Editorial

وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

وزیراعظم عمران خان نے امریکہ سے دھمکی آمیز خط آنے سے متعلق قوم کو اپنے خطاب میں واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان کی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ عمران خان کے خلاف ہے، اگر عمران خان چلا جاتا ہے تو وہ پاکستان کو معاف کردیں گے لیکن اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو پاکستان کو مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اِس آفیشل دستاویز میں پاکستانی سفیر کو کہا گیا کہ اگر عمران خان وزیراعظم رہا تو نہ صرف تعلقات خراب ہوں گے بلکہ پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
قوم سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ ہماری حیثیت ہے؟ کہا گیا کہ بعد میں جو لوگ آئیں گے ہمیں ان سے کوئی مسئلہ نہیں، روس جانے پر یہ سب کچھ کہا گیااور سب سے اہم بات یہ ہے کہ تین سٹوجز کے ان سے رابطے ہیں۔ قبل ازیں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزرا برائے دفاع، توانائی، اطلاعات و نشریات، داخلہ، خزانہ، انسانی حقوق، منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس، قومی سلامتی کے مشیر اور سینئر افسران نے شرکت کی۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کے اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی مشیر نے کمیٹی کو ایک بیرونی ملک کے سینئر عہدیدار کے اس ملک میں ایک باضابطہ اجلاس میں پاکستان کے سفیر کو باضابطہ مراسلے کے بارے میں آگاہ کیا جس سے سفیر نے وزارت خارجہ امور کو باقاعدہ طور پر آگاہ کیا۔
کمیٹی نے مراسلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیر ملکی عہدیدار کی طرف سے استعمال کی گئی زبان کو غیر سفارتی قرار دیااور منتج کیا کہ یہ مراسلہ مذکورہ ملک کی طرف سے پاکستان کے داخلی امور میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے جو کسی بھی حالت میں ناقابل قبول ہے۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پاکستان سفارتی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے باضابطہ ذریعے سے اسلام آباد میں اور اس ملک کے دارالحکومت میں سخت احتجاج ریکارڈ کرائے گا۔ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پاکستان نے دھمکی آمیزخط پرامریکہ سے شدید احتجاج کرتے ہوئے قائم مقام امریکی ڈپٹی چیف آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کیااوراندرونی معاملات میں مداخلت پر شدیداحتجاج کیا اور انہیں احتجاجی مراسلہ تھمایا۔
اگرچہ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں خط لکھنے والوں کو چھپایا بھی نہیں اور سامنے لائے بھی نہیں لیکن پورا منظر نامہ قوم کے سامنے رکھ دیا ہے یہی وجہ ہے کہ اب ہر جگہ پر یہ خط اور اِس کے مندرجات اور پاکستان کو ماضی میں لکھے گئے ایسے خطوط اور پھراِن کے نتائج پر بات ہورہی ہے لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ دوسری طرف اپوزیشن اِس خط پر قطعی سنجیدگی ظاہر نہیں کررہی اورقومی سطح کی سیاست کرنے والوں کی طرف سے ایسے بیانات دیئے جارہے ہیں جو عام پاکستانی کے لیے تشویش کا باعث ہیں، پھر پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو جو ایسے ہی خط کے بعد انجام
سے دوچار ہوئے اُن کے سیاسی وارثین بھی غیر سنجیدگی ظاہر کررہے ہیں
حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ وطن عزیز کے لیے تن من دھن قربان کرنے کا عزم ظاہر کرنے والی جماعتیں اِس وقت سبز ہلالی پرچم کی عزت و ناموس کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر ڈٹ کر کھڑی ہوجاتیں اور پوری دنیا کو پیغام دیا جاتا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن ہم ایک ہیں ،شاید حکومت مخالف سیاست دانوں کو یہ گماں ہے کہ جو دھمکی آج وزیراعظم عمران خان کو ملی ہے وہ انہیں کبھی نہیں ملے گی یا پھر وہ ایسا کام ہی نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں دھمکی لینے کی نوبت آئے۔ جیسا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اُن کے دورہ دورس کی وجہ سے اُنہیں دھمکی دی گئی ، پھر تو معاملہ ہی واضح ہوگیا ہے اور اُس ملک کا نام بھی وزیراعظم عمران خان کے منہ سے نکل چکا ہے تو پھر اب انتظار کس کا ہے وہ طاقتیں جو جنوبی ایشیا کو امریکی اثرورسوخ سے پاک دیکھنا چاہتی ہیں وہ سامنے آکر معاملات کو قابو کیوں نہیں کررہیں کیوں امریکہ کا راستہ نہیں روکا جارہا کہ وہ اب اور آئندہ ایسا کرنے سے باز رہے۔
بظاہر تو چین اور روس نے اِس حوالے سے بیانات دیئے ہیں لیکن کیا بیانات سے امریکہ کے بڑھتے قدم رک جائیں گے؟ اِس میں قطعی دو رائے نہیں کہ امریکہ ہو یا کوئی اور بڑی طاقت، سبھی اپنے مفادات کا ہر سطح پر تحفظ کرتے ہیں، انسانی حقوق کے ’’محافظ ‘‘جس طرح پوری قوموں کے حقوق سلب کرتے ہیں یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اگرچہ امریکہ کے محکمہ خارجہ نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے دھمکی آمیز خط میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکی آمیز خط کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔ پاکستان کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں ،پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی حمایت اور آئینی عمل کا احترام کرتے ہیں لیکن کیا تحریک عدم اعتماد سے کئی ماہ قبل پاکستان میں اِس ملک کے آفیشلز کی سرگرمیاں اِس دعوے کی تردید کے لیے کافی نہیں ؟
لہٰذا ہم ایک بار پھر یہی کہیں گے کہ اِس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اگر کسی جگہ پر انجانے میں بھول رہی ہے تو اِس کو فوراً سدھار لیا جائے کیونکہ لمحوں کی خطا کی سزا صدیاں پاتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاست اور ریاست کے سربراہ کی سلامتی کے لیے کون آگے آتا ہے، کون پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور کون خاموش تماشائی بنتا ہے،وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کل اتوار کے روز قوم کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا اِس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اُنہوں نے یہ مقدمہ عوام اور عوامی نمائندوں کی عدالت میں رکھ دیا ہے اور وہ اِس کا کیا فیصلہ کرتے ہیں یہ قوم کے سامنے آجائے گا، ظاہر ہے کہ پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی بڑی طاقتوں کے لیے قطعی ناقابل قبول نہیں اور وہ پاکستان کو اپنے اپنے کیمپ میں شامل کرنا چاہتے ہیں لیکن ماضی میں پاکستان ایک کیمپ کا حصہ رہ کر جتنا جانی و مالی نقصان اُٹھاچکا ہے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اُس کو ضرور مدنظر رکھا جائے۔ قوی امکان ہے کہ کل اتوار کو پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو اور بظاہر اِس کا جو بھی نتیجہ نکلے گا وہی ہماری خارجہ پالیسی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button