Column

مہنگائی اور معاشی مشکلات ….. سی ایم رضوان

 سی ایم رضوان

آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق موجودہ صورتحال میں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں رہا کہ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے، ملکی معیشت کو پہلے ہی بہت سے چیلنجز درپیش ہیں اور ایسے میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات تمام شعبہ ہائے زندگی پر پڑیں گے۔ عام آدمی سمیت صنعت اور زراعت بُری طرح متاثر ہو گی، پاکستان کی برآمدت کا ہدف پورا کرنا مشکل ہو گا، مہنگائی، غربت اور بیروزگاری میں اضافہ ہو گا۔ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی کڑی شرائط پوری کرتے کرتے ملکی صنعت اور عوام کا جینا مشکل ہوچلا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے پہلے ہی یہ کہہ رکھا ہے کہ مہنگائی کے حالیہ اعداد و شمار متغیر ہیں اور ماہ بہ ماہ اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی بڑی وجوہات بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور چینی و گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ آئندہ مہینوں کے دوران عمومی مہنگائی کے اعداد و شمار میں ظاہر ہوتا رہے گا جس سے رواں مالی سال میں بھی مہنگائی بڑھتی رہے گی۔ حکومت پاکستان بھاشا ڈیم سمیت کئی اور چھوٹے ڈیموں پر تو کام کر رہی ہے لیکن کالا باغ ڈیم جیسے قابل عمل مگر مفید منصوبے کو سیاسی گورکھ دھندے سے نکالنے کے لیے رتی بھر بھی کوششیں نہیں کر رہی ، حالانکہ اس پر کام کو آگے بڑھانے کے لیے وفاقی وزیر مونس الٰہی نے حال ہی میں وزیراعظم کو تجویز بھی دی ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے اس اہم منصوبے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی سفارش 1960ءمیں ورلڈ بینک نے بھی کی تھی لیکن 56 سال کا طویل عرصہ ہم نے سیاست کی نذر کر دیا اور سالانہ قریباً 4000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے اس اہم منصوبے کے فوائد سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آبی ماہرین کئی بار پانی سے بجلی پیدا کرنے کے اس سستے ترین منصوبے کو پورے ملک کے لیے نہایت کار آمد قرار دے چکے لیکن قومی مفاد کا یہ منصوبہ گروہی اور سیاسی مفادات کی زد میں آچکا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم نے پانی سے بروقت فائدہ اٹھایا ہوتا تو آج وطن عزیز میں ہر طرف اُجالا ہی اُجالا ہوتا۔ ہماری صنعتوں کا پہیہ پوری رفتار سے گھومتا اور ہماری برآمدات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہوتا، سب سے بڑھ کر ملکی معیشت مضبوط ہونے کی وجہ سے آج ہمارا شمار بھی خوشحال ممالک میں ہوتا لیکن افسوس ذاتی مفادات، صوبائی تعصب اور باہمی منافرت نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ آج ہم دنیا کی مہنگی ترین بجلی پیدا کرنے پر مجبور ہیں، ملکی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دب چکی ہے، ایسے میں حکومتی معاشی ماہرین ایسے فیصلے کررہے ہیں جس سے عام آدمی براہ راست متاثر ہورہا ہے۔

