Column

یوکرین میں امریکہ کی ہار …. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

ایک وقت تھا جب دنیا میں دو بڑی سپر پاورز تھیں اور دنیا واضح طور پر دو بلاک میں بٹی ہوئی تھی۔اِس دنیا کو”بائی پولر ورلڈ“ یعنی سرد جنگ کا دور کہا جاتا تھا۔ امریکہ اور سوویت یونین ہی مختلف ممالک کو کنٹرول کرتے ۔یہ دور بہت عرصہ چلا اور اس دوران امریکہ اور سوویت یونین پس پردہ رہ کرنہ صرف ایک دوسرے کی بھرپور مخالفت کرتے، ممالک کو نہ صرف لڑواتے بلکہ مختلف ممالک پر یلغاریں بھی کرتے ۔ ویت نام میں امریکہ نے جو کچھ کیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے اور جس طرح ویت نام کو امریکی فوجیوں کا قبرستان بنایا گیا اس کے پیچھے سوویت یونین ہی تھا۔ بائی پولر ورلڈ 1991 تک چلی اور پھر سوویت یونین میں موجود کیمونزم کا خاتمہ ہو گیا ، اس میں بہت بڑا کردار میخائیل گورباچوف کا تھا جس نے ایک بڑی سپر پاور کو بہت تیزی سے نیچے کی جانب دھکیلا۔یہ و ہی دور تھا جب سوویت یونین سے قریباً 14ریاستیں الگ ہو کر نئی آزاد ریاستیں بنیں اور سوویت یونین روس بن گیا لیکن گورباچوف اور پھر بورس یلسن کی پالیسیوں نے اسے نہ صرف معاشی بلکہ دفاعی طور پر بھی کمزور کر دیا۔گو کہ روس کے پاس اب بھی سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار تھے لیکن بورس یلسن اور میخائیل گورباچوف جیسے کرپٹ لیڈران کی موجودگی میں روس اب عالمی سیاست میں اپنا فیصلہ کن کردار ادا کرنے سے قاصر تھا ۔ یوں دنیا میں صرف امریکہ واحد سپر پاور بن کر سامنے آیا ۔

 افغانستان کی جنگ سوویت یونین کے ٹوٹنے کا سبب ہرگز نہیں تھی۔سوویت یونین کے ٹوٹنے کی وجہ صرف اور صرف اس کے بدترین معاشی حالات، کیمونزم کا خاتمہ ، یلسن اور گورباچوف کی غلط پالیسیاں و کرپشن تھی۔اب دنیا”یونی پولر“بن چکی تھی اور امریکہ اکلوتی سپر پاور، جو دنیا میں ہر جگہ دندناتے ہوے بدمعاشی کر رہا تھامگر اِسے ماضی کی طرح روکنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔ عراق،افغانستان، مصر، تیونس، لیبیا، ایران اور دوسرے مسلم ممالک میں بھی اسی دوران امریکہ نے نہ صرف تباہی مچائی اور غاصبانہ قبضے کئے بلکہ وہاں کے حکمرانوں کو بھی قتل کروایا اور ان کے قدرتی وسائل کو بے دردی سے لوٹا۔لیبیا کے معمر القذافی کے بعد امریکہ نے شام کو نشان عبرت بنانے کی ٹھان لی اور بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کی بھرپور کوششوں میں ناکامی کے بعد امریکہ نے2013میں شام پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیااور اپنا جنگی بیڑا شام کی جانب روانہ کر دیا۔ جو بہت بڑا اقدام تھا اور حقیقتاً یہی وہ لمحہ تھا کہ جب روس بطور سپر پاور دنیا میں دوبارہ ابھرا تھا۔ قوموں کی تاریخ میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ریاست حصوں اور بخروں میں تقسیم ہونے کے بعد صرف 23 سال میں عالمی افق پر دوبارہ اُٹھ کھڑی ہو۔ شام پر ہونے والا امریکی حملہ رک گیا تھا اور آج 8سال کے بعد امریکہ کو دوبارہ شام پر حملہ کرنے کی جرا ¿ت نہیں ہوئی۔میں نے اس وقت بھی لکھا تھا اور پروگرام بھی کیا کہ آج دنیا سے امریکہ کی بدمعاشی ختم ہو گئی ہے۔ دنیا”یونی پولر“سے یک دم”ملٹی پولر“ اور روس دوبارہ سے سپر پاور بن گیا ہے۔اس تمام عرصے میں امریکہ کی کوشش تھی کہ روس کو دبائے رکھے اور دنیا کو چین کو دوسری سپر پاور ماننے پر مجبور کرے۔وجہ سادہ سی تھی کہ چین عالمی لڑائیوں میں حصہ کم کم ہی لیتا ہے اور اس کی ساری توجہ عظیم معاشی کامیابی و علاقائی مسائل کی جانب مرکوز رہتی ہے۔میرا استدلال2013 میں بھی یہی تھا کہ پاکستان کو بدلتے ہوے عالمی رحجانات اور تبدیلیوں کے پیش نظر اپنی خارجہ پالیسی کو فوری تبدیل کرنا چاہیے اور جو غلطی پاکستان بننے کے فوری بعد(روس کا دورہ منسوخ کر کے امریکہ کا دورہ کرنا)لیاقت علی خان نے کی تھی اس کا مداوااب کرنا چاہیے لیکن پاکستان میں آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف برسر اقتدار تھے اور بدقسمتی سے دونوں ہی امریکہ اور استعمار سے ان کے مفادات کے تحفظ کا وعدہ کر کے اقتدار میں آئے تھے۔

