Column

فیس سیونگ کی تلاش ….. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

امریکہ کے ایما پر بیالیس ملکوں کی فوج افغانستان میں دو دہائیوں تک قابض رہی مگر زمین پر ناک رگڑنے اور دھول چاٹنے کے بعد عظیم شکست سے دوچار ہوئی۔ امریکہ کے حصے میں رسوائی آئی جس کا اسے بے حد قلق ہے، اب وہ اس خطہ ارض پر ایک فتح کی تلاش میں ہے، خواہ وہ بے نام سی کیوں نہ ہو۔ شومئی قسمت امریکہ کو یہ فتح دور دور تک نظر نہیں آ رہی، پس وہ چاہتا ہے کہ اب فقط وہ رسوا نہ ہو، پورا یورپ ذلیل و خوار ہو۔ وقت کی ضرورت تو یہ تھی کہ افغانستان میں اپنے زیر جامے چھوڑ کر فرار ہونے والا امریکہ کچھ عرصہ سکون سے بیٹھتا، اپنی اور حلیفوں کی معیشت سدھارنے کی کوششیں شروع کرتا، اس نے بے وقت برف پوش ریچھ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ اب ریچھ اسے آسانی سے نہیں چھوڑے گا، اگلے پچھلے ادھار چکائے گا۔

امریکہ اور اس کے بغل بچے برطانیہ نے روس پر پابندیاں لگا دی ہیں جس سے یوکرین بحران بڑھ گیا ہے، فی الحال جن پابندیوں کا اعلان کیاگیا ہے وہ مالیاتی ہیں ان کی رو سے روس مغربی ممالک میں سرمایہ کاری نہیں کر سکے گا۔ ساتھ ہی دھمکی دی گئی ہے کہ مزید پابندیوں کا اعلان کیا جائے گا جو اس سے قبل 2014ءمیں لگائی گئی پابندیوں سے زیادہ سخت ہوں گی۔ امریکی صدر نے منمناتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ماسکو نے پیش قدمی کی تو ہم بھی اس کے لیے تیار ہیں لیکن وہ جب چشم تصور سے دیکھتے ہیں کہ قریباً دو لاکھ روسی فوج اپنے ہدف کو گھیر چکی ہے تو ان کی پیشانی عالم پریشانی میں بھیگ بھیگ جاتی ہے۔ اب تک لگائی گئی مالی پابندیاں روس کے لیے زیادہ مشکل کھڑی نہیں کر پائیں کیونکہ روس کے پاس متبادل موجود ہے۔ چین جیسی بڑی طاقت اس کے ساتھ کھڑی ہے جو بظاہر تو خاموشی سے صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے لیکن روس جو کچھ کر رہا ہے اس میں اسے چین کی خوشنودی حاصل ہے۔ امریکہ نے جنرل مشرف کے زمانہ میںپاکستان کو دھمکی دی تھی کہ اگر آپ ہمارے ساتھ نہیں دیاتوپھر ہمارے دشمنوں کے ساتھ ہیں، آپ کے ساتھ دشمنوں والا سلوک کیا جائے گا۔ جنرل مشرف کے مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ وہ ایک فون پر امریکہ کے سامنے لیٹ گئے، ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ انہوں نے فوری طور پر اپنے سب سے بڑے دوست چین کے ساتھ مشورہ کیا جنہوں نے کہاکہ آپ امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوں بصورت دیگر آپ کی جگہ لینے کے لیے بھارت تیار بیٹھا ہے لہٰذا ضروری تھا کہ اسے سنگلاخ اور بے آب و گیاہ پہاڑوں میں چند برس الجھائے رکھا جاتا۔ دریں اثنا چین پاکستان میں اپنے تمام پراجیکٹ تیزی سے مکمل کرنے کی کوشش کرتا اور بھارت پر کڑی نظر رکھتا۔ امریکہ اس خطہ میں الجھنے کے بعد آسانی سے نکل نہ سکا، اس کے فوجی اخراجات میں یکدم اضافہ ہو گیا اس کی معیشت برف کی طرح پگھلنا شروع ہو گئی۔ چین کا خیال اور منصوبہ بہترین تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے اس پر عمل کیا یوں امریکہ و حواریوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا اور وہ اپنا کوئی بھی ہدف حاصل کئے بغیر افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

