تازہ ترینحالات حاضرہخبریںروس یوکرین تنازع

روسی فوج کے جارحانہ حملے،471 یوکرینی فوجی گرفتار، ایک ہزار مقامات نشانہ بنائے گئے

روسی ایٹمی فورس ہائی الرٹ، جوابی امریکی تیاریاں ، یوکرین مذاکرات پر تیار،برطانیہ اور فرانس کا کہنا ہے کہ جنگ طویل ہوسکتی ہے، ادھر پیوٹن کی فوج ʼخارکیف میں داخل،471یوکرائنی فوجی گرفتار، ہزار اہداف تباہ کرنے کادعویٰ، چیچن سپاہی یوکرین میں داخل، جھنڈے لہرا دیے،روس کا اپنے فوجیوں کےجانی نقصان کابھی اعتراف، امریکا کاکہناہےکہ روسی صدر کی جوہری دھمکی ناقابل قبول ہے۔

نیٹو سربراہ کاکہناہےکہ روسی اقدام غیر ذمہ دارانہ ہے، اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے اور عرب لیگ کے اجلاس طلب کرلئےگئے،یورپی یونین نےروس پر پابندیوں میں اضافہ کردیا، ڈنمارک کے وزیر اعظم نے ڈنمارک کی شہریوں کو روس کیخلاف لڑنے کی اجازت دیدی،آئی سی جے میں کیف نےماسکو پر نسل کشی کی منصوبہ بندی کا الزام لگادیا۔

غیرملکی خبررساںادارے کےمطابق روس کی فوجیں یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہو گئی ہیں اور شہر کی سڑکوں پر لڑائی جاری ہے، خارکیف کی علاقائی انتظامیہ کے سربراہ اولیح سینہوبوف نے کہا کہ یوکرین کی افواج شہر میں روسی فوجیوں سے لڑ رہی ہیں اور شہریوں سے کہا کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

روس نےبھی دعویٰ کیاہے کہ اس کے فوجیوں نے جنوبی یوکرین کے شہر کھیرسن اور جنوب مشرق میں برڈیانسک شہر کا مکمل طور پر محاصرہ کر لیا ہے۔دارالحکومت کیف کے جنوب میں اتوار کے اوائل میں دھماکوں سے آسمان روشن ہو گیا تھا اور روسی افواج کے بڑے پیمانے پر متوقع حملے کے خوف سے لوگ گھروں، زیر زمین گیراج اور سب وے اسٹیشنز میں چھپنے پر مجبور ہو گئے۔یوکرین صدر ولادمیر زیلنسکی کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایک اور دھماکا سویلین زولیانی ہوائی اڈے پر ہوا،یوکرین کے صدر نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ملک کو آزاد کرانے کے لیے جب تک ضرورت ہو گی، ہم لڑیں گے۔

یورپی یونین کے کمشنر برائے بحرانی انتظام نے کہا ہےکہ یوکرین کے خلاف روس کی جنگ سے70لاکھ سے زائد افراد کے بے گھر ہونے کا خطرہ ہے۔روسی فوج کا کہنا ہے کہ جمعرات سے یوکرین میں جاری عسکری مداخلت کے دوران اب تک 471 یوکرینی فوجی گرفتار کیے جا چکے ہیں جب کہ تقریباً ایک ہزار مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔

ادھر مسلم اکثریتی آبادی والے روسی جمہوریہ چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف کے اعلان کے بعد چیچن فوجیوں نے یوکرین کے دارالحکومت کیف کے قریب یوکرینی فوج کے یونٹ کا کنٹرول سنبھال لیا ،ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک چیچن سپاہی نے فوجی کیمپ سے یوکرینی جھنڈا اتار کر ایک طرف روسی اور دوسری طرف چیچن جھنڈا لہرایا۔

