Column

ہراسانی کے خلاف نیا قانون ….. مظہر چودھری

مظہر چودھری

حال ہی میں سینیٹ اور قومی اسمبلی نے ورک پلیس ہراسمنٹ یا کام کی جگہ پر جنسی اور نفسیاتی طور پر ہراساں یا تنگ کرنے کے خلاف ترمیمی قانون کی منظوری دی ہے جسے خواتین کے تحفظ کے لیے کوشاں اداروں اور قانونی ماہرین کی جانب سے کافی حد تک جامع اور موثر قرار دیا جارہا ہے۔ نئے مسودہ قانون کی خاص بات یہ ہے کہ اِس کے مدد سے اب خواتین اور مردوں کے علاوہ بچوں اور خواجہ سراؤں کو بھی قانونی چارہ جوئی کی سہولت مل گئی ہے۔اگرچہ کام کی جگہوں پر پر خواتین کو ہراسانی کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے 2010سے قانون موجود تھا لیکن ماہرین کے مطابق اِس قانون میں کئی ایک سقم ہونے کے علاوہ اِس کا دائرہ کار بھی محدود تھا۔نئے ترمیمی قانون میں ملازمت کے نئے پیشوں، غیر روایتی شعبوں میں کام کرنے والے افراد اور گھریلو ملازمین کو بھی تحفظ مل سکے گا۔نئے ترمیمی قانون میں ملازم، ملازمت کی جگہ اور مالک کی قانونی تعریف کے ساتھ ساتھ کام کی نوعیت اور ہراسانی کی تعریف میں ترامیم کی گئی ہیں۔پہلے قانون میں کسی روایتی اور باضابطہ ادارے یا دفتر میں کام کرنے والے افراد کو ملازم کی حیثیت حاصل تھی جب کہ نئے مسودے میں ملازم کی قانونی تعریف میں فری لانسرز، فن کار، پرفارمرز، کھلاڑی، طلباء، آن لائن کام کرنے والے افراد، گھریلو ملازمین، انٹرن، یومیہ، ہفتہ واراور ماہانہ اُجرت پر کام کرنے والے کاکنٹریکٹ یا بغیر کنٹریکٹ کے کام کرنے والے افراد کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کسی کے پاس بنا کسی اُجرت کے بھی کام کرتے ہوں۔

ترمیمی مسودے میں ملازمت کی جگہ کی تعریف اور دائرہ کار کو بڑھانے کے علاوہ ہراسانی کی قانونی تعریف میں بھی وسعت لائی گئی ہے۔ پہلے قانون میں ہراسانی سے مراد صرف جنسی ہراسانی تھا جب کہ نئے قانونی مسودے کے مطابق جنسی ہراسانی کے ساتھ ساتھ کوئی بھی ایسا اشارہ، عمل یا فقرہ جو کام کی جگہ پر کسی کے لیے باعث ہتک یا زحمت بنے، ذومعنی الفاظ یا فقرے، کسی کو گھورنا یا سائبر سٹاکنگ یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے کسی کی نگرانی کرنا بھی اب ہراسانی کے زمرے میں شمار کیا جائے گا۔نئے قانون میں شواہد کی قانونی تعریف کو بھی مزید واضح کرتے ہوئے ویڈیو، آڈیو یا کسی تحریر کی صورت میں شواہدکو ہراسانی کی تحقیقات کرنے والی ٹیموں اور وفاقی یا صوبائی محتسب کے لیے قابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ویسے تو نئے قانون میں کی گئی ہراسانی کی تعریف کافی حد تک جامع ہے لیکن اِس کی مزیدموثر وضاحت چند روز قبل وفاقی محتسب برائے ہراسانی کشمالہ طارق نے کر دی۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران اُنہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسا پیغام جس سے دوسرا شخص ذہنی اذیت کا شکار ہو ہراسانی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا یا کسی بھی پلیٹ فارم پر بھیجے گئے غیر ضروری پیغامات متعلقہ شخص کی پرائیویسی میں مداخلت ہیں اور خواتین کوخوب صورت کہنا، گڈ مارننگ، گڈ نائٹ کے پیغامات اور غیر ضروری شاعری بھیجنا بھی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔کشمالہ طارق کے مطابق کوئی بھی نامناسب جملہ، چاہے وہ طنزیہ کہا گیا ہو یا فلرٹ کی خاطر، ہراسمنٹ کے زمرے میں آئے گا۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں سرکاری و پرائیویٹ سیکٹر میں ورکنگ ویمن کو جنسی اور نفسیاتی طور پر ہراساں کرنے کی شکایات عام ہیں۔خواتین کو ملازمت کے حصول سے لے کر ملازمت کرنے تک کئی قسم کی ہراسمنٹ اور ذہنی و جسمانی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دفاتر اور فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کومالکان، ماتحت عملے اور ساتھی ملازمین کی جانب سے مختلف انداز اور طریقوں سے پریشان کیا جاتا ہے۔ خواتین اورٹرانس جینڈر افراد کوغیر شائستہ اشارے کیے جاتے ہیں، صنف کی بنیاد پر اِن سے نامناسب سلوک روا رکھا جاتا ہے، اِن پر ذو معنی فقرے کسے جاتے ہیں اور بعض اوقات جسمانی تشدد اور زیادتی کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔اِسی طرح گھروں میں کام کرنے والے بچے اور بچیوں کو بھی ہراساں کرنے کی شکایات عام ہیں۔تعلیمی اداروں میں خواتین سٹاف کے ساتھ ساتھ طلبا و طالبات کو ہراساں کیے جانے کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ورک پلیس ہراسمنٹ کے علاوہ ہمارے ہاں وٹس ایپ اور فیس بک سمیت سوشل میڈیا پر خواتین کو ہراسمنٹ کا سامنا ہے۔فیس بک پر خواتین کی پوسٹس پر ذومعنی کومنٹس کے علاوہ فلرٹ بھرے پیغامات بھیجے جانا بھی معمول بن چکا ہے اور حیران کن حد تک اِس قبیح فعل میں اخلاقیات کے بھاشن دینے والے متعدد لکھاری بھی شامل ہیں۔اِسی طرح وٹس ایپ پر مختلف گروپوں میں سے خواتین کے نمبرز لے کر یا تھوڑی بہت جان پہچان رکھنے والی خواتین کے ساتھ چیٹنگ کا سلسلہ شروع کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔عام طور پر ایسی چیٹنگ کا آغاز گڈ مارننگ کے میسجز یا اسلامی پوسٹس فارورڈ کرنے سے کیا جاتا ہے۔

