Column

نا شُکرے لوگ ….. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد
شکر گزاری اور نا شکری دونوں ایک دوسرے کی ضدہیں، اگر شکر گزاری اللہ کی نعمتوں کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے تو ناشکری اللہ کے غضب اور اس کے دردناک عذاب کو واجب کرنے والی ہے۔اللہ کا فرمان ہے:”اگر تم شکر گزاری کروگے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کروگے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے“ ۔ سورة سبا میں اللہ تعالی واضح کرتے ہیں کہ”میرے بندوں میں شکر گزار بندے کم ہی ہوتے ہیں“۔ دراصل جب انسان دنیاوی نعمتوں سے متعلق اپنے سے آسودہ حال اور مالداروں کو دیکھتا ہے تو ناشکرا بن جاتا ہے اور جب اپنے سے غریبوں اور بد حال و مفلس لوگوں کو دیکھتا ہے تو اللہ کا شکر گزار بندہ بن جاتا ہے۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب تم میں سے کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو مال اور شکل و صورت میں اس سے بڑھ کر ہو تو اسے چاہیے کہ ایسے شخص کی طرف دیکھ لے جو مال اور شکل و صورت میں اس سے کم درجے کا ہے“۔جو لوگ فکر آخرت سے بالکل غافل ہوکر دنیا کی لذتوں اور رنگینیوں میں گم ہو جاتے ہیں ایسے لوگ بھی بڑے ناشکرے ہوتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے بارے میں فرماتا ہے:”اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، فائدہ اٹھاتے اور کھاتے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں ان کا (اصل) ٹھکانہ جہنم ہے“
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ نعمتیں مجھے ملی ہیں سب میری کوششوں کا نتیجہ ہیں اس میں اللہ کا کوئی احسان نہیں ایسے لوگ کبھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے ایسے لوگ قارون صفت ہیں جس قارون کو اللہ نے اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسادیا۔حالانکہ ہم میں سے 95 فیصد لوگ گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں، میں اکثر لوگوں سے پوچھتا ہوں ”تم اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتا ¶ کیا تم اپنے والد سے بہتر زندگی نہیں گزار رہے؟“ ہر شخص ہاں میں سر ہلاتا ہے، آپ بھی کسی دن تحقیق کر لیںمعلوم ہو گا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے دور میں بھی زندگی میں جو نعمتیں اور آسائشیں ہمیں میسر ہیں وہ ہمارے آباءکو نصیب نہ تھیں۔آپ کسی روز اپنے بچپن اور اپنے بچوں کے بچپن کا موازنہ بھی کر لیں، آپ کو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ملے گا۔ آپ کے گھر میں بچپن میں ایک پنکھا تھا اور پورا خاندان ”اوئے پکھا ادھر کرئیں“ کی آوازیں لگاتا رہتا تھا، سارا محلہ ایک روپے کی برف خرید کر لاتا تھا، لوگ دوسروں کے گھروں سے بھی برف مانگتے تھے، ہمسایوں سے سالن مانگنا، شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جوتے ادھار لینا بھی عام تھا، بچے پرانی کتابیں پڑھ کر امتحان دیتے تھے۔ دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا، سویٹ ڈش میں صرف میٹھے چاول اور کھیر بنتی تھی، مرغی صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی اور بیمار بے چارے کو اس کا بھی صرف شوربا ملتا تھا۔ پورے محلے میں ایک فون ہوتا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا ہوتا تھا، ٹیلی ویژن بھی اجتماعی دعا کی طرح دیکھا جاتا تھا، بچوں کو نئے کپڑے اور نئے جوتے عید پر ملتے تھے۔سائیکل خوش حالی کی علامت تھا اور موٹر سائیکل کے مالک کو امیر سمجھا جاتا تھا۔