روس کی وزارت دفاع نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ یوکرین میں اس کا جانی نقصان بھی ہوا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی اعدادوشمار جاری نہیں کیے گئے ہیں۔مزید برآں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے روسی فوج کی جوہری تنصیبات رکھنے والی یونٹ (نیوکلیئر فورس) کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دے دیا،پیوٹن نے کہا ہے کہ پیارے ساتھیوں، آپ نے دیکھا کہ مغربی ممالک نہ صرف ہمارے ملک کے خلاف غیر دوستانہ اقدامات کرتے ہیں بلکہ ان غیر قانونی پابندیوں کا اطلاق بھی کرتے ہیں جن کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے، نیٹو کی سربراہی کرنے والے ممالک ہمارے ملک کے خلاف جارحیت سے بھرپور بیانات کی بھی اجازت دیتے ہیں اور اسی لیے میں وزیر دفاع اور جنرل سٹاف کے سربراہ کو حکم دیتا ہوں کہ وہ جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھیں۔

اس کے جواب میں نیٹو کے سربراہ جینز اسٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ صدر پیوٹن کا روسی فوج کو اپنی جوہری فورسز الرٹ رکھنے کا حکم ’خطرناک‘ اور ’غیر ذمہ دارانہ‘ ہے،یہ روسی صدر کی یوکرین کے خلاف جارحیت کو بڑھاوا دیتا ہے۔اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے امریکی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ صدر پیوٹن اس جنگ کو اس انداز میں بڑھانے جا رہے ہیں جو مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور ہمیں ان کے اقدامات کو ہر ممکنہ طریقے سے دبانے کا سلسلہ جاری رکھنا ہو گا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین پساکی نے کہا ہے کہ روس کو کسی بھی موقع پر نیٹو سے خطرہ نہیں رہا،روس کے صدر کی جانب سے یہ متوقع ردعمل ہے،کیا روس کو یوکرین سے خطرہ تھا؟

صدر پیوٹن کا یہ طریقہ رہا ہے اور ہم اس کے خلاف کھڑے ہونے والے ہیں،ہم اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بیلا روس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے ساتھ ہوئی اپنی بات چیت سے متعلق ایک بیان میں کہا کہ ’ہم نے اس پر رضا مندی ظاہر کی کہ یوکرین کے وفد کو روس کے وفد کے ساتھ یوکرین اور بیلا روس کی سرحد پر ملاقات کرنی چاہیے’الیگزینڈر لوکاشینکو نے ذمہ داری لی ہے کہ یوکرینی وفد کے سفر کے دوران بیلا روس میں موجود تمام جہاز، ہیلی کاپٹرز اور میزائل زمین پر ہی رہیں گے،یوکرین کے وزیر خارجہ ڈمیٹرو کولیبا نے کہا ہے کہ اگر روس یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے تو یہ دنیا کے لیے تباہی ہو گی تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ یہ دھمکی انہیں ڈرا نہیں سکتی۔

روسی صدارتی محل کریملن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پیوٹن سے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی پینیٹ نےٹیلی فونک رابطہ کیا اور یوکرین جنگ رکوانے میں مصالحت کی پیشکش کی ،کریملن کا کہنا ہے کہ دوران گفتگو روسی صدر نےاسرائیلی وزیراعظم کوبیلاروس میں یوکرین سے مذاکرات کی پیشکش کا بتایا۔اس موقع پر گفتگو میں ولادیمیر پیوٹن کا کہنا تھاکہ یوکرین حکومت نے روسی پیشکش کو مسترد کرکے اچھا موقع گنوادیا۔

ہیگ میں قائم عدالت نے اتوار کو کہا کہ کیف نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں ایک درخواست دائر کی جس میں روس پر ’’یوکرین میں نسل کشی کی منصوبہ بندی‘‘کا الزام لگایا گیا ہے۔آئی سی جے نے ایک بیان میں کہا کہ درخواست میں کیف نے روس پر یوکرینوں کو جان بوجھ کر قتل کرنے اور انہیں شدید زخمی کرنے کا الزام بھی لگایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button