دفاتر، فیکٹریز اور تعلیمی اداروں میں ہراسمنٹ کے روزافزوں بڑھتے واقعات بڑے پیمانے پر خواتین کے کام کرنے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ورک پلیس ہراسمنٹ کی شکایات عام ہونے سے والدین اور گھرانے لڑکیوں اور خواتین کی جاب کو بادل نخواستہ ہی قبول کرتے ہیں۔ کوئی بھی معاشرہ اور ملک خواتین کو گھروں تک محدود رکھ کر ترقی نہیں کر سکتا۔زیادہ دور نہ جائیں، صرف بنگلہ دیش کو ہی سامنے رکھ لیں جہاں خواتین ورک فورس کی فیصد تعداد پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت سے بھی زیادہ ہے۔ماہرین کے مطابق 2031تک بنگلہ دیش کو اپر مڈل انکم کا سٹیٹس مل جائے گا۔اپر مڈل انکم سٹیٹس اِس وقت تک نہیں ملتا جب تک معیشت میں مرد، خواتین اور نوجوانوں سمیت پوری سوسائٹی حصہ نہ لے۔ہماری ورک فورس میں خواتین کی شرح صرف 20فیصد ہے اور اِس کی ایک اہم وجہ سرکاری اور نجی سیکٹر میں ورک پلیس ہراسمنٹ کی شکایات کا عام ہونا ہے۔ کسی بھی معاشرے یا تنظیم میں ہراساں کرنا رجعت پسندانہ طرز عمل ہے جس سے ایک خوف ناک، مایوس کن اور جارحانہ ماحول پیدا ہوتا ہے اور ایسے ماحول سے کسی بھی تنظیم اور معاشرے کی مجوعی کارکردگی اور ترقی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال سے ہراسانی کے قدرے آسان طریقے میسر آ گئے ہیں لیکن دنیا کے زیادہ تر ممالک ہراسانی کے اِن جدید ہتھکنڈوں کو بے اثر کرنے کے لیے موثر قوانین تشکیل دے چکے ہیں۔حال ہی میں سعودی حکومت نے اِس حوالے سے نئی قانون سازی کی ہے جس کے مطابق واٹس ایپ پر سرخ دل والا ایموجی بھیجنا شدید قسم کی ہراسمنٹ شمار کیا گیا ہے۔ہراسانی کی روک تھام کے لیے منظور کیا گیا نیا قانون موجودہ حکومت کے چند اچھے اقدامات میں شمار کیاجاتا رہے گا تاہم اِس کا دائرہ کار آن لائن چیٹنگ تک وسیع کردیا جائے توپھر تو”ویری والا گڈ“ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button