Column

عالمی حالات خان کو تقویت کا باعث ہیں! … کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

روس کایوکرین پردھاوا بولنے کے بعد دنیا بدل رہی ہے بلکہ بدل چکی ہے۔اس ساری صورتحال میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی ٹی وی کو دیا انٹرویو بہت اہمیت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور یوکرین سے اپیل کی ہے کہ امریکہ کے موجودہ صدراور ان کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن پر بدعنوانی اور اس وقت کے نائب صدر امریکہ(جو بائیڈن) سے جوناتھن لی کی ملاقات کروانے پر مقدمہ چلایا جائے۔ ہنٹر بائیڈن نے چین کی بڑی انویسٹمنٹ بنکنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جوناتھن لی کے ساتھ 2013 میں امریکہ کے سرکاری جہاز پر بیجنگ جا کر ملاقات کی اور اس ملاقات میں جو بائیڈن بھی شامل تھا ، کو صرف چائے کی دعوت قرار دیا لیکن ملاقات کے 12 دن کے بعد چین کی اتھارٹیز نے BHR Partnersکے نام سے ایک ایکویٹی کمپنی کی منظوری دی جس کا چیف ایگزیکٹو جوناتھن لی اور ہنٹر بائیڈن بورڈ ممبر تھا۔ ہنٹر بائیڈن کو اس کمپنی میں سے10 فیصد شیئرز کا مالک بنایا گیا ۔BHR Partners چین کی سب سے بڑی بنکنگ انویسٹمنٹ کمپنی ہے جس کے پیچھے چین کے تمام بڑے بنک اور لوکل گورنمنٹس کے ادارے کھڑے ہیں۔اسی طرح یوکرین کی سب سے بڑی انرجی کمپنی Burisma Energies کے چیف ایڈوائزر Vadym Pozharskyi کی 2015 میں ہنٹر بائیڈن کو بھیجی گئی شکریہ کی ایک ای میل منظر عام پر آئی جس میںVadym Pozharskyi نے جو بائیڈن کے بیٹے(Hunter Biden) ہنٹر بائیڈن کااس بات پر شکریہ ادا کیا تھا کہ اس نے اس وقت کے صدر امریکہ باراک اوباما کے یوکرین، امریکہ امور پر سپیشل ایڈوائزرجو بائیڈن سے اس کی ایک خصوصی ملاقات کروائی تھی۔ اس خدمت کے عوض ہنٹر بائیڈن کو Burisma Energies کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ممبر بنایا گیاجس کے عوض اسے 2020 تک ایک کثیر رقم بطور معاوضہ ادا کی جاتی رہی۔

امریکہ کے تحقیقاتی ادارے ان تمام معاملات پر تحقیقات کر رہے ہیں لیکن اب چونکہ جو بائیڈن امریکہ کا صدر بن چکا تو ان تحقیقات کا نہ تو کوئی نتیجہ سامنے آیا ہے نہ ہی مستقبل قریب میں ایسی کوئی امید ہے۔ اب جبکہ جو بائیڈن اور امریکہ کی یوکرین میں دخل اندازی بالخصوص وہاں کی سب سے بڑی انرجی کمپنی کے معاملات میں دخل اندازی سامنے آ چکی ہے تو امریکہ اور صدر جو بائیڈن روس کے یوکرین پر حملے کے جواب میں ماضی کی بدمعاشی کی طرز پر جواب دینے سے قاصر ہیں۔قارئین کو بتانے کی ضرورت ہے کہ قدرتی گیس اور تیل کی دولت سے مالامال یوکرین کے معاملات میں گھس کر دخل اندازی کرنے کا امریکی مقصد صرف روس اور چین کو زیر کرنا ہرگز نہیں تھا بلکہ اس کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا اور پھر بلیک سی کی جانب سے چین اور روس کا سی پیک کاراستہ روکنا تھا۔