روس کا بھارت سے طویل مدتی دفاعی معاہدہ ختم ہونااور سی پیک منصوبہ جہاں سوشلسٹ چین اورکیمونسٹ روس کو قریب لے آیا وہاں عمران خان کی حکومت بننے کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بہت بڑی تبدیلی آئی اور افغانستان میں امریکی طالبان کی جو حکومت چند ماہ قبل لائی گئی پاکستان نے کمال ہوشیاری اوردلیری سے اپنے آپ کو اس سے لاتعلق کر کے دنیا میں اپنا امیج بطور غیر جانبدار ریاست کے بنایا۔اِس سار ے عمل نے جہاں پاکستان کو روس کے لیے پسندیدہ ٹھہرایا وہاں امریکہ سے دوری بھی ریاست پاکستان کا خاصہ ٹھہرا۔ دنیا میں امریکہ اور اس کے حواری(نیٹواور یورپی یونین)جو کچھ پچھلے 25 سال سے کرتے چلے آرہے تھے، اس میں اقوام متحدہ کا کردار بھی گھناو ¿نا نظر آتا ہے۔دراصل اقوام متحدہ جسے بنانے کا مقصد کمزور اور چھوٹی ریاستوں کو طاقتور کے شراور ظلم سے بچانا تھا،اپنے چارٹر سے ہٹ چکا ہے اور اس وقت اس کا کردار صرف اور صرف طاقتور (امریکہ اور اس کے حواریوں)کی حفاظت ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور نیٹو فورسز اس وقت غاصب امریکہ کی باندیوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مسلم ممالک اور افغانستان وغیرہ کو تباہ کرنے کے بعد امریکہ پچھلے چند سالوں سے بلیک سی پر قبضے اور رسائی کے خواب دیکھ رہا تھا اور اسی تناظر میں پہلے اس نے کریمیا میں دخل اندازی کرنا شروع کی لیکن روس نے اسے یوکرین سے علیحدہ کر کے آزاد ریاست کا درجہ دے دیا اور اب کریمیا (جو مسلم اکثریتی علاقہ تھا )کے عوام یوکرین کے ساتھ ملنا نہیں چاہ رہے۔ پچھلے چند سالوں سے امریکہ اس خطے میں بدترین دخل اندازی کر تے ہوئے یوکرین کو بھاری اسلحہ اور جنگی جدید کشتیاں وغیرہ سپلائی کر رہا تھا۔ روس اور صدر پوتن اس دخل اندازی پر شدید ردعمل بھی دیتے رہے لیکن طاقت کی عالمی برتری کی جنگ میں امریکہ کے عزائم بہت خطرناک تھے۔ میں2020 میں یوکرین گیا اورقریباً 15روز کییو Kyivاوریوکرین کے دوسرے علاقوں میں بطور عالمی تعلقات اور اسٹریٹجک اسٹڈیز کے طالب علم کے گھوما پھرا اور وہاں کے کچھ اہم لوگوں سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ میرا اپنا مشاہدہ یہ تھا کہ وہاں کے باشندے سیاست اور حکومتی امور میں کم کم ہی دلچسپی رکھتے ہیں اور یوکرینی خواتین اور مرد بہت سادہ اور خوبصورت لوگ ہیں۔ پاکستان کے یوکرین سے اعلیٰ درجے کے دفاعی معاہدے بھی ہیں اور ہم غیر اعلانیہ طور پر مضبوط دفاعی پارٹنر بھی ہیں(تفصیلات لکھنا مناسب نہیں)یوکرین کے دارالحکومت Kyiv کی مشہور ترین کریشئیٹک سٹریٹ(Kreshatick Street) پر مجھے اتوار کے دن کریمیا کے نوجوانوں کا ایک چھوٹا سا ٹینٹ لگا ملا ، میں وہاں کچھ دیر بیٹھا اور ان کی کریمیا پر روسی تسلط بارے باتیں سنیں۔ان مسلمان نوجوانوں کا کہنا تھا کہ 2014 کے بعد کریمیا کے باشندوں کو اب یوکرین کے ساتھ دوبارہ ملنے میں کوئی دلچسپی نہیں کیوں کہ یوکرین جو یورپ کا سب سے بڑا ملک ہے دنیا بھر میں سویا بین کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بھی ہے اس کے علاوہ روس اور یوکرین دنیا بھر میں گندم کا قریباً 35 فیصد برآمد کرتے ہیں اس کے علاوہ یوکرین یورپ بھر میں قدرتی گیس سپلائی کرتا ہے۔ روس قدرتی گیس کے علاوہ دنیا کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔جو کچھ میں نے یوکرین میں دیکھاوہ حیران کن تھا کہ امریکیوں کی بڑی تعداد وہاں موجودہ تھی جبکہ یہودی تو ہٹلر کے یہودیوں کے قتل عام(ہولوکاسٹ)کے بعد بڑی تعداد میں یوکرین میں پائے جاتے ہیں۔Kyiv کے ہر بازار اور سٹریٹ پر مجھے امریکن نظر آئے اور ملے۔ یہ سب میرے لیے حیران کن تھا اور مجھے ایسا لگا کہ جیسے پاکستان کی طرح امریکہ یہاں بھی”جنریشن وار“شروع کئے ہوئے ہے۔

