تازہ ترینخبریںپاکستان سے

بیرون ملک سے قانون کی فاصلاتی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کو وکالت کا لائسنس جاری نہ کرنے کا فیصلہ

پاکستان بار کونسل نے خیبر پختونخوا بار کونسل کو خط کے ذریعے ہدایت کی ہے کہ 30جون 2022 کے بعدپاکستانی کالج یا ادارے اور پاکستان بار کونسل کا مشترکہ این او سی سرٹیفکیٹ نہ رکھنے والے بیرون ملک سے قانون کی فاصلاتی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کووکالت کا لائسنس جاری نہ کیا جائے۔

پاکستان بار کونسل کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل کی لیگل ایجوکیشن کمیٹی نے اپنے اجلاس منعقدہ 18جنوری 2022 میں مذکورہ معاملے پر غور کیا اور فیصلہ کیا ہے کہ کمیٹی پہلے ہی 31اگست 2021کو اسلام آباد بارکونسل اور چاروں صوبائی بار کونسلز کو ہدایت کرچکی ہے کہ وہ کسی بھی بیرون ملک سے قانون کی فاصلاتی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کو وکالت کی پریکٹس کرنے کا لائسنس جاری کرنے سے گریز کریں ۔

جب تک اس کے پاس پاکستان بار کونسل اور ملکی کالج یا ادارے کا این او سی سرٹیفکیٹ موجود نہ ہو، پاکستان با رکونسل نے پہلے اس کی آخری تاریخ 31دسمبر 2021 مقرر کی تھی جس میں اب 30جون 2022 تک توسیع کردی گئی ہے ۔

تاہم 30جون کے بعد کسی بھی ایسے طالب علم کو وکالت کا لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی اسے بطور وکیل انرول کیا جائے گا، خط میں کہا گیا ہے کہ تمام صوبائی بارکونسلز اور اسلام آباد بار کونسل نوٹ کرلیں ۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے اس فیصلے کی 21جنوری 2022کو ہونے والے اجلاس میں منظوری دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button