ادب

جدائی کی پہلی رات ….. پروین شاکر

آنکھ بوجھل ہے

مگر نیند نہیں آتی ہے

میری گردن میں حمائل تری بانہیں جو نہیں

کسی کروٹ بھی مجھے چین نہیں پڑتا ہے

سرد پڑتی ہوئی رات

مانگنے آئی ہے پھر مجھ سے

ترے نرم بدن کی گرمی

اور دریچوں سے جھجکتی ہوئی آہستہ ہوا

کھوجتی ہے مرے غم خانے میں

تیری سانسوں کی گلابی خوشبو!

میرا بستر ہی نہیں

دل بھی بہت خالی ہے

اک خلا ہے کہ مری روح میں دہشت کی طرح اترا ہے

تیرا ننھا سا وجود

کیسے اس نے مجھے بھر رکھا تھا

ترے ہوتے ہوئے دنیا سے تعلق کی ضرورت ہی نہ تھی

ساری وابستگیاں تجھ سے تھیں

تو مری سوچ بھی، تصویر بھی اور بولی بھی

میں تری ماں بھی، تری دوست بھی ہمجولی بھی

تیرے جانے پہ کھلا

لفظ ہی کوئی مجھے یاد نہیں

بات کرنا ہی مجھے بھول گیا!

تو مری روح کا حصہ تھا

مرے چاروں طرف

چاند کی طرح سے رقصاں تھا مگر

کس قدر جلد تری ہستی نے

مرے اطراف میں سورج کی جگہ لے لی ہے

اب ترے گرد میں رقصندہ ہوں!

وقت کا فیصلہ تھا

ترے فردا کی رفاقت کے لیے

میرا امروز اکیلا رہ جائے

مرے بچے، مرے لال

فرض تو مجھ کو نبھانا ہے مگر

دیکھ کہ کتنی اکیلی ہوں میں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button