اس مقصد کے لیے موجودہ صدر امریکہ جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو2011 سے استعمال کیا جا رہا تھا اور اس نے اب تک کئی ہزار ملین ڈالرز بطور کمیشن یا رشوت بھی اکٹھے کئے۔یہ ایک گریٹر منصوبہ تھا اوراسی وجہ سے سی آئی اے اور پینٹاگون نے پچھلے انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو جیتا ہوا الیکشن ہروایا تھا۔یہ منصوبہ روس، چین، پاکستان اورجارجیا سمیت تمام وسط ایشیائی ریاستوں میں گھسنے کی ایک بہت بڑی سازش تھی۔موجودہ صدر یوکرین ولادیمیر زلینسکی(مزاحیہ اداکار) کو اقتدار میں لانے کا مقصد بھی یہ ہی تھا۔ اس خطے میں آذربائجان کے ہاتھوں آرمینیا کو بدترین شکست کے بعد یوکرین میں بدترین پسپائی دراصل امریکہ کی دنیا کی سیاست میں بدترین تنزلی اور ناکامی کا تسلسل ہے۔ پچھلے قریباً پچاس سال سے دنیا کے مختلف خطوں اور ممالک میں تباہی مچانے والا امریکہ اور اس کے حواری یورپی یونین(نیٹو فورسز) یوکرین پر روسی حملے کے بعد جتنا بے بس اب دکھائی دے رہے ہیں اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ دنیا مکافات عمل کا مقام ہے اور ایک مقررہ وقت کے بعد جو بھی کیا ہوتا ہے وہ گھوم کر آپ کے سامنے آ جاتا ہے۔یہ معاملہ صرف فرد یاافراد کے لیے ہی نہیں بلکہ قوموں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ قوموں کے فیصلے ان کے حکمران کیا کرتے ہیں اور اگر ان فیصلوں میں حکمرانوں کاساتھ ان کی قومیں نہ دیں تو پھر کبھی امریکہ ویت نام، عراق، مصر، تیونس، لیبیا، سوڈان، افغانستان، شام ، ایران اور دوسرے ممالک پر چڑھائی نہ کر سکتا۔
اس تلخ حقیقت کو مان لینا ہو گا کہ یہ دنیا اب طاقتور کی ہے اور کمزور چاہے فرد ہو یا قوم، اس کا اس دنیا میں رہنا مشکل ترین ہو چکا ہے۔اس تمام تناظر میں ہمیں موجودہ حکومت کو داد دینا ہو گی کہ بدلتی دنیا میں خارجہ مقام پر جو فوری فیصلے ماضی میں بھٹو کے علاو ہ کسی حکومت نے نہیں کئے وہ فیصلے عمران خان اور ان کی کابینہ نے فوری کئے۔ان فیصلوں میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا بہت بڑا ہاتھ ہے لیکن بدلتی دنیا کے حالات میں جو ٹرن عمران خان کی حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی میں لیا ہے اس کی خواہش اور تمنا تو ہم دہائیوں سے کرتے چلے آ رہے تھے۔
روس اور یوکرین کی موجودہ صورتحال کے اثرات پاکستان کی سلامتی کے تناظر میں مثبت نکلیں گے بالخصوص پاکستان، چین اورروس کا سی پیک کے مستقبل کو لے کر جو قدرتی اتحاد بن چکا ہے ، اس میں سے امریکہ لمحہ بہ لمحہ دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ ویسے بھی امریکہ اور یورپی یونین جس قسم کی پابندیاں روس پر لگا رہا ہے یالگانے کی دھمکیاں دے رہا ہے ان کے نقصانات روس سے زیادہ یورپ بھر کو ہوں گے جو وہ زیادہ عرصہ برداشت نہیں کر پائیں گے۔