آپ کسی سے پوچھ لیں آپ کو ہر ادھیڑ عمر پاکستانی کی ٹانگ پر سائیکل سے گرنے کا نشان بھی ملے گا اور اس کے دماغ میں انٹینا کی یادیں بھی ہوں گی اور کوئلے کی انگیٹھی اور فرشی پنکھے کی گرم ہوا بھی۔ ہم سب نے یہاں سے زندگی شروع کی تھی۔ اللہ کا کتنا کرم ہے اس نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا!۔آپ یقین کریں قدرت ایک نسل بعد اتنی بڑی تبدیلی کا تحفہ بہت کم لوگوں کو دیتی ہے، آج اگر یورپ کا کوئی بابا قبر سے اٹھ کر آ جائے تو اسے بجلی، ٹرین اور گاڑیوں کے علاوہ یورپ کے لائف سٹائل میں زیادہ فرق نہیں ملے گا جب کہ ہم اگر صرف تیس سال پیچھے چلے جائیں تو ہم کسی اور ہی دنیا میں جا گریں گے۔ لیکن سوال یہ ہے اتنی ترقی، اتنی خوش حالی اور لائف سٹائل میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں؟ میں جب بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں تو ذہن میں صرف ایک ہی جواب آتا ہے” ناشکری“۔ ہماری زندگی میں بنیادی طور پر شکر کی کمی ہے، ہم ناشکرے لوگ ہیں، آپ نے انگریزی کا لفظ ڈس سیٹس فیکشن سنا ہوگا، یہ صرف ایک لفظ نہیں، یہ ایک خوف ناک نفسیاتی بیماری ہے اور اس بیماری میں مبتلا لوگ تسکین کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا لوگ پانی پیتے ہیں لیکن پانی پینے کے باوجود ان کی پیاس نہیں بجھتی، یہ برف تک گھول کر پی جائیں گے لیکن اس کے باوجود ان کی زبان باہر لٹک رہی ہو تی ہے، ہم میں سے کچھ لوگ ”آل دی ٹائم“ بھوکے بھی ہوتے ہیں، یہ کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے ہیں لیکن ان کی بھوک ختم نہیں ہوتی اور ہم میں سے کچھ لوگ اربوں کھربوں روپے کمانے کے باوجود امیر نہیں ہوتے، کیوں؟ آپ نے کبھی سوچا! کیوں کہ یہ لوگ بیمار ہوتے ہیں اور ان کی بیماری کا نام ”ڈس سیٹس فیکشن“ہے۔ان کے پیٹ، ان کے معدے اور ان کی حرص کے صندوق مرنے تک خالی رہتے ہیں اور ہم من حیث القوم کسی نہ کسی حد تک ڈس سیٹس فیکشن کی بیماری کا شکار ہیں اور اس بیماری کی واحد وجہ وٹامن شُکر کی کمی ہے۔ شکر ہمارے اللہ کا وہ واحد ”عمل انگیز“ (کیٹالسٹ) ہے جو ہماری خوش حالی میں خوشی، ہماری اچیو منٹ میں منٹ اور ہماری کام یابی کو کام بناتا ہے، انسان جب شکر چھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ڈس سیٹس فیکشن میں مبتلا ہو جاتا ہے اور یہ بیماری پھر مریض کا وہی حشر کرتی ہے جو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔حالیہ مثال کو ہی لے لیں جب عمران خان وزیر اعظم کا حلف لے رہا تھا تو اپوزیشن اسی دن کہہ رہی تھی کہ عمران خان نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا۔اور آج ساڑھے تین سال بعد جب وہی عمران خان قوم کو ریلیف دینے کے اعلانات کر رہا ہے تو اپوزیشن پھر وہی راگ آلاپ رہی ہے کہ عمران خان نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ملک خوشحالی کی جانب بڑھ رہا ہے اور ہم ناشکرے لوگ اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے بجائے ناشکری کی آخری حدیں بھی پار کر رہے ہیں۔
گذشتہ دنو ں ایک پرانے دوست سے ملاقات ہوئی جن کے والد صاحب اینٹوں کے بھٹے پر گدھا گاڑی چلایا کرتے تھے مگر اس دوست کا شمار قریباً ارب پتی افراد میں ہوتا ہے۔ کہنے لگا ،یار بڑا پریشان ہوں عمران خان نے ملک کا بیڑا غرق کردیا۔ میں اس کی یہ بات سن کر سوچنے لگا کہ ناشکری کی جس سٹیج پر ہم آچکے اگر آسمان سے من و سلوا بھی اتر آئے تو ہم ناشکرے ہی رہیں گے۔ شاید اللہ تعالی نے اسی لیے قرآن مجید میں یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ”میرے بندوں میں شکر گزار بندے کم ہی ہوتے ہیں“۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button