تازہ ترینخبریںپاکستان سے

یہ بات تشویشناک ہے کہ قوانین کو آرڈیننس کے ذریعے ڈریکونین بنا دیا گیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں کی سماعت میں ریمارکس دیے ہیں کہ یہ بات تشویشناک ہے کہ قوانین کو آرڈیننس کے ذریعے ڈریکونین بنا دیا گیا ہے، ایسی پارٹی جس کی اپنی طاقت ہی سوشل میڈیا تھی اس نے ایسا کیا، اگر ایگزیکٹو کو اپنی نجی ساکھ کا اتنا خیال ہے تو اس میں سے پبلک آفس ہولڈرز کو نکال دیں، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کےخلاف آواز اٹھانے والوں کےخلاف کارروائیاں کی گئیں، لگ ہی نہیں رہا تھا کہ جمہوری ملک میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔

عدالتِ عالیہ میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے پیکا ایکٹ میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللّٰہ بابر اور پی ایف یو جے کے وکلاء بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیس آج پہلے ہی سماعت کے لیے مقرر ہے ان کیسز کو بھی یکجا کر دیتے ہیں جس کے بعد عدالت نے ناصر زیدی کی درخواست سمیت تمام درخواستیں یکجا کر کے سماعت کا آغاز ساڑھے 11 بجے کیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس میں کہا کہ ہر پبلک آفس ہولڈر کی طاقت پبلک میں اس کی ساکھ ہوتی ہے، کسی کو ڈر نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت اختلافِ رائے والوں کے خلاف اس قانون کو استعمال کر رہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بات تشویشناک ہے کہ قوانین کو آرڈیننس کے ذریعے ڈریکونین بنا دیا گیا، عدالت پیکا ایکٹ کا سیکشن 20 کالعدم قرار کیوں نہ دے؟ دنیا میں عدالتیں ایسا کرچکی ہیں۔

کیس کی سماعت میں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ یہ عدالت کا اختیار ہے کہ وہ اسے غیر آئینی قرار دے، لیکن میرے خیال میں یہ غیر آئینی نہیں، قانون کے غلط استعمال کو دیکھنا ہے کہ اس کے کچھ سیف گارڈز ہونے چاہئیں، میرے ذہن میں ایک پلان ہے اور وزیرِ اعظم سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔

عدالت نے کہا کہ برطانیہ میں بادشاہت بچانے کیلئے ہتکِ عزت کے قانون کو کریمنلائز کیا گیا تھا بعد میں ختم کر دیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے اس پر کہا کہ برطانیہ میں احتساب عدالتیں بھی نہیں، وہاں حکمراں بعد میں کہیں بھاگ بھی نہیں جاتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو ماحول بنا ہوا ہے اور معاشرے میں جتنی نفرت ہے اس میں آپ کیا توقع کرتے ہیں؟ آپ کو اندازہ ہے کہ ترمیم میں پبلک باڈیزکی ساکھ کو بھی بچانے کی کوشش کی گئی ہے، ایسا نہیں ہے کہ کسی نے کوئی تنقید کی تو وہ فوری گرفتار ہو جائے گا، عدالت کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سوشل میڈیا پر کیا ٹرینڈ چل رہا ہے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ میں تو نیب کے قانون میں بھی گرفتاری کے اختیار کے خلاف تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جتنا نقصان نیب اور اس کے قانون نے پہنچایا ہے، اس پر اِس وقت کچھ کہنا نہیں چاہتے۔

خالد جاوید خان نے کہا کہ اس قانون کا اطلاق سیاسی تقاریر پر نہیں ہوگا۔

جسٹس اطہرمن اللّٰہ نے کہاکہ آپ یہ بات واضح کریں کہ کسی تقریر پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا، بلال غوری نے ایک کتاب سے پڑھ کر تاریخی حقائق بیان کیے اور ایف آئی اے نے اس پر کارروائی کی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔

عدالت نے کہا کہ پبلک باڈیز یا اداروں کا کون سا بنیادی حق ہوتا ہے؟ انہیں تو تنقید سے گھبرانا ہی نہیں چاہیے، اس آرڈیننس کو پڑھیں تو نظر آتا ہے کہ یہ آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے، یہ بھی بتائیں کہ ایسی کیا جلدی تھی کہ آرڈیننس لے کر آئے؟ یوگینڈا میں بھی ہتکِ عزت کو فوجداری قانون سے نکال دیا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ بیلجیئم، جرمنی، آئس لینڈ میں ہتکِ عزت کا جرم کریمنلائزڈ ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ وہاں کی عدالتوں کے فیصلے بھی پڑھ لیں، کوئی شکایت کرے کہ حکومتی رکن نے یہ بات کی ہے تو کیا آپ انہیں گرفتار کریں گے؟

درخوست گزار وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ روز سیاستدانوں کو چور ڈاکو کہتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسا نہیں کہنا چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب! آپ کے لیے بہت مشکل ٹاسک ہے۔

سردار لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ ایف آئی والے میرے کلائنٹ محسن بیگ کے گھر سے لیپ ٹاپ بھی لے گئے۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ آپ تو جرنلسٹس کے سورسز پر بھی پہنچ گئے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ صحافیوں سے ان کا سورس نہیں پوچھا جا سکتا۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ جو بھی حکومت میں ہو وہ آزادیٔ اظہارِ رائے کو پسند نہیں کرتا، نظر آ رہا ہے کہ گھٹن کا ماحول ہے، اگر اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن نہ ہوتی تو یہ ملک ٹوٹتا نہیں۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا کہ دلائل کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دے دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس دوران ایف آئی اے کوئی گرفتاری نہیں کرے گا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس سے متعلق آپ کا آرڈر موجود ہے، اس میں توسیع کر دیں، اگر ایف آئی اے نے ایسا کیا تو میں کورٹ میں نہیں آؤں گا، پیکا ترمیمی آرڈیننس کے اثرات اور نتائج کو کابینہ ارکان سے ڈسکس کروں گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس سے متعلق درخواستوں کی مزید سماعت 10 مارچ تک ملتوی کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button