تازہ ترینخبریںپاکستان سے

ایف آئی اے کے افسران محسن بیگ کو گرفتار کرنے کے مجاز نہیں تھے: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج

انسداددہشتگردی عدالت کے جج محمد علی وڑائچ کی عدالت نے گرفتار سینئر صحافی محسن جمیل بیگ کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

گذشتہ روز تھانہ مارگلہ پولیس نے سخت سیکیورٹی میں محسن جمیل بیگ کو عدالت پیش کیااور محسن بیگ کو کمرہ عدالت پہنچانے کے بعد کمرہ عدالت کو بند کردیاگیا اور میڈیا کو بھی باہر نکال دیا گیا جس پر احتجاج کے بعد عدالت نے میڈیا کو کمرہ عدالت آنے کی اجازت دی، دوران سماعت عدالت سے محسن بیگ کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی گئی، اس موقع پر محسن جمیل بیگ نے کہاکہ میرے گھر میں ریڈ کر کے عجیب ماحول بنایا گیا،

میں 32 سال سے صحافت میں ہوں، ایف آئی اے مجھے کال کر کے بلا سکتا تھا،مقامی پولیس سٹیشن کو انفارم کیے بغیر سادہ کپڑوں میں چھاپہ مارا گہا، میرے گھر پر بیوی بچے تھے، بغیر وردی گھر میں داخل ہوئے،آج کل وارداتیں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں، کیا معلوم کون ہیں،میں پولیس کی حراست میں تھا مجھ پر تشدد کیا گیا،عدالت میرا میڈیکل کرنے کا حکم جاری کرے،میرے ناک کی ہڈی اور پسلیاں توڑ دی گئی ہیں،میراتمام اسلحہ لائسنسی ہے، غیر قانونی نہیں،واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجودہے،

محسن بیگ کے وکیل نے کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی واضح ہدایات ہیں کہ بغیر وردی ریڈ نہیں کیا جا سکتا،ان کو کیاپتہ ہے کہ ایف آئی اے والے ہیں۔یا کوئی چورڈاکو،عدالت نے کہاکہ ابھی ان تمام معاملات کی تفتیش ہونی ہے،

وکیل نے کہاکہ آپ جسمانی ریمانڈ نہ دیں، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیں،ابھی معاملے کی تفتیش ہونی ہے تب تک جسمانی ریمانڈ نہ دیا جائے، عدالت نے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پرمحسن جمیل بیگ کو پولیس کے حوالے کردیا۔

ادھر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں محسن بیگ کی گرفتاری واقعہ کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران وکیل راحیل نیازی نے کہاکہ صبح سویرے سادہ کپڑوں میں لوگ محسن بیگ کے گھر آئے،کون لوگ تھے کہاں لے کر جا رہے تھے کچھ معلوم نہیں،ایس پی اور ڈی ایس پی سے وارنٹ گرفتاری اور سرچ وارنٹ مانگے گئے جونہیں دیے،ایس پی نے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد کو گھر میں دھاوا بولنے کا حکم دیا،سادہ کپڑوں میں افراد نے بچوں کو مارا موبائل فون توڑ دئیے اور محسن بیگ کو ساتھ لے گئے،جس پر عدالت نے بیلف مقرر کر کے محسن بیگ کو عدالت پیش کرنیکا حکم دیدیا،

جبکہ تھانہ مارگلہ پولیس نے بیلف کو رپورٹ مہیا کر دی جس میں کہاگیاکہ محسن بیگ کو مقدمہ نمبر 87 میں گرفتار کیا گیا ہے،محسن بیگ کے خلاف دہشتگردی، اقدام قتل، حبس بے جا سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے،بیلف سہیل ممتاز کی عدالت جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق عدالتی احکامات پر محسن جمیل بیگ کی بازیابی کیلئے تھانہ مارگلہ آئے جہاں محرر نے بتایا کہ محسن بیگ کو مذکورہ بالا مقدمہ میں حوالات بند کیا گیا،محسن بیگ کے وکیل راحیل نیازی نے کہاکہ پولیس والے محسن بیگ پر تشدد کر رہے ہیں وہ شدید زخمی ہے،