حکومت کے ان فیصلوں سے عوام کے لیے بجلی کے بل ادا کرنا قریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ خدشہ ہے کہ انتہائی مہنگے نرخ عام صارف کو بھی مجبور کردیں گے کہ وہ بھی بجلی چوری کرے، جبکہ بجلی چوری کے راستے اور طریقے محکمہ بجلی کے اہلکار مبینہ طور پرخود بتا دیتے ہیں، یعنی کرپشن کا ایک راستہ نچلی سطح تک بھی کھل جائے گا۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر بجلی کے نرخ کم رکھے جائیں تو زیادہ بجلی کے استعمال سے حکومت کو زیادہ آمدنی حاصل ہوگی لیکن یہاں تو حکومت یکطرفہ معاشی سدھار پر ہی عمل پیرا ہے۔ ہمارا ہمسایہ بھارت تو اپنے ہر علاقے میں بلکہ ہمارے ہی پانیوں پر سیکڑوں ڈیم بنا چکا لیکن ہم کفرانِ نعمت کے مرتکب ہوتے ہوئے اس پانی کو توانائی کے لیے استعمال کیے بغیر مسلسل سمندر میں گرا رہے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ ہمارے تین دریا راوی، ستلج اور بیاس بند ہو چکے ہیں اور ان دریا ¶ں سے اڑتی ہوئی خاک ہمارے قحط زدہ مستقبل کی بری خبر دے رہی ہے۔ حالانکہ ایک زرعی ملک ہونے کی وجہ سے ہمیں اپنی زراعت کے لیے وافر پانی کی بھی ضرورت ہے۔ زرعی مقاصد کے لیے ٹیوب ویل چلانے میں بھی بجلی درکار ہوتی ہے، دوسری طرف ڈیزل مہنگا ہونے کی وجہ سے اس سے ٹیوب ویل نہیں چلایا جا سکتا کیونکہ اس کے فی گھنٹہ چلانے کے اخراجات کسان کے بس سے باہر ہو چکے ہیں۔
ویسے تو سال 2020 پوری دنیا ہی کے لیے کسی عذاب سے کم ثابت نہیں ہوا لیکن بالخصوص پاکستانی نوجوان تو ہر اعتبار سے ابتری کے شکار نظر آئے۔ ہماری ملکی آبادی کا 63 فی صد نسلِ نو پر مشتمل ہے۔ اس لیے نسلِ نو کی طاقت کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوان بھی یہ بات تسلیم کر چکے ہیں کہ بس اسی حال میں جینا پڑے گا کہ سالِ رفتہ تو گزشتہ برسوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی کٹھن ثابت ہوا۔ درحقیقت بے روزگاری، مفلسی، بھوک اور بیماری کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے، ایک بے رزوگار نوجوان خاندان کے تمام افراد کی بدحالی اور پریشانی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔
دوسری جانب بے روزگاری اور غریبی کی وجہ سے طرح طرح کی اخلاقی اور سماجی برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ بے روزگاری کے انفرادی اور سماجی نقصانات کے علاوہ سب سے بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ بے روزگاری کااثر ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالتا ہے، دنیا کی نظر میں وہ ملک پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ سمجھا جاتا ہے جو اپنے باشندوں کی ایک بڑی تعداد کو نوکریاں بھی فراہم نہیں کر سکتا، تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بیروزگاری کا مطلب ہے کہ ملک کے تعلیمی منصوبوں سے جو ملک کو ترقی اور فائدہ ہونا چاہیے تھا وہ سب بے کار اور ضائع ہورہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں دنیا کی نویں بڑی لیبر فورس ہے،جو ہر سال بڑھتی جارہی ہے۔مالی سال 2019-2020میں بے روز گار افراد کی تعداد 58 لاکھ تھی، جب کہ 2020-21 میں یہ تعداد66لاکھ 50ہزار تک بڑھ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ برس مُلک میں ملازمت پیشہ افراد کی تعدادقریباً 6کروڑ 92 لاکھ رہی۔ پاکستان میں تعلیم یافتہ بے روزگار افراد کی تعداد میں بھی خاصا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ڈگری ہولڈر نوجوانوں میں شرحِ بے روزگاری مجموعی طور پر بے روزگار افراد کے مقابلے میں قریباً 3گنا زیادہ ہے اور اس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ جامعات میں پڑھائے جانے والے مضامین اورمُلک کی معاشی ضروریات کے مابین ہم آہنگی نہیں ، چونکہ پاکستان میں پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے شعبوں میں بہت کم داخلے ہوتے ہیں تو نوجوانوں میں روزگار سے متعلق صلاحیتوں کے اس فرق کے نمایاں اثرات سامنے آرہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم اور روزگار کے مابین ایک متحرک رشتہ استوار کیا جائے۔اقتدار میں آنے سے قبل تو ہر سیاسی جماعت کا موقف ہوتا ہے کہ روزگار فراہم کرناریاست کی ذمے داری ہے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد یہ سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ کرونا کے باعث لاک ڈا ¶ن کے دوران تعلیمی ادارے بند کرنا اپنی جگہ پر حکومت کی انتظامی مجبوری تو تھی لیکن یہ ضمانت کوئی نہ دے سکا کہ کروڑوں بچوں کا تعلیمی مستقبل کیا ہوگا۔ ملک میں تعلیم وصحت کے شعبوں کی حالت زار کا بھی سب کو علم ہے۔ ایسے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عام پاکستانی مہنگائی سمیت کئی معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت آئندہ ایک ڈیڑھ سال میں یہ مشکلات دور کر پائے گی یا نہیں اور اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو یقینی طور پر خوابوں کی بنیاد پر ہی آئندہ انتخابات میں عوام ووٹ ڈالیں گے اور اس میدان میں الاماشا اللہ ہماری قوم کسی دوسری قوم سے پیچھے نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button