Column

عدم اعتماد، خط اوروزیراعظم کا خطاب ….. امتیاز عاصی

امتیاز عاصی

وزیراعظم کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی عدم اعتماد اور 199 ارکان کی حمایت کے دعویٰ کے باوجود بعض اپوزیشن رہنمائوں کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ وزیراعظم کو آئینی طریقہ سے ان کے منصب سے علیحدہ کرنے کی کارروائی جاری ہے تو ایسے میں انہیں استعفیٰ دینے کے لیے کیوں دبائو ڈالا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے جیسے تیسے اپنا ادھورا وقت پورا کرلیاتاہم ایک سوال ذہن میں آتا ہے تحریک انصاف کو حکومت بناتے وقت سترہ ارکان کی حمایت درکار تھی جب کوئی جماعت سترہ ارکان کی حمایت سے حکومت بنانے میں کامیاب ہونے کے باوجود ملک کے معاشی اور دیگر مسائل حل کرنے میں کامیاب نہیںہو سکی تو کیا اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد میںمختلف خیالات اور منشوررکھنے والی جماعتیں ملک کی تقدیر بدلنے میں کامیاب ہو سکیںگئی؟تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا پہلی مرتبہ موقع ملا تھا جس میں وہ کامیاب نہیںہو سکی تو اسے ناکام بھی نہیں کہا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کیا تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد نئے انتخابات کے لیے رہ جانے والی مدت میں اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل حکومت ملک کو معاشی گرداب سے نکال سکے گی؟دراصل اپوزیشن رہنمائوں میں بہت سو ں کے خلاف مقدمات زیر سماعت ہیں۔ اگر ان کے خلاف نیب مقدمات نہ ہوتے تو وہ کبھی عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتمادلا کر اسے سیاسی شہید کہلوانے کا موقع فراہم نہ کرتے ۔تحریک انصاف کی حکومت کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے ہٹ کر ہم حکومت کے خلاف عدم اعتماد میں حلیف جماعتوں کے کردار کی طرف آئیں تو تحریک انصاف کی حکومت کے زوال کا آغاز تو اسی روز شروع ہو گیا تھا جب حکومت بنانے کے لیے دوسری جماعتوں سے آنے والے ارکان کو حکومت میں شامل کیا گیا تھا۔

