Editorial

 دھمکی آمیز مراسلہ پرسنجیدگی کی ضرورت

وفاقی حکومت نے وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز مراسلے میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو ملوث قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔ یہ مراسلہ تحریک عدم اعتماد آنے سے پہلے کا ہے، اگر ضرورت ہے تو وزیراعظم یہ دھمکی آمیز مراسلہ چیف جسٹس پاکستان کو دکھانے کے لیے تیار ہیں، ابھی یہ مراسلہ سول ملٹری قیادت تک محدود ہے اور کابینہ میں بھی ہر کسی کو اس خط کا علم نہیں۔ مراسلے میں براہ راست پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ذکر ہوا اور لکھاگیا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوئی تو خطرناک نتائج ہوں گے۔ لہٰذا بیرونی ہاتھ اور عدم اعتماد کی تحریک آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور اسد عمر نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ نواز شریف کس کس سے ملتے رہے، وزیراعظم جب چاہیں گے اس کی تفصیل بتا دیں گے۔ پی ڈی ایم کی سینئر لیڈر شپ بھی جانتی ہے۔ دوسری طرف پارٹی ترجمانوں کے اجلاس میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس کو خط دکھانے کا مقصد خط کی حقیقت کو آشکار کرنا ہے کیونکہ خط میں دھمکی دی گئی کہ عدم اعتماد ناکام ہونے پر سنگین نتائج ہوں گے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم نے خط چیف جسٹس کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی کے پیش نظرخط زیادہ لوگوں کے ساتھ شیئر نہیں کرسکتے ۔ وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ سات مارچ کو یہ دھمکی آمیز خط موصول ہو تا ہے اور خط میں براہ راست تحریک عدم اعتماد کا ذکر ہے، جیسے ہی ہمیں خط ملتا ہے اس کے اگلے روز تحریک عدم اعتماد پیش کر دی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ سے عالمی طاقتیں حکومتوں پر اثرانداز ہوتی رہی ہیں لیکن میں نے اپنی قوم سے وعدہ کیا ہے کہ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکوں گا۔ واضح رہے یہ وہی خط ہے جو وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو پریڈ گراؤنڈ جلسے میں لہراتے ہوئے اِس کے مندرجات کا مختصر ذکر کیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کی ابتدائی اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز کابینہ کے ارکان کوناصرف اِس خط کی تفصیلات سے آگاہ کیا بلکہ خط کے مندرجات شیئر کر کے خط کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سیل کردیا ۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایسی بھی اطلاعات ظاہر کی گئی ہیں کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید نے امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے جنوبی ایشیا سے ملاقات کے بعددفتر خارجہ کو خفیہ مراسلہ بھیجاتھا۔ حکومت نے خفیہ مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، دوسری طرف قومی اسمبلی کے اِن کیمرہ اجلاس میں بھی وزیرخارجہ مراسلہ پر بریفنگ دیں گے، وزیراعظم قومی سلامتی کمیٹی اجلاس بلائیں گے، اجلاس میں عسکری قیادت کو خفیہ مراسلہ دکھایاجائے گا اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے اِسی معاملے پر وزیراعظم عمران خان سے ملاقات
کی ہے۔ اگرچہ اِس خط پر حزب اختلاف کی طرف سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن بطور قوم ہمارے لیے یہ معاملہ انتہائی تشویشناک ہے اور پوری قوم کو اِس معاملے میں ایک پیج پر نظر آنا چاہیے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بیرونی کے ساتھ اندرونی ہاتھ بھی اِس سازش میں ملوث ہیں اور حزب اختلاف کے بعض رہنما اِس سارے معاملے سے بخوبی واقف ہیں۔ اِس سے تو پھر یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اب یہ معاملہ زیادہ دیر تک خفیہ نہیں رہ سکتا کیوں کہ قومی سلامتی کے ادارے کسی بھی صورت ریاست کے مفاد کے خلاف کسی کو کام نہیں کرنے دیں گے کیونکہ خود مختار اور آزاد ریاست کے طور پر کوئی ہمارے داخلی اور خارجی معاملات میں مداخلت کرے یہ کمزور سے کمزور پاکستانی کو بھی قبول نہیں تو ہمارے قومی ادارے کیسے قبول کرلیں گے۔ ریاست کے سربراہ عمران خان ہوں یا کوئی اور رہنما کسی طور پر بھی قبول نہیں کیا جاسکتا کہ کوئی بیرونی طاقت ہمارے سربراہ کو کسی معاملے پر دھمکی دے۔ لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق سمیت کئی ایک مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن کو مفادات کے خلاف چلنے پر نشان عبرت بنایاگیا لیکن اب ایسا قطعی نہیں ہونا چاہیے، اگرچہ حکومت حالیہ تحریک عدم اعتماد کو اِس خط کی دھمکیوں سے منسلک کررہی ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست کے محافظ تمام اداروں کو اِس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے کرقومی قیادت کو آگاہ کرنا چاہیے تاکہ قومی سطح پر جوابی لائحہ عمل مرتب کیا جاسکے۔ حکومت ملکی اعلیٰ مفاد میں خط کو منظر عام پر لانے سے گریزاں ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری حکم نامے میں وزیراعظم عمران خان کو خفیہ دستاویزات پبلک کرنے سے روکتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وزیراعظم اپنے حلف کی خلاف ورزی نہیں کریں گے کیوں کہ حلف اورآفیشل سیکرٹ ایکٹ وزیراعظم کو پابند بناتا ہے کہ اس سے بالاتر کوئی فیصلہ نہ کریں۔ فیصلے میں عدالت نے آئین کے آرٹیکل 91 شق 5 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شق 5 کا حوالہ دیاہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اِس اہم اور حساس معاملے پر ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو ایک پیج پر یعنی متفق نظر آنا چاہیے تاکہ ہم غیر ملکی آقائوں کی خواہشات کی مزید بھینٹ نہ چڑھیں، آج دھمکی وزیراعظم عمران خان کو ملی ہے کل کسی اور قومی لیڈر کو مل سکتی ہے، ریاست کو اپنی خارجہ پالیسی مدنظر رکھتے ہوئے اِس ضمن میں پائیدار اور محتاط قدم اٹھانا چاہیے کہ آزاد اور خود مختار ریاستیں اپنے فیصلوں میں آزاد ہوتی ہیں ذرائع ابلاغ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ شاید عمران خان کے دورہ روس پر روس مخالف بعض طاقتیں وزیراعظم سے خفاء ہیں اسی لیے وہ اِس حد تک پہنچ چکی ہیں لیکن مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ دورہ روس کسی فرد واحد کا نہیں بلکہ ریاست کا فیصلہ تھا اور ریاستیں اپنے فیصلے کرنے میں خود مختار ہوتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر ذمہ داران وزیراعظم عمران خان کے رورہ روس پر امریکہ سمیت دیگر ممالک کے تحفظات پر ریاست پاکستان کا موقف واضح کرچکے ہیں۔ اِس لیے اِس دھمکی آمیز مراسلے کو ناپسندیدگی کے ساتھ ایک آزاد ریاست کی خود مختاری میں مداخلت قرار دیا جانا چاہیے اور پوری قیادت کو ایسی آمرانہ سوچ کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جس کے ذریعے آزاد ریاستوں کی خود مختاری کو چیلنج کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button