روس کے یوکرین پر حملے کے بعد جو بیانات ہمارے میڈیا کے نام نہاد اینکرز اور دانشوروں نے دیئے وہ نہایت ہی مایوس کن اور عالمی حالات سے عدم آگاہی اور واقفیت کی نشاندھی کرتے نظر آئے۔الحمداللہ! میں وہ واحد صحافی ہوں جس نے روس کے اس اقدام کی مخالفت نہیں کی کہ اگر امریکہ روس کو زچ کرنے کے لیے پولینڈ اور ہنگری وغیرہ میں پہلے ہی نیٹو فورسز کو بٹھائے ہوئے ہے اور اب وہ یوکرین کو صرف اور صرف اس لیے یورپی یونین کا حصہ بنانے جارہا تھا کہ یوکرین میں نیٹو فورسز داخل ہو سکیں اور وہ روس کی سلامتی کے لیے بدترین خطرہ بن سکے تو پھر روس کے پاس دوسری کون سی آپشن باقی رہ جاتی ہے؟ جہاں تک میں نے دیکھا یوکرین کے باشندوں کو یورپ کے ویزا کی کوئی پرابلم نہیں اور جیسا کہ اوپر لکھا کہ یوکرین قدرتی گیس، سویابین اور گندم دنیا بھر کو ایکسپورٹ کرتا ہے تو پھر اسے یورپی یونین میں شامل ہونے اور نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے؟جو”نہلے دہلے“ اس وقت روس کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، اول تو ان کی عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے، دوسرا ان سب سے میرا سوال ہے کہ اگر روس اس وقت بھی اپنی سالمیت کے تناظر میں یوکرین میں نیٹو فورسز اور امریکہ کے داخلے کو نہ روکتا تو کیا کرتا؟بہر حال اس وقت روس اقوام متحدہ میں اس حملے کے خلاف ہونے والی قرارداد کو بھی ویٹو کر چکا ہے اور یورپی یونین اور امریکہ کو واشگاف الفاظ میں کہہ چکا کہ اگر کسی نے یوکرین میں داخلے کی کوشش کی تو وہ اسے تاریخ کا بدترین نشان عبرت بنا ڈالے گا۔ آنے والے چند دنوں میں یوکرین اور روس مذاکرات کی میز پر بیٹھتے نظر آ رہے ہیں۔یوکرین کے صدر میرولادی زلینسکی کا بیان کہ” یوکرین کو روس کے خلاف اکیلا چھوڑ دیا گیا“ اپنے اندر امریکہ کی عیارانہ سازشوں اور مفاد کے لیے دوسرے ممالک کو استعمال کرنے کی بدترین مثال ہے یوکرین کے صدر ولادی میر زلینسکی نے آج ہی روس کے ساتھ فوری جنگ بندی، مذاکرات اور مستقبل میں اپنی حفاظت کی ضمانت مانگی ہے۔روسی صدر ولادی میر پوتن نے یہ حملہ دراصل امریکہ کے دانت کھٹے کرنے کے لیے کیا، جس میں وہ کامیاب دکھائی دے رہے ہیں۔ اب دنیا واضح طور پر”ملٹی پولر“ بن چکی اور پاکستان دنیا کی طاقت کے محوروں میں سے اپنی کامیاب خارجہ پالیسی کے طفیل ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button