درحقیقت دوسری جماعتوں سے آنے والے ارکان کے مفادات پورے نہ ہوں تو حکومت سے نکلنے میں دیر نہیں کرتے۔ عمران خان کی حکومت کے خلاف اعتماد لانے میں اہم کردار حلیف جماعتوں کا ہے جن کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو وزیراعظم پورا کرنے میں ناکام رہے ۔ حکومت بناتے وقت تحریک انصاف کو اتحادیوں سے وہ وعدے نہیں کرنے چاہیے تھے جن کو پورا کرنا حکومت کے لیے بذات خود مشکل تھا۔ایم کیوایم ، مسلم لیگ قاف ، بلوچستان عوامی پارٹی اور جی ڈی اے میں کوئی ایسی جماعت نہیں جن کے ساتھ حکومت نے کئے جانے والے تمام وعدوں کو پورا کیا ہو۔ بی این پی کے اختر مینگل نے تو بہت پہلے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اختر مینگل کا سب سے بڑا مطالبہ بلوچستان کے لاپتا افراد کی بازیابی اور دوسرا بڑا مطالبہ صوبے سے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا تھا۔ اگرچہ گمشدہ افراد کی بازیابی کسی حکومت کے بس کا روگ نہیں۔ وزیراعظم نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعدمزید افغان مہاجرین کو لینے سے انکار کرکے ایک بڑا قدم اٹھایا تھا اس کے ساتھ اگر وہ بلوچستان سے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے کچھ اقدامات کرتے تو شاید اختر مینگل حکومت سے علیحدہ نہ ہوتے۔ ہماری سیاست کا المیہ ہے سیاست دان ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر شریک اقتدار بن جاتے ہیں ۔قانون سازی کرتے وقت فلورکراسنگ کرنے والے ارکان اسمبلی کے خلاف سزائوں کا تعین ہو جاتا تو آج حکومت کو سپریم کورٹ جانے کی ضرورت نہ ہوتی۔بد قسمتی سے کسی حکومت نے اس اہم قانونی نکتے کی طرف توجہ دینے کی کوشش نہیں کی۔ اب ہم آتے ہیں اس خط کی طرف جس کا آج کل شورغوغا ہے۔ ایک سابق پاکستانی سفارت کار عبدالباسط کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کے مطابق پاکستانی سفیر کے جو تحفظات تھے وہ انہوں نے حکومت کو بھجوائےہیںلیکن دفتر خارجہ کا اسلام آباد میں سنیئر امریکی سفارت کار کو طلب کرکے مراسلہ پر شدید احتجاج اس امر کا غماز ہے امریکی حکومت کا کسی نہ کسی طریقہ سے وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے دبائو ضرور تھا۔ درحقیقت حکومت کے خلاف ناراض ارکان کافی عرصہ سے سرگرم تھے جس کا وزیراعظم نے نوٹس لینے کی کوشش نہیں کی ۔ وزیر اعظم ناراض ارکان سے انفرادی طور پر ملاقاتیں کرکے ان کے تحفظات دور کر دیتے تو تحریک عدم اعتماد کی نوبت نہیں آنی تھی۔تعجب اس پر ہے حلیف جماعتوںسے وزارتوں کے علاوہ وہ کون سے وعدے تھے جو حکومت پورا کرنے میں ناکام رہی ہے؟اب تک تو یہ بات صیغہ راز میں ہے ۔شاید آنے والے وقت میں اس راز سے پردہ اٹھ جائے۔
وعدوں کی پاسداری ہماری سیاست میں ناپید ہے۔سیاست دان عوام سے انتخابات میں وعدے کرتے ہیں منتخب ہونے کے بعد ان وعدوں کو بھلا دیتے ہیں۔جہاں تک عدم اعتماد کے ممکنہ اثرات کی بات ہے۔آنے والے انتخابات میں اگر کوئی جماعت اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تو وہ دوسری جماعتوں کے ارکان کی حمایت کا فیصلہ سوچ بچار کرے گی۔وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں ملکی سیاست پر اس کے پڑنے والے اثرات میں اہم بات  فلوکراسنگ کرنے والے ارکان کے خلاف کسی نہ کسی طور سزائوں کا تعین ہو جائے گا جس کے بعد ارکان اسمبلی کے لیے مستقبل میں اپنی جماعت سے منحرف ہونے کے امکانات کم رہ جائیں گے، ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ نئے انتخابات کے نتیجہ میں جس جماعت کو اقتدا رمیں آنے کے لیے دوسری جماعتوں کے ارکان کی حمایت درکار ہو گی وہ حلیف جماعتوں سے سوچ سمجھ کر وعدے کرے گی۔ وزیراعظم کا خطاب دراصل نوجوان نسل سے تھا۔انہوں نے اپنے خطاب میں نئی نسل کو سیاست دانوں کی اصلیت سے روشناس کراکر ملک و قوم کی بڑی خدمت کی ہے۔انہوں نے نواز شریف بارے خاص طور پر بتایا جنہوں نے اپنے دور میں قومی بنکوں سے قرضے لے کر کارخانے لگائے اور بعد ازاں قرضوں کو معاف کرالیا۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے اس خطاب سے آنے والے وقتوں میں ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور آئندہ انتخابات میں خصوصاً نوجوان نسل ملکی سیاست کا رخ بدلنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔انہوں نے قوم کو اغیار کی غلامی سے نکل کر ایک آزاد مملکت میں رہنے کا جوش ولولہ دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button