Column

پی این اے اور پی ڈی ایم کی تحریک …. امتیاز عاصی

امتیاز عاصی
ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف 1977 کی پی این اے کی تحریک میںبشمول مذہبی نو سیاسی جماعتوں نے حصہ لیا جن میں جماعت اسلامی، جے یو آئی اور مولانا شاہ احمد نوارنی کی جماعت پیش پیش تھی۔بھٹو کے خلاف تحریک کے پس پردہ جو بھی محرکات تھے ان سے ہٹ کر پی این اے کی تحریک کو عوام میں بڑی پذیرائی ملی ۔ شاید عوام کے ذہنوں میں یہ بات تھی پی این اے ملک میں بہت جلد اسلامی نظام نافذ کر دے گی۔ عوامی توقعات کے برعکس اسلامی نظام کا نفاذ خواب ہی رہا اور اس کی جگہ مارشل لاء نے لے لی۔جنرل ضیاء الحق اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک اسلامی طرز حکومت کا خاکہ پیش کرنے کی خاطر مجلس شوریٰ کا قیام عمل میں لائے جس کی چیئرمین شپ مسلم لیگی رہنما خواجہ آصف کے والد محترم خواجہ محمد صفدر کے حصے میں آئی۔چنانچہ ملک میں جمہوری نظام کے احیاء کے لیے مارشل لاء حکومت نے غیر جماعتی انتخابات کا انعقاد کیا جس میںسندھ کے تعلق رکھنے والے شریف النفس اور راست باز سیاست دان محمد خان جونیجوکو ملک کا وزیراعظم بنایا گیا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں قائد اور ان کے ساتھیوں کے بعد اگر کوئی راست باز سیاست باز وزیراعظم ہو، گزرا ہے وہ جونیجو صاحب تھے۔وہ مغربی پاکستان کے ہائوسنگ اینڈ ورکس کے وزیر رہے مگر اپنے اوپر کرپشن کا شائبہ تک نہیں آنے دیا۔ایک دوست جو ان کے ساتھ بطور سکیورٹی آفیسر تعینات تھے، بتا رہے تھے جب ان کی اہلیہ علیل ہوئیں تو جونیجو صاحب نے اپنے ذاتی اخراجات پر ان کا علاج معالجہ کرایا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض سیاسی وجوہات کی بنا ان کے اقتدار کا عرصہ بہت کم رہا۔اگر ہم نگران وزرائے اعظم کو چھوڑ کر منتخب وزرائے اعظم کے دور پر نظر ڈالیں تو بے نظیر بھٹو کا دور ہو یا نواز شریف کا ۔ہر طرف کرپشن کا دور دورہ تھا۔کورئین جنرل پرویز مشرف کو جو کچھ بتا کر گئے، ہم اس کا ذکر کرنا مناسب خیال نہیں کرتے۔نواز شریف اور بےنظیر بھٹو ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کے مقدمات بناتے رہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زردری کے خلاف جو مقدمات قائم ہوئے جنہوں نے ان کے خلاف مقدمات بنائے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے خلاف منی لانڈرنگ، سرکاری وسائل کا ناجائز استعمال اور بیرون ملک جائیدادیں بنانے کے مقدمات ابھی تک زیر سماعت ہیں۔قومی خزانہ لٹتا رہا اور ملک مقروض ہوتا گیا۔آج ملک کئی سو ارب ڈالر کا مقروض ہے۔جس ملک کی 22 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 15 لاکھ ٹیکس دینے والے ہوں وہ ملک ترقی کر سکتا ہے؟عوام نے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی، دونوں کے دور دیکھ لیے ۔2018 کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کے نتیجہ میں پی ٹی آئی نے اقتدار کی باگ دوڑ سنبھال لی۔عمران خان وزیراعظم منتخب ہوئے۔اس دوران دوسری جماعتوں کے چند طالع آزمائوں نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت کرلی۔ وقت گذرنے کے ساتھ جب وزیراعظم نے ٹیکس اصلاحات کا نفاذ کیا تو ملک کی تاجر برادری جو پہلے ہی نواز شریف کی حامی تھی حکومت کے خلاف ہوگئی جس کے بعد روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ حکومت کو مہنگائی کا باعث بننے والوں کے خلاف جواقدامات کرنے چاہیے تھے، وہ کرنے سے قاصر رہی۔