وقفہ کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہونے پر عدالت نے ایس ایچ او تھانہ مارگلہ کو ذاتی حیثیت میں ریکارڈ سمیت طلب کرلیا، جس پر ایس ایچ او میاں خرم عدالت پیش ہوئے، وکیل نے کہاکہ محسن بیگ کو لیکر نہیں آئے وہ بہت زخمی ہے،

عدالت نے کہاکہ آپ اتنے جذباتی نہ ہوں،ایس ایچ او کون ہے،ایف آئی اے نے گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا ایف آئی اے کا کیا تعلق ہے،آپ ریکارڈ دکھائیں،

وکیل نے کہاکہ یہ مقدمہ ابھی 12 بج کر 40 منٹ کا ہے،جھوٹا مقدمہ ایف آئی اے اور تھانہ مارگلہ پولیس نے دیا،عدالت نے استفسار کیا کہ روزنامچہ اور مقدمہ کا رجسٹرڈ کدھر ہے، جس پر ایچ ایس او نے کہاکہ وہ اب مینوئل نہیں ہے،عدالت نے ہدایت کی کہ وہ عدالت میں پیش کریں،

جج نے استفسار کیاکہ محسن بیگ کون ہے کدھر ہے،جس پر ایس ایچ او نے کہاکہ ملزم کو لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر پیش نہیں کیا،عدالت نے ہدایت کی کہ ملزم کو پیش کریں اور تین بجے اس کیس کو ختم کرنا ہے،اسی دوران مارگلہ پولیس اور زخمی ایف آئی اے کا اہلکار عدالت میں پیش ہوگئے،

عدالت نے کہاکہ ایف آئی اے اور مارگلہ کا کیس لیکر آئیں،ایف آئی اے کا مدعی بھی آپکے ساتھ آیا ہے،پولیس نے کہاکہ وہ مراد سعید ہے،عدالت نے استفسار کیاکہ یہ زخمی بندہ کون ہے،پولیس نے بتایاکہ یہ ایف آئی اے کا اہلکار وسیم سکندر ہے، راحیل نیازی ایڈووکیٹ نے کہاکہ لاہور کا مقدمہ ہے اور ساڑھے 8 بجے ایف آئی اے کی ٹیم ادھر موجود تھی، گھر میں بغیر سرچ وارنٹ داخل ہوئے ہیں،

عدالت نے کہاکہ دونوں ریکارڈ دکھائیں دیکھتے ہیں لاہور کا مقدمہ ہے سرچ وارنٹ ہے،عدالت نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایف آئی اے کا ریکارڈ کدھر ہے مثل کدھر ہے۔ فوٹو کاپیاں مت دکھائیں،ساری شکایت کنندہ ٹیم ادھر ہے آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہے،گرفتاری کس وقت ڈالی ہے سب ریکارڈ پیش کریں، اگر غیر قانونی حراست ثابت ہوئی تو کارروائی ہو گی،ہمیں ایف آئی اے کا ریکارڈ اور تھانہ مارگلہ کا مقدمہ دیں پھر آپ کی بات سنیں گے،عدالت نے تھانہ مارگلہ اور ایف آئی اے کا ریکارڈ پھر طلب کر لیا،

