Column

لمبی زبانیں چھوٹے دماغ ….. احمد نوید

احمد نوید
اسماعیل میر ٹھی بچوں کی شاعری کے لیے  مشہور ہیں۔ اُن کا ایک شعر ہے۔
کبھی بھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا
کہ جو تم سے کوئی کرتا ، تمہیں نا گوار ہوتا۔
مولانا رومی نے غالباً اسی بات کو کچھ اس طرح سے کہا ہے ۔ عمل کامیاب ہونے کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم اُن نصیحتوں پر خود عمل کرنا شروع کر دیں جو دوسروں کو کرتے ہیں ۔
تحریک عدم اعتماد کی دھینگا مشتی میں ہم نے بہت کچھ دیکھا ۔ 2018کے بعد سے حکومتی وزراء اور نام نہاد امریکی تعلیم یافتہ مشیروں کی جملہ بازی ، نازیبا فقروں اور جگتوں کی ایسی فصلیں کاٹی گئیں کہ جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔ یہ وہ لوگ تھے ، جن کی زبانیں لمبی اور دماغ چھوٹے تھے۔ درحقیقت بدتہذیبی اور بدتمیزی کی یہ بدبودار فصلیں اور اُن کے بیچ 2018کے الیکشن سے کہیں پہلے اور 2014کے پی ٹی آئی کے دھرنے میں بو دئیے گئےتھے۔جسے2018میں حکومت کے قائم ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے سپورٹرز ، ورکرز اور خاص طور پر وزراء اور مشیروں نے بیساکھی کے تہوار کی طرح مسلسل چار سال تک ڈھول بجا بجا کر پیٹ پیٹ کر کاٹا۔
میں حیران ہوں کہ 2018کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی جانب سے عامر لیاقت صاحب کو بھی ایم این اے کا ٹکٹ عنایت فرمایا گیا۔ اُس وقت عمران خان صاحب اور اُن کی کور کمیٹی بہت خوش تھی ۔ مجھے حیرت ہے اُن صاحبان کی ذہانت پر جو عامر لیاقت حسین اور فردوس عاشق اعوان صاحبہ کو بھی اپنی پارٹی میں شامل کرنے پر آمادہ ہوگئے ۔ اب چند دن قبل عامر لیاقت صاحب اپنی کم عمر نو بیاہتا بیوی کے ساتھ جب عمران خان سے ملاقات کر رہے تھے تو علی زیدی صاحب ساتھ والی کرسی پر بیٹھے مسکرا رہے تھے ۔ اس تصویر کے اخبارات میں شائع ہونے کے قریباً چار دن بعد عامر لیاقت صاحب نے اپنے قائد اور وزیراعظم کی شان میں ایک ٹویٹ داغ دی اور اُس کے تین سے چار دن بعد عامر لیاقت صاحب تحریک عدم اعتمادکے لیے منحرف اراکین قومی اسمبلی کے ساتھ سندھ ہائوس میں موجود تھے۔
اب غور طلب بات یہ ہے کہ جب پاکستان تحریک انصاف نے عامر لیاقت صاحب کو گود لیا تھا
تو کیا پی ٹی آئی کے سپورٹرز نے اپنے قائد سے کوئی شکوہ شکایت کی ؟ ہر گز نہیں ۔ بلکہ وہ سب دل ہی دل میں خوش تھے کہ ایک منہ پھٹ عجیب و غریب کردار کا مالک ہمارے ساتھ مل گیا ہے۔ اب مزہ آئے گا اور عامر لیاقت حسین کی لفظی گولہ باری اور توپوں کا رُخ مخالفین کی جانب ہوگا جبکہ اب عامر لیاقت صاحب اپنی ٹویٹ میں عمران خان صاحب اور اُن کے وزراء کو دھمکا چکے ہیں کہ وہ بہت جلد پی ٹی آئی کے بہت سے پول کھولنے والے ہیں ۔
یہ بات یقینی ہے کہ اس طرح کے واقعات اور کردار وں نے پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں بے پناہ کمی کی ہے ۔ پی ٹی آئی کو یہ دھچکا اور نقصان خود پی ٹی آئی سے پہنچا ہے ۔شاہ محمود قریشی اور غالباً اسد عمر کو نکال کر باقی بچی کھچی پی ٹی آئی کے پاس اخلاق تھانہ شائستہ زبان ۔ عمران خان جس کی شخصیت کو ہم مقناطیسی قرار دے سکتے تھے وہ بھی آنکھ کا دھوکہ تھی ۔ حضرت علیؓ کا قول ہے ، انسان اپنی زبان کے پیچھے چھپا ہوا ہے ۔عمران خان صاحب کی زبان کے رنگ ڈھنگ بھی سب نے جب دیکھ لیے ۔
