تازہ ترینجرم کہانیخبریں

نورمقدم قتل کیس میں مجرم ظاہرجعفرنے سماعتوں کےدوران کیا کیا فنکاریاں کیں

نورمقدم قتل کیس ميں سزائے موت پانے والے مجرم ظاہر جعفر نے ٹرائل کورٹ میں مختلف انداز سامنے آئے۔بھری عدالت میں قتل کا اعتراف کیا مگر تحریری جواب میں صاف مکر گیا۔مجرم کو کبھی کرسی پر توکبھی اسٹریچر پرلایا گیا۔اس نے پاگل پن کی ڈرامہ بازی بھی کی مگرمیڈیکل بورڈ نے اسے مکمل فٹ قرار دے دیا۔

اسلام آباد میں نور مقدم کے قتل کے الزام میں گرفتار مرکزی ملزم ظاہر جعفر ہر پیشی پر نیا ڈرامہ کرتا رہا۔ بھری عدالت میں نور مقدم کے قتل کا اعتراف کیا اور مقتولہ کے والد شوکت مقدم سے ہاتھ جوڑ کر معافی بھی مانگی اور کہا کہ پھانسی دے دیں لیکن جیل میں نہیں رہ سکتا۔

مجرم نے جج صاحب کو بھی راضی نامہ کرانے کی دہائیاں دیں مگر342 کے تحت تحریری بیان میں قتل کرنے سے صاف مکر گیا اور کہا کہ مجھےتوپتہ نہیں کہ قتل کس نے کیا، میں تونشےمیں بےہوش تھا۔

عدالت آنے جانے کے دوران بھی اس کی ڈرامہ بازی کمال کی ہوتی تھیں۔ کبھی پولیس والے اُسے کرسی پر بٹھا کر عدالت لاتے توکبھی اسٹریچر پر لایا جاتا۔ ایک بار تو گھٹنوں کے بل گرنے کا ڈھونگ بھی رچایا مگر پولیس والوں نے قدموں پر چلا کر عدالت پہنچایا۔

ایک سماعت میں مجرم عدالت میں بھی زمین پر بیٹھ کر نیم غنودگی کی ایکٹنگ کرتا رہا اور جج صاحب کو ذہنی توازن خراب ہونے کی درخواست تک دے دی مگر طبی بورڈ نے اس کی چالبازیوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے مکمل فٹ قرار دے دیا۔

ظاہرجعفرکو کبھی پولیس والوں کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے اور کبھی عدالت میں غل غپاڑا اورگالم گلوچ کرنے پرجج صاحب نے کئی بار کمرہ عدالت سے باہر بھی بھیجا۔ ایک بار تو پولیس والے ڈنڈا ڈولی کرکے بھی لے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button