Editorial

ملکی سیاست میں بڑی ہلچل

قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن لیڈر میاں شہبازشریف نے تحریک عدم اعتماد پیش کردی ہے۔ حزب اختلاف کے نمائندوں اورسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے مابین اتفاق رائے کے بعد اجلاس دو دن کے لیے ملتوی کردیاگیا اور اب دو روز وقفے کے بعد ہونے والے اجلاس میں عدم اعتماد پر بحث ہوگی۔اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بھی شامل تھی جو ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی اجازت کے بعد ایوان میں پیش کی گئی۔اجلاس میں حکومتی اتحادیوں یا پی ٹی آئی کے منحرف ارکان میں سے کوئی اس وقت ایوان میں موجود نہیں تھا۔ حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس مطلوبہ اراکین سے زیادہ تعداد ہے جس کے باعث عدم اعتماد کی کامیابی یقینی ہے جبکہ دوسری جانب حکومت کا بھی دعویٰ ہے کہ وہ عدم اعتماد کی تحریک میں حزب اختلاف کو شکست دے کر سرخرو ہوگی۔ سپیکر قومی اسمبلی نے حزب اختلاف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ رواں ہفتے ہی تحریک عدم اعتماد پر بحث کا آغاز ہوجائے گا اِس لیے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ حکومتی ترجمان دعوے دار ہیں کہ اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کی قیادت کے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں معاملات طے پاگئے ہیں اور چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ سونپی جارہی ہے جبکہ قیادت کے فیصلے کو وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کھلے دل کے ساتھ تسلیم کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو پیش کردیا ہے۔ قبل ازیں حزب اقتدار اورحزب اختلاف دونوں ہی مسلم لیگ قاف کی حمایت چاہتے تھے لیکن حکومتی ترجمانوں کے زبانی معلوم ہوا کہ مسلم لیگ قاف نے اپنی شرائط تسلیم ہونے پر اتحاد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا اور اسی طرح ایم کیو ایم کے متعلق بھی خبریں ہیں کہ اتحادی حکومت ان کے مطالبات مان گئی ہے لیکن بلوچستان عوامی پارٹی نے حکومت مخالف اتحاد کی حمایت کا اعلان کردیا ہے اِن کی رکن زبیدہ جلال نے اپنی پارٹی کے فیصلے کے برعکس حکومت کاساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے رہنما اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور بلوچستان شاہ زین بگٹی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیایوں وہ حکومت سے الگ ہوکر حزب اختلاف کے ساتھ جاملے ہیں۔ کئی ہفتوںسے ملکی سیاست میں ایسی ہی ہلچل اور بے یقینی ہے اسی لیے ہر نئے دن کے ساتھ صورت حال سنسنی خیز صورت حال اختیار کرتی جارہی ہے۔ اِدھر گذشتہ روز پنجاب اسمبلی میںبھی حزب اختلاف نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی لیکن مسلم لیگ قاف کے ساتھ حکومت کے معاملات طے ہونے کے بعد بظاہر اِس پر ووٹنگ کی نوبت نہ آئی اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے قیادت کے حکم پر استعفیٰ دیدیا ۔ حزب اختلاف نے عدم اعتماد کی تحریک 127 اراکین اسمبلی کے دستخطوں سے سیکرٹری پنجاب اسمبلی کو جمع کروائی تھی ساتھ ہی 120 اراکین اسمبلی کے دستخطوں سے اجلاس کی ریکوزیشن بھی جمع کروائی گئی
