Column

آگے بڑھو یا پیچھو ہٹو …. قادر خان یوسف زئی

قادر خان یوسف زئی
جو کیفیت ایک فرد کی ہے ، وہی حالت قوم کی ہے ۔ آپ تاریخ انسانیت پر غور کیجئے ۔ جن قوموں نے اپنے نظام تہذیب و تمدن کی بنیاد حق سچائی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار پر نہ رکھی ، وہ لامحدود قوت حاصل کرلینے کے باوجود تباہ و برباد ہوگئیں اس لیے کہ ایسا نظام تہذیب جس میں حق و صداقت کے متعین اصولوں پر کاربند نہیں رہا جاتا، مسلسل نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے آخرالامر تباہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ باطل اصول اور بد اخلاق معاشرے پر استوار عمارتیں اپنی کھوکھلی بنیادوں کی وجہ سے قائم دائم نہیں رہ سکتیں ۔ بنیادی کمزوریاں اور داخلی خارجی نظم و ضبط میں خامیوں پر شرمندگی کے بجائے ڈٹے رہنا اور اس کی ترویج کا عمل ایک افسوس ناک المیہ ہے ۔ روما کی سلطنت عام انسانوں کی لوٹ کھوسٹ میں سے ایک خاص جماعت کو متمول بنانے کا ذریعہ تھی ، انہوں نے اس ” سودا گری ‘ کو نہایت قابلیت اور تدبر ، خلوص اور دیانت سے چلایا ، لیکن حسن انتظام میں یہ تمام خوبیاں ، بنیادی باطل کو اس کے فطری نتائج سے نہ بچا سکیں ۔
دوسری طرف وہ قومیں بھی تباہ و برباد ہوئیں جنہوں نے کسی ایک مقام پر کھڑی اور زمانے کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے سے گریز کیا ، آگے نہ بڑھیں ، افریقہ کے حبشی ،آسٹریلیاکے قدیم باشندے، امریکہ نیگرو ، قطب شمال کے اسکیمو ، کیا ہیں ؟ ۔ انہی اقوام کے جامد و غیر متحرک مجسمے جنہوں نے اپنے مقام سے ہلنا پسند نہ کیا ، جنہوں نے زمانے کے بدلتے تقاضوں کا ساتھ نہ دیا ، جنہوں نے ماحول سے مطابقت کے فطری اصولوں کو ٹھکرا یا ، ان کی جھونپڑیاں اور کھالیں ، ان کے تیر کمان ، ان کے خورو نوش کے انداز، رہن سہن کے طور طریقے ، حتیٰ کے ان کے نظریات و عقائد اور رسوم و رواج ، سب ان مقامات کی نشان دہی کرتے ہیں ، جہاں وہ رک کر کھڑے ہوگئے اور جہاں سے ان کے ہم عمر قبائل اور اقوام آگے بڑھ گئیں ۔ ان کے متعلق شاید سطح بیں نگاہیں یہ کہہ دیں کہ انہوں نے کبھی ترقی ہی نہیں کی تھی ، لیکن مصر ، یونان ، عراق ، ہندوستان ، (سابقہ) چین اور ترکستان کے اقوام کے متعلق کیا کہیں گے ، جن کی سطوت و ثروت کی داستانیں زمانے کی چٹانوں پر منقوش ہیں لیکن بعد کی حالت ، ان کے زمانہ ¿ ثروت کی بھیانک قبروں کے سوا کچھ نہیں۔
ان کی یہ حالت کیوں ہوگئی ؟ اس لیے کہ وہ ایک مقام پر رک گئیں ، آگے نہ بڑھیں ، انہوں نے تبدیلی کے فطری قانون سے آنکھیں بند کرلیں ۔ یاد رکھئے ” فلسفہ معاشرت “ کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ کوئی مکمل شے بھی جمود کی حالت میں مکمل نہیں رہ سکتی ، یہ اصول قدرت و فطرت کی تمام جڑوں میں کارفرما ہے ، انسان کے سامنے دو ہی راستے ہیں ، آگے بڑھو یا پیچھو ہٹو ۔ زندگی کے فرسودہ پیکروں کو گلے سے لگائے رکھنا ، تنزل و تسفل ہے ، ایسی زندگی دن تو پورے کرلیتی ہے لیکن کبھی پھل نہیں لاسکتی۔ کسی ایسے مقام کی طرح جہاں پانی رک جاتا ہو اور سرانڈ پیدا ہوجاتی ہو ، ان اقوام کے لیے ” پس ماندہ ‘ کی اصطلاح پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ان کا جرم کیا تھا ۔ یہی کہ وہ زمانے کے ساتھ دیتی ہوئی آگے نہ بڑھیں ، پیچھے رہ گئیں اور زمانہ انہیں روندتا ہوا آگے بڑھ گیا ، زمانے کا ریلا تو اتنی بھی مہلت نہیں دیتا کہ کوئی راہ روپاﺅں سے کانٹا نکالنے کے لیے کہیں بیٹھ جائے، جو بیٹھا وہ کچلا گیا ، جو رُکا وہ پکڑا گیا ، اس لیے کہ جہاں بازو سمٹتے ہیں وہیں صیاد ہوتا ہے۔