جو کچھ چین، روس، یوکرین اور دوسرے ممالک میں امریکہ پس پردہ کرتا چلا آ رہا ہے، پاکستان اس سے غافل تو نہیں تھا لیکن ماضی میں برسراقتدار نواز شریف اور آصف علی زرداری چونکہ کرپٹ تھے اور یہاں کا سرمایہ لوٹ کر امریکہ ، برطانیہ اور دوسرے ممالک میں رکھے ہوءتھے اس لیے پاکستان کی سالمیت اور آزاد خارجہ پالیسی بنانے میں بدترین ناکامی کا سبب ان کے مالی مفادات تھے۔ آج ان ہی مالی مفادات کاشکارامریکہ کا صدرجو بائیڈن ہے، جو دنیا کے دوسرے کونے(یوکرین) میں توسیع پسندانہ عزائم کے ساتھ دخل اندازی کے ساتھ ساتھ پیسہ بھی کماتارہا لیکن آج دنیا بدل چکی ہے۔روس کا اپنی سالمیت اور آزادی کے تناظر میں یوکرین کو برسوں باز رہنے کی تنبیہہ کے بعد حملے نے دنیا کی صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم کے بروقت دورہ روس نے پاکستان کو اول تو غیر وابستہ ملک بنا دیا اور دنیا نے بہت عرصہ کے بعد پاکستان کی آزاد خارجہ پالیسی دیکھی ۔ دوسرا عمران خان کو اس عالمی نئی صورتحال نے تقویت بخشی ہے اور انہوں نے اپنے ایک ہی خطاب کے ذریعے اپوزیشن(جو واضح طور پر بیرونی ایجنڈے (امریکی) پر اکٹھی ہوئی تھی)کے غبارے سے بری طرح ہوانکال دی ہے۔وزیراعظم کے سوموار کے خطاب میں عالمی منڈیوں میں تیل کے قیمتوں میں بے پناہ اضافے اور قلت کے باجودتیل اور بجلی کی قیمتیں نہ صرف کم کرنابلکہ اگلے بجٹ تک موجودہ قیمتیں برقرار رکھناایک اچھاقدم ہے اوراس نے اپوزیشن کے بھونپووں کی زبانیں ہی گنگ کر دی ہیں۔مجھے موجودہ صورتحال میں پاکستان میں سیاسی حالات نارمل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کیونکہ ماضی میں ملک کو گدوں کو طرح نوچ کر کھانے والوں سے تو مستقبل میں بھی کسی خیر کی توقع کی ہی نہیں جاسکتی۔ میرا وجدان ہے کہ اب عمران خان ان مافیا سیاستدانوں کی دم پر زوردار پاو ¿ں رکھنے والے ہیں جس میں ان کا ساتھ جہلم کے سیاسی خانوادے سے تعلق رکھنے والے طاقتور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اپنی دلیل کی پرزور طاقت سے نہایت کامیابی سے دیتے نظر آ رہے ہیں۔ ویسے بھی روس میں سفارتی کامیابی اور عالمی طاقت کا یکدم تبدیل ہونا(امریکی بالادستی کا خاتمہ)ہمارے ان طاقت واقتدار کے بھوکے سیاست دان نما مخلوقات پر بجلی گرا چکا ہے۔پاکستان کی سیاست میں چائے کی پیالی میں جوطوفان امریکی سفارتکاروں کی اپوزیشن کے رہنماو ¿ں سے ملاقاتوں کے بعد برپا کیا گیا تھا وہ بھی یکدم رک چکا جبکہ بلاول زرداری لانگ مارچ کے نام پر سندھ حکومت کے وسائل استعمال کرتے ہوئے نہ صرف عوام کی نظر میں بھٹو فیملی کی تضحیک کا باعث بن رہا ہے بلکہ پیپلز پارٹی کو اپنے منطقی انجام تک پہنچا رہا ہے۔بہر حال اگر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو مستقبل میں یوں ہی متوازن اور آزاد رکھا گیا تو آنے والا وقت پاکستان کے عوام اور عمران خان کا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button