اس دوران مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے خلاف کچھ پرانے اور کچھ نئے مقدمات درج ہوتے رہے۔ حکومت کے خلاف پی ڈی ایم کی تحریک کی ابتداء میں مہنگائی کا کوئی ذکر نہیں تھا بلکہ صرف اور صرف وزیراعظم کوہٹانا مقصود تھا۔جلسے اور ریلیاں ہوتی رہیں۔ آخر کار کسی سیانے نے اپوزیشن کومشورہ دیا کہ مہنگائی کو خوب expolitکرو۔مہنگائی سے غریب طبقہ بلبلانے لگا۔پہلے ویسے مارچ تھا پھر مہنگائی مارچ ہو گیا۔ درحقیقت سیاست دانوں کو اپنے خلاف مقدمات سے کسی طرح جان بخشی کرانا مقصود تھا، عمران خان ضد کے پکے ہیں ان سے جان چھڑانے کا ایک ہی طریقہ تھا ان کے خلاف عدم اعتماد لائی جائے۔ رفتہ رفتہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کاشور شراباہونا
شروع ہوگیا۔پوزیشن اور حکومت دونوں نے اتحادیوںاور باغیوںسے رابطے شروع کر دیئے اس دوران بہت سے حکومت مخالف کیمپ کے اسیر بن گئے۔ پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے ارکان کی امیدیں بر نہ لاسکیں انہیں تو امید تھی کہ حکومت کے ساتھ شامل ہوکر راتوں رات امیر بن جائیں گئے۔ آخر کار وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد دائر ہو گئی۔ اس دوران حکومت کی بعض اتحادی جماعتوں کا کردار قابل تعریف نہ رہا۔کسی حد تک عوام نے پی ٹی آئی کا دور بھی دیکھ لیاہے۔ اگر آئندہ انتخابات میں عوام نے انہی کرپٹ سیاست دانوں کو ووٹ ڈالنے ہیں تو پھر ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔عوام کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے اگر وہ غلط حکمرانوں کا انتخاب کریں گے تو اس معاملے میں اللہ کو بھی جواب دہ ہوں گے۔ملک وقوم کا مال کھانے والوں کا انتخاب کرنے کی ذمہ داری انہیں ووٹ ڈالنے والے عوام پر ہوتی ہے۔ ہمیں غلط کو غلط کہنے میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیے۔پی این اے کی بھٹو حکومت کے خلاف تحریک کا مقصد تو ملک میں اسلامی نظام کااحیاء تھالیکن پی این اے کی بعض جماعتیں مارشل لاء حکومت کادم چھلا بن گئیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور کے بعد ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ایک خواب بن گیا ۔ جے یو آئی، جمیعت الحدیث اور جماعت اسلامی، مسلم لیگ نون کے ساتھ شریک اقتدار بننے کے باوجود اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کچھ نہیں کرسکیں۔ درحقیقت متحدہ اپوزیشن کی وزیراعظم کے خلاف تحریک کا مقصد اپنے خلاف مقدمات سے گلو خلاصی ہے نہ کہ مہنگائی کا خاتمہ ۔ سیاست دان وکلاء کو بھاری فیسیں دے کر مقدمات کو طوالت تو دے سکتے ہیں ختم نہیں کرسکتے۔ کیا گارنٹی ہے کہ حکومت جانے کے بعد شریف خاندان اور زرداری کے خلاف مقدمات ختم ہو جائیں گے؟ شاید یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔ملک میں بہت جلد انتخابات کا انعقاد ہوگا۔ جو بھی نگران سیٹ اپ بنے کم ازکم شہباز شریف وزیراعظم نہیں ہوں گے اورنہ ہی زرداری خاندان کا کوئی فرد نگران وزیر اعظم بن سکے گا۔ متحدہ اپوزیشن کا حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو سیاست دان ہاتھ ملتے رہ جائیں لہٰذا ایسے وقت سے بچنا ہی جمہوریت کے لیے بہتر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button