کیسے ہوگی سرخ رو دنیا میں آخر ایسی قوم
جس نے احکام الٰہی کو بھلا کر رکھ دیا
آپ کسی بچے کو دیکھیں اس کے بنائے ہوئے کھیل کود یا نقشوں میں ذرا سی بھی تبدیلی کردی جائے تو وہ رونے لگ جاتا ہے ، وہ انہی مقامات میںگھومتا پھرتا ہے جن سے وہ مانوس ہو ، نہ مانوس مقامات میں جانے سے ڈر تا ہے ، وہ اپنے لیے جو وضع کرتا ہے ، وہ بھی اس کی اسی ذہنی کیفیت کا آئینہ دار تھا ، رسوم و آداب ، اخلاقیات ، معاشرے میں روائج رویئے ، غرض ان سب کو بعینہ انہی پیکروں میں رکھنا ضروری سمجھتا ہے جن میں وہ اسلاف سے چلے آتے تھے ، ان میں ذرا سی تبدیلی کے تصور سے اس کی روح کانپ اٹھتی ، وہ ڈرنے اور لرزنے لگ جاتا ہے ، اس لیے کہ اس کا ذہن انسانی کا تراشیدہ تصور ، انسانی آزادی کے لیے کوئی گنجائش نہیں رکھتا تھا ۔ اس سے انسانی زندگی ایک مستقل بوجھ کے نیچے دبی رہتی ہے ۔ یہ نہیں کہ اس قسم کے جذبات صرف اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کسی کو اس قسم کی پابندی پر مجبورکیا جائے ، بلکہ اُس وقت بھی پیدا ہوتے ہیں جب یہ پابندیاں بطیب خاطر اختیار کی جائیں ، اس قسم کی ” پولیس ڈسپلن “ سے انسانی سیرت میں بڑا گھناﺅنا تنزل پیدا ہوجاتا ہے ، تعمیر سیرت اختیار ی اعمال سے ہوتی ہے اس لیے جہاں انسان کے لیے اختیار اور انتخاب کا کوئی موقع ہی نہ ہو ، وہاں کیا سیرت مرتب ہوگی ؟ ۔
موجودہ حالات پر نظر دوڑائیں تو سمجھنے میں دشواری نہیں ہوگی کہ کس راستے پر رواں ہیں ،تبدیلی کے اُس فسوں کا شکارجس سے طاقت ور قومیں اور قوتیں برباد ہوئیں اور دنیا کے لیے باعث عبرت بنا دی گئیں ۔ جھوٹ اور منافقت کے لبادے میں آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر گریباں میں ضرور جھانکیں کہ بُرا کررہے ہیں یا کہ مخالف کو زک پہنچانا چاہتے ہیں ، سیاسی ، معاشرتی اور مذہبی افکار اور عمل میں زمین و آسماں برابر تفریق نے ہمیں سوچنے سمجھنے اور کہنے سے مفلوج کردیا ہے ، ایسا کہ جیسے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ برائی کو اچھائی اور اچھائی کو برائی میں تبدیل کرانے کی تگ و دو نے چہروں کو مسخ کرنا شروع کردیا ہے۔ شناخت سے محروم ہوتے جارہے ہیں ، شناخت کی کسوٹی خود ہمارے میزانیہ میں انحطاط کی جانب مائل ہیں ۔ شاید کہ اب بھی وقت ہماری مٹھی میں ہے، کچھ لمحے ریت کی طرح بند مٹھی سے نکل گئے یا پیروں سے زمین کسک رہی ہے ۔ تاہم سب کو معاشرت کی تبدیلی کی درست سمت کو اپنانے کے لیے رویوں کو بدلنا ہوگا کیونکہ یہ قوم و ملت کے لیے ناگزیر ہے۔
مجھ کو اس قوم کے شاہوں سے کوئی خوف نہیں
مجھ کو اس قوم کے کردار سے ڈر لگتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button