Column

سعودی عرب کاپہلا یوم تاسیس …. حبیب اللہ قمر

حبیب اللہ قمر
سعودی عرب میں مملکت کا پہلا یوم تاسیس منایاجارہا ہے جس پر عوامی سطح پر بھرپور جوش و خروش دیکھنے میں آیاہے۔ خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ستائیس جنوری کو شاہی فرمان جاری کر کے پہلی سعودی ریاست کے قیام کے دن کو یوم تاسیس کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔عرب میڈیا کے مطابق پہلی سعودی ریاست کے قیام کا اعلان امام محمد بن سعود نے فروری 1727ءکو کیا تھا جو کہ 1818ءتک برقرار رہی۔ اس دوران ریاست کا دارالحکومت الدرعیہ تھا اور پہلی سعودی ریاست کے بانی نے ملک کا آئین قرآن و سنت کو قرار دیا تھا۔ یوم تاسیس تین سو سال پہلے قائم ہونے والی سعودی ریاست کی یاد دلانے والا دن ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یوم تاسیس پہلی سعودی ریاست کی تاریخ اور اس کے تمدنی ورثے کی بھولی بسری یادیں تازہ کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے یوم تاسیس کے موقع پر خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو مبارکباد پیش کی اور کہا ہے کہ دونوں ممالک اور ان کے عوام خوش حالی کے سفر پر گامزن ہیں اور یہاں کے باشندوں کو خوش حالی ان شاءاللہ ہمیشہ میسر رہے گی۔
سعودی عرب کی طرف سے پہلے یوم تاسیس کے حوالے سے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ بہت سے مصنفین اور مﺅرخین کی جانب سے کہا جاتا رہا ہے کہ مملکت کا قیام 1744ءمیں ہوا تھا تاہم تاریخی حوالے سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ اس میں پہلے سترہ سال شامل نہیں کیے گئے ۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ 1744ءمیں پیش آنے والے واقعات اس لحاظ سے بہت اہم تھے کہ اس عرصہ میں امام محمد بن سعودی نے امام محمد بن عبدالوہاب کو جگہ کی پیشکش کی تھی لیکن درحقیقت پہلی حکومت 1727ءکو قائم ہوئی تھی ، اس لیے مملکت کے ابتدائی برسوں کی درستی کے لیے یوم تاسیس تخلیق کیا گیا ہے تاکہ سعودی عوام کو ماضی کے حوالے سے صحیح معلومات فراہم کی جائیں۔سعودی عرب میں یوم تاسیس کی تقریبات سوموار اٹھائیس فروری تک جاری رہیں گی۔ اس حوالے سے سعودی دارالحکومت الریاض سمیت دیگر شہروں میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کا سلسلہ جاری ہے جن میں سعودی ثقافت کو خاص طور پر اجاگر کیا جارہا ہے۔ مملکت کے تمام بڑے شہروںنے ایسے روایتی پروگراموں کی میزبانی کی جن میں ریاست کے قیام کے بعد کی جانے والی جدوجہد اور کامیابیوں کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی۔ پروگراموں کے دوران تاریخی تصاویر کی نمائشیں بھی لگائی گئیں اور یوم تاسیس کی خوشیوں میں دوسرے ملکوں سے آنے والے شہریوں کو بھی شریک کیا گیا۔ اس موقع پر ملبوسات، دستی مصنوعات، کھانے پینے اور دیگر اشیاءپر خصوصی رعایت دی گئی ہے۔ پورے سعودی عرب میں تجارتی مراکز پر بہت زیادہ رش دیکھنے میں آیا۔
سعودی عرب کے پہلے یوم تاسیس پر مملکت میں بسنے والے پاکستانی بھی سعودی بھائیوں کی خوشیوں میں برابر کے شریک رہے۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام میں زبردست ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ پاک سعودی تعلقات کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ ابتدا سے ہی خوشگوار رہے ہیںلیکن شاہ فیصل کے دور میں ان تعلقات کو بہت زیادہ فروغ ملا۔ برادر اسلامی ملک سعودی عرب ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس نے ہمیشہ تمام معاملات پر کھل کر پاکستان کے مﺅقف کی تائید و حمایت کی ہے ۔ 1965ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کی وسیع پیمانے پر مدد کی ۔ اپریل 1966ءمیں شاہ فیصل نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس موقع پر اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سارے اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا۔ یہ مسجد آج شاہ فیصل مسجد کے نام سے دنیا بھر میں جانی جاتی ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک بڑے شہر لائل پور کا نام انہی کے نام پر فیصل آباد رکھا گیا جبکہ کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ انہی کے نام پر شاہراہ فیصل کہلاتی ہے۔ شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973ءکے سیلاب زدگان کی کھل کر مالی امداد کی، دسمبر 1975ءمیں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا۔ 1971ءمیں مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر شاہ فیصل کو بہت رنج ہوا اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے کے بعد بھی بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کیا۔ شاہ فیصل کی وفات کے بعد بھی سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات میں کوئی کمزوری نہیں آئی خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ پاکستان آئے تو پاکستانی عوام نے ان کا بھرپور استقبال کیا جس سے وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور کہاکہ ہم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔2005ءمیں آزاد کشمیر و سرحد کے خوفناک زلزلہ اور 2010ءکے سیلاب کے دوران بھی مصائب و مشکلات میں مبتلا پاکستانی بھائیوں کی مدد میں سعودی عرب سب سے آگے رہا او ر روزانہ کی بنیاد پر امدادی طیارے پاکستان کی سرزمین پر اترتے رہے یہی وجہ ہے کہ اسلام پسند اور محب وطن حلقوں کی کوشش ہوتی ہے کہ سعودی عرب کے اسلامی اخوت پر مبنی کردارسے پاکستان کی نوجوان نسل کو آگا ہ کیا جائے اور اس کیلئے وہ اپنا کردار بھی ادا کرتے رہتے ہیں۔
وطن عزیزپاکستان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایٹمی قوت ہے ۔جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرنا تھے اور امریکہ ویورپ سمیت پوری دنیا کا دباﺅ تھا کہ پاکستانی حکومت ایٹمی دھماکوں سے باز رہے۔اس مقصد کے تحت دھمکیاں بھی دی گئیں اور لالچ بھی دیے جاتے رہے ۔ یہ انتہائی مشکل ترین صورتحال تھی مگر ان حالات میں بھی سعودی عرب نے اس وقت کی حکومت کا حوصلہ بڑھایا اور اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ وزیر اعظم عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سعودی قیادت سے ہونے والی مسلسل ملاقاتوں کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک نئی جہت پیدا ہوئی اور سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہونے سے پاک سعودی تعلقات میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین بڑھتے ہوئے دوستانہ تعلقات کو دیکھا جائے تو سعودی عرب کے پاکستان میں تعینات سفیرنواف بن سعید المالکی کا کردار بہت نمایاں ہے۔سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی پاکستان میں ملٹری اتاشی کے طور پر کام کر چکے ہیں اس لیے انہیں یہاں کے حالات سے مکمل آگاہی حاصل ہے۔ سفارتی حلقوں میں ان کی پہچان ایک سنجیدہ طبع اور نفیس شخصیت کے طور پر ہے۔ جن لوگوںکو انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو ایک سفیر اور سعودی عرب جیسے اسلامی ملک کے نمائندہ میں ہونی چاہئیں۔اسی طرح سعودی سفارت خانہ میں میڈیا انچارج فواز عبداللہ بھی متحرک شخصیت کے مالک ہیں اور انہوںنے بہت کم وقت میں اپنی اچھی شناخت اور پہچان بنائی ہے۔ ہم سعودی عرب کے پہلے یوم تاسیس پر دل کی گہرائیوں سے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد محمد بن سلمان، پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور پوری سعودی قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔یہ وطن عزیز کی خاطر سعودی امرا، سلاطین اور عوام کی فقید المثال قربانیوں کے اعتراف کا دن ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ برادر اسلامی ملک سعودی عرب کو اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں سے محفوظ ومامون رکھے اور دن دوگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button