ابتدائی منصوبے کے مطابق امریکہ کو یہاں دس برس تک آنکھ مچولی میں مصروف رکھنا طے پایا تھا بعدازاں ضرورت کے مطابق اس مدت میں اضافہ کیا گیا کہ امریکی بدن سے رستا خون جتنا زیادہ بہہ جائے وہ پاک، چین اور اتحادیوں کے لیے بہتر تھا۔ امریکی جو دنیا بھر میں اپنی سوچ، منصوبہ بندی اور برق رفتار حملوں میں مہارت کے سبب ناقابل تسخیر سمجھے جاتے تھے، اس جوابی چال کو سمجھنے سے قاصر رہے یوں خواری ان کے مقدر میں لکھی گئی۔ بادی النظر میں یوں لگتا ہے امریکہ اور اس کے اتحادی اب ایک بڑی جنگ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں جبکہ پیوٹن کی قیادت میں روس ایک مرتبہ پھر اپنی شناخت اور عسکری اعتبار سے اپنا وقار بحال کرانے میں کامیاب ہوا ہے۔ یوکرین بحران اگر طول پکڑتا ہے تو سوچنا ہوگا کہ چین ایک مرتبہ پھر اپنا آزمودہ داﺅ لگا کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جکڑنے تو نہیں جا رہا؟ اس مرتبہ فرق صرف یہ ہوگاکہ پہلے یہ ”نیک لاک“ پاکستان کی مدد سے لگا تھا اب یہ کام روس کے ذریعے لیا جائے گا۔ امریکی انٹیلی جنس کو ایک ماہ میں دو دھچکے لگے ہیں، اطلاع تھی کہ روس 16 فروری کو حملہ کر دے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ پھر کہا گیا21 فروری کو حملہ ہوگا، یہ تاریخ بھی گزر گئی۔ فوجیں جب میدان میں پوزیشن سنبھال لیں تو صورتحال دم بدم بدلتی رہتی ہے، بعض اوقات موسم کی تیزی و تندی اور ہوا کا بدلتا رخ ”اٹیک پلان“ بدلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ منصوبے کے مطابق ایک فریق حملہ اسی وقت کرتا ہے جب اس کی تیاری مکمل ہو جبکہ حریف کی مکمل تیاری نہ ہو۔ عالمی جنگوں میں متعدد بار دیکھنے کو ملا کہ ہزاروں ٹینکوں سے اٹیک کی تیاری مکمل تھی لیکن عین وقت پر ہوا اسی سمت چلنے لگی جدھر ٹینکوں کا رخ تھا، ایسے میں حملہ کیا جاتا تو ٹینکوں سے پہلے ہوا کے دوش پر ان کی آواز دشمن تک پہنچ جاتی جو ٹینک شکن ہتھیاروں سے استقبال کرتا، سو حملہ کے لیے مناسب وقت کا انتظار کرنا پڑا۔

امریکی صدر نیم دروں نیم بروں کی سی کیفیت سے دوچار لگتے ہیں۔ ایک طرف وہ دھمکیاں دے ر ہے ہیں دوسری طرف چاہتے ہیں کہ روسی صدر سے دنیا کے کسی بھی خطہ میں ان کے مذاکرات کا انتظام ہو جائے۔ پیوٹن کی طرف سے سرد مہری برتی جا رہی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنی سوچ اوراپنے منصوبے کے مطابق یکسوہیں۔ اس موقعہ پر امریکی صدر کے پیش نظر معیشت کو لاحق خطرات کے ساتھ ساتھ امریکہ کے اندر ”جنگ مخالف سوچ“ بھی ہوگی، ان کی اپنی صحت بھی قابل رشک نہیں جبکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ ان کی جگہ لینے کے لیے کمیلا ہیرس کتنی بے تاب ہے۔ وہ اس منصوبے سے بھی باخبر ہوں گے جس کے مطابق ذرا سی بھول کے نتیجہ میں انہیں گھر کی راہ بھی دیکھنا پڑ سکتی ہے۔ روس پر پابندیوں کا اعلان جس انداز میں کیا گیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں ادراک ہے کہ روس خطہ میں تیل کا ایسا بحران کھڑا کر سکتا ہے کہ آدھی دنیا بے حس و حرکت ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر دھمکیاں دینے اور آنکھیں دکھانے کے ساتھ ساتھ ملاقات کی کوششیں عروج پر ہیں۔ روسی بینکوں اور اہم روسی ارب پتی شخصیات سے کاروباری لین دین بند کرنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ روسی صدر پر ان شخصیات اور اداروں کا اثر و رسوخ ڈال کر جارحانہ عزائم سے باز رکھا جائے۔امریکی صدر بے حد انڈر پریشر ہیں ان کی اپنے حلیفوں سے ملاقاتیں اور رابطہ تیز ہو چکے ہیں، ان کی طرف سے یوکرین کو اسلحہ کی سپلائی تیز کی جا چکی ہے جبکہ وہ بہت کچھ کہنے اور کرنے کے بعد اب ”فیس سیونگ“ میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو بھی اسی قسم کی تلاش ہے، اپوزیشن رہنماﺅں سے درپردہ ملاقاتیں جاری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button