تھی۔ اِدھر مسلم لیگ قاف کے فعال رہنما اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ سامنے آنے پر اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے، حکومتی ترجمان دعوے دار ہیں کہ ان کے بعض ناراض اراکین قیادت سے رابطے میں ہیں اور وہ واپس آجائیں گے ایسا ہی خیال شاہ زین بگٹی کے متعلق بھی کیا جارہا ہے۔ حکومت بدلنے کے لیے حزب اختلاف کے دائو پیج اور حکومتی جوابی حکمت عملی کی وجہ سے سیاسی صورت حال کہیں ٹھہرنے کا نام نہیں لے رہی جس سے کوئی نتیجہ اخذ کیاجاسکے یا کسی نتیجے کے پاس پاس پہنچا جاسکے۔
وزیراعظم عمران خان نے پریڈ گرائونڈ میں ایک بڑا پاور شو کرکے بظاہر یہ پیغام دیدیا ہے کہ آج بھی اُن کی پارٹی اور عوام اُن کے ساتھ ہیں اور وہ جب چاہیں جہاں چاہیں پنڈال سجاسکتے ہیں اِس لیے کوئی اس مغالطے میں قطعی نہ رہے کہ اُن کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی ہے بلکہ وہ آج بھی اُتنے ہی مقبول ہیں جتنے اقتدار سے پہلے اور اقتدار ملنے کے بعد مقبول تھے۔ اگرچہ توقع ظاہر کی جارہی تھی کہ اِس پاور شو میں عمران خان کوئی ایسا بڑا اعلان کریںگے جس سے ملکی سیاست میں بھونچال آجائے گا لیکن اُنہوںنے اپنے خطاب میں نہ صرف اپنے ساڑھے تین سال کے کاموں کا ذکر کیا بلکہ دعویٰ کیا کہ ملکی تاریخ میں اِتنے کاموں کی مثال نہیں ملتی جو ملک و قوم کے مفاد کے لیے کیے گئے ہوں البتہ وزیراعظم عمران خان نے انکشاف کیا کہ اُن کے خلاف بالکل ویسی ہی سازش بیرون ملک سے رچائی گئی ہے جیسی سازش سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ رچائی گئی تھی ۔ بیرون ملک سے اُنہیں تحریری طور پردھمکیاں دی گئی ہیں اُنہوںنے پنڈال کے سامنے وہ خط بھی لہرایا جس کے متعلق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ جو ہمیں پیغام ملا وہ وزیراعظم اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے شیئر کیا گیا ہے ، تاہم اب وہ کس سے اور کیا کہنا چاہتے ہیں یہ ان کا اختیار بھی ہے اور صوابدید بھی ہے۔ بہرحال یہ انتہائی تشویش ناک امر ہے کہ بیرون ملک سے ہماری ریاست کے معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے اور جیسا کہ وزیراعظم نے بھی کہا کہ باہر سے پیسہ فراہم کرکے ہمارے لوگوں کو میرے خلاف استعمال کیا جارہا ہے اور مجھے معلوم ہے کہ کہاں کہاں باہرسے دبائو ڈالنے کی کوشش ہے۔ ملک کے اندرموجود اپنے لوگوں کی مددسے حکومتیں تبدیل کی جاتی رہیں۔ فضل اورنوازکی اس وقت کی پارٹیوں نے بھٹوکوپھانسی دلوائی،انہیں اکٹھاکرنیوالوں کابھی ہمیں پتہ ہے۔ہمارے ملک کو ہمارے پرانے لیڈر کے کرتوتوں کی وجہ سے دھمکیاں ملتی رہیں، ہمارے ملک کے اندر موجود اپنے لوگوں کی مدد سے حکومتیں تبدیل کی جاتی رہیں،ملک کی خارجہ پالیسی کو مروڑنے کی کوشش باہر سے کی جارہی ہے اور باہر سے ہی ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی کو متاثر کیا جارہا ہے۔ اگرچہ حزب اختلاف کی طرف سے اِس بات پر ٹھٹھے اڑائے جارہے ہیں لیکن درحقیقت یہ تشویش ناک امر ہے کہ ہماری ریاست کے سربراہ کو بیرون ملک سے دھمکیاں دی جارہی ہیں، ہمارے باہمی سیاسی اختلافات ایک جگہ، لیکن ہماری ریاست کے سربراہ پر بیرون ملک سے ایسا دبائو یقیناً پوری قوم کے لیے تشویشناک ہونا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button