انسان زمین پر خدا کی سب سے ذہین مخلوق ہے ۔ وہ سوچنے سمجھنے ، بات کرنے اور اُس کے مطابق عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ عمران خان کی شخصیت کا سب سے بڑا المیہ یہی رہا کہ انہوں نے جو کہا وہ کر کے نہیں دکھایا۔ اب وہ اپنی اس ادا کو یو ٹرن کہیں یا کوئی بھی دوسرا نام دیں ۔ لوگ اِسے منافقت اور عمل سے عاری قرار دیتے ہیں ۔ ریاست مدینہ کے تصور پر عمل پیرا شخص اگر شائستگی ، عاجزی ، رحم دلی ، احترام ، حسن سلوک جیسی چند نہایت بنیادی خصوصیات اور صلاحیتوں سے خالی ہوگا تو وہ شخص دوسروں کو کیسے متاثر کر سکے گا۔
اچھے اخلاق لوگوں کے دل جیتنے میں ہماری مدد کرتے ہیں ۔ لہٰذا اچھا اخلاق ہی ہماری شخصیت کو مثبت،رجحان ساز ، پر کشش اور منفرد مقناطیسی شخصیت بناتاہے۔عمران خان نے2014کے دھرنے میں جو طوفان بدتمیزی اُٹھایا تھا ، ویسا ہی منظر 2018کے الیکشن کے بعد حکومتی وزراء مشیروں اور خود ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز عمران خان کی جانب سے پیش کیا جاتا رہا۔
بہرحال وہ وقت تو گزر گیا۔ ماضی پیچھے رہ گیا، اب مستقبل کو دیکھنا ہوگا ۔ کاش مستقبل میں زبانوں کو اتنا بے لگام نہ چھوڑا جائے ، خواہ وہ حکومت ہو یا اپوزیشن ہمیں کوشش کرنی ہوگی کہ ہم بدحواس ہونے سے بچیں ۔ سیاسی قائدین کے ساتھ ساتھ میڈیا کے اینکرپرسنز پر بھی بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے پروگرامز میں مدعو مہمان سیاستدانوں کو قبل از آن ائیر ہی اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنے کی تاکید کریں ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا اور مخالفین کو اُسی طرح سے بد زبانی ، شرانگیز بیانات ، پر تشدد اور منفی جملوں ، فقروں ،
لفظوں سے مخاطب کرنے کا سلسلہ جاری رہا اور ایسے نظریات ، تصورات ، خیالات پر ندامت اور شرمندگی بھی محسوس نہ کی گئی تو ہمارے معاشرے میں جو غلاظت پھیلے گی اس سے نہ صرف ہم مہذب دنیا کی نظروں میں گر جائیں گے بلکہ خدا کی ناراضی کو دعوت دے بیٹھیں گے۔
ایک افریقی کہاوت ہے ۔
جب منہ ٹھوکر کھاتا ہے تو پائوں سے بھی بدتر ہوتا ہے۔
اس کہاوت میں بہت ساروں کے لیے اہم سبق ہے اور کچھ سیانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسان کو اپنی کہی ہوئی بُری بات پر ہمیشہ افسوس رہتا ہے ۔ لہٰذا پی ٹی آئی کی حکومت کے گزشتہ چار سالوں کو دیکھیں تو سیکھنے والوں کے لیے بہت کچھ ہے ۔ پی ٹی آئی کے وزرا ء اور مشیر صاحبان اگر یہ جان جاتے یا انہیں یہ ادراک ہوتا ہے کہ بولا اور کہا جانے والا ہر لفظ چڑیا کی طرح ہوتا ایک بار جب اُڑ جائے تو کبھی واپس نہیں آتا۔ تو شاید وہ اپنے کوڑا کرکٹ جیسے لفظوں پر ڈھکن ڈالے رکھتے ۔
سقراط نے ایک خوبصورت بات کہی تھی۔
قدرت نے ہمیں دو آنکھیں ، دو کان اور صرف ایک زبان دی ہے کہ ہم بولنے سے زیادہ سنیں اور دیکھیں۔ اسی نقطہ نظر کو ایک خوبصورت انداز میں ایسے بھی کہا جا سکتا ہے ۔ گفتگو کا اصل فن نہ صرف صحیح بات کو صحیح جگہ کہنا ہے ، بلکہ کسی پر کشش لمحے میں غلط بات کو نہ کہنا بھی اداب گفتگو کا فن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button