو ایم کے وزراء تو اپنی جماعت پر بوجھ ڈالتے ہیں۔ عمران مخالف کیمپ جو سندھ ہائوس میں قائم ہے اور جسے مخالفین کی پناہ گاہ بھی کہا جاتا ہے، میں موجودہیں۔ چیمہ قاف لیگ کی جانب سے عمران خان کی حمایت کے حق میں نہیں تھے۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ قاف لیگ کے حوالے کرنے کے بعد عمران خان کو امید ہو چلی تھی کہ تحریک کی کامیابی کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں لیکن عمران خان کی حکومت کا ساڑھے تین سال حصہ رہنے کے بعد بھی ایم کیو ایم نے ان کی پیٹھ میں چھرا مار دیا اور مخالفین کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ ان مخالفین میں پی پی بھی شامل ہے جس نے ایم کیو ایم کے سات اراکین کی حمایت کے لیے تحریری معاہدہ بھی کر لیا جس پر پی پی کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری اور ایم کیو ایم کی طرف سے خالد محمود صدیقی نے دستخط کئے ۔ پی پی اور ایم کیو ایم کے درمیان ماضی میں بھی معاہدے ہوتے رہے ہیں لیکن ان کا انجام ناراض ہو کر علیحدگی پر نکلا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں اس قسم کے تحریری معاہدے کوئی نئی بات نہیں ۔ فریقین اپنی زبان کا پاس ہی نہیں رکھتے تو تحریری معاہدہ کی پاس داری اس صورت میں کیوں کر کرنے لگے جب ذہنوں میں یہ خرافات بیٹھی ہوئی ہوں کہ معاہدے قرآن اور حدیث تو نہیں ہوتے ۔
حیران کن ہے کہ عمران خان حکومت میں شامل وزراء اور اراکین جب وزیر اعظم کی کار کردگی سے مطمئن نہیں تھے تو اخلاقی تقاضہ یہ تھا کہ وہ اپنے اختلاف اور انحراف کرنے کی وجوہات کا بروقت کھلے عام اظہار کرتے اور حکومت کا ساتھ چھوڑ دینے کا اعلان کرتے یا ساتھ چھوڑ دیتے۔ یہ اخلاقی طریقہ ہوتا اور مستقبل میں بھی ان پر سیاسی حلقے اعتماد کرتے۔ ان کے اپنے حلقے میں ووٹروں کی نظر میں ان کی عزت میں اضافہ ہی ہوتا۔ انہوں نے تحریک عدم اعتماد پیش ہونے تک کا انتظار کیوں کیا۔ پاکستان میں منتخب اراکین کی بڑی تعداد جمہوریت کے استحکام میں سنجیدہ نظر نہیں آتی ۔ وہ غیر سنجیدہ اس لیے ہیں کہ انہیں علم ہے کہ سیاسی جماعتوں کی مجبوری ہے کہ انہیں ہی اپنا امیدوار نامزد کریں۔ ایسا لگتاہے اور ماضی بھی یہ ہی بتاتا ہے کہ جب موقع ملا، منتخب ہونے والوں نے معمولی معمولی فائدوں یا پیسوں کی خاطر سارے اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا۔ ان کے اس عمل پر خوشی کا اظہار کوئی نہیں کرتا ہے لیکن سیاسی جماعتوں کی قیادتیں اپنی اپنی ’’ ضرورتوں ‘‘ کے پیش نظر خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں۔ ایسے سمجھوتوں اور مصلحتوں کی وجہ سے جمہوریت تو پنپ نہیں سکتی اور انہیں غیر مستحکم جمہوریت میں ہی اپنی بقا محسوس ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button