تازہ ترینخبریںدنیا سے

ویانا جوہری مذاکرات میں اہم معاملات حل ہونا ابھی باقی ہیں، ایران

ایران کا کہنا ہے کہ اگر تہران کے بقیہ مطالبات کو پورا کرنے کے لیے امریکا سیاسی فیصلہ کرتا ہے تو 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی ماہ سے جاری مذاکرات اس مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جسے ایک ایرانی سفارت کار نے ’اب یا کبھی نہیں‘ کا مرحلہ قرار دیا۔

بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے کیونکہ 10 ماہ سے جاری بات چیت کی ناکامی ایک نئی علاقائی جنگ اور مغرب کی جانب سے ایران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا خطرہ پیدا کریں گی۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ملک میں کئی پرانے لیکن غیر اعلانیہ مقامات پر پائے جانے والے یورینیم کے آثار سے متعلق سوالات کو حل کرنے سمیت دیگر مسائل کی نشاندہی کی کہ پابندیوں کو کس حد تک واپس لیا جائے گا؟ کیا اس بات کی ضمانت دی جائے گی کہ امریکا دوبارہ اس معاہدے سے نہیں نکلے گا؟

مذاکرات میں شامل تمام فریقین کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں ریلیف کے بدلے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے اس معاہدے کی بحالی کی جانب پیش رفت ہوئی ہے جسے امریکا نے 2018 میں ترک کر دیا تھا۔

تاہم تہران اور واشنگٹن دونوں نے متنبہ کیا ہے کہ ابھی بھی کچھ اہم اختلافات طے کرنا باقی ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایک بہتر معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے تاہم 3 اہم مسائل ابھی بھی حل ہونا باقی ہیں، امریکا اور یورپی طاقتوں نے ان اہم مسائل پر سیاسی فیصلے نہیں کیے ہیں۔

فرانس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ رواں ہفتے مذاکرات مکمل کرنا ضروری ہے۔

ایران کے سرکردہ جوہری مذاکرات کار علی بغیری کانی معاہدے کے حتمی مسودے کے بارے میں مشاورت کے لیے گزشتہ ہفتے تہران گئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button