بعد ازاں پولیس نے محسن بیگ کو ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں پیش کر دیا، جہاں وکیل اورانسپکٹر لیگل ساجد چیمہ کے مابین تلخ کلامی ہوگئی، انسپکٹر لیگل نے کہاکہ آپ میرے سے پرسنل نہ ہوں، دہشتگردی عدالت نے 3 دن کا ریمانڈ دیا ہے،عدالت نے کہاکہ ایف آئی اے کا مقدمہ کب ہوا چھاپہ مار ٹیم کہاں سے آئی تھی،انسپکٹر لیگل نے کہاکہ ایف آئی اے کی ٹیم ادھر سے ہی تھے،جج نے کہاکہ مقامی کو کون اختیار دیتا ہے،ایف آئی اے کا کہیں پر بھی مقدمہ ہو جائے چھاپہ آپ ماریں گے،ایف آئی اے حکام نے کہاکہ لاہور کی ٹیم ابھی آرہی ہے،عدالت نے کہاکہ جو بندہ زخمی ہوا وہ کس طرح ادھر گیا،اگر اسلام آباد کی ایف آئی اے کی ٹیم ساتھ ہے تو لاہور سے کون آیا تھا،9 بجے مقدمہ ہوا 9بجے کون سا بندہ کس جہاز پر بیٹھ کر آیا، جج نے ایف آئی اے حکام سے کہاکہ یہ کیسے ایف آئی اے ٹیم ہے،9 بجے مقدمہ ہوتا ہے آپ کی ٹیم پہنچ جاتی ہے،لاہور سے مقدمہ کا ریکارڈ کون لیکر آیا، نہ ہی سٹاف ادھر سے آیا ہے،جس پر ایف آئی اے حکام نے کہاکہ واٹس ایپ پر مقدمہ کی کاپی موصول ہوئی،عدالت نے کہاکہ ریکارڈ پیش کریں،ضمنی کدھر ہے آپ نے گرفتاری اس کیس میں ڈالی ابھی تک ضمنی نہیں لکھی،ایف آئی اے کا ریکارڈ کدھر، جس پر یہ مسئلہ بنا ہے،

عدالت نے پولیس سے استفسار کیاکہ ایف آئی اے ٹیم کو اس میں شامل تفتیش کیا ہے،محسن بیگ نے کہاکہ میں گھر پر سویا تھا بیوی اور بہو کی چیخوں کی آوزایں آئیں میں جاگا،دھمکیاں دو تین دن سے مل رہیں تھیں،سول کپڑوں میں لوگ گھر داخل تھے میں نے ایک کو پکڑ لیا باقی بھاگ گئے،میری پولیس کال پرپولیس آئی تو انہوں نے کہا آپ نے تھانے جانا ہو گا،تھانے میں لے کر آئے پولیس تحویل میں مجھے تھانے میں مارا گیا،میں نے کہا آپکی حراست میں ہوں یہ کیوں مارتے ہیں،میرا اسلحہ لائسنس والا تھا بندے گھرمیں داخل ہوئے تھے، عدالت نے ایچ ایس او سے کہاکہ کیا ایف آئی اے کے مقدمے میں گرفتاری ہوئی تھی۔

محسن بیگ نے کہاکہ بیلف میرے سامنے آیا اس وقت تک ایف آئی آر نہیں ہوئی تھی،عدالت نے کہاکہ محسن بیگ کا بیٹا کدھر ہے،آپ پولیس اور ایف آئی اے والے بھی گئے تو نامعلوم کون ہیں،آپ نے ایک بھی نامعلوم نہیں پکڑا مزہ تب آتا انکو پکڑتے یہ بھاگ جاتے،اس موقع پر جج کے ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگ گئے، عدالت نے کہا کہ دہشتگردی عدالت کا آرڈردکھائیں کیاجسمانی ریمانڈ ہوا،عدالت نے محسن بیگ سے استفسار کیاکہ آپکو ہسپتال نہیں لیکر گئے، محسن بیگ نے کہاکہ یہ مجھے مارگلہ تھانے لے گئے،وہاں دس لوگوں نے مارا،میری ہڈی توڑ دی،ایس ایچ او بتائیں یہ کیوں ہوا،یہ پولیس کا قصور نہیں ہے،انھیں احکامات کہیں اور سے مل رہے تھے،عدالت نے کہاکہ پولیس کی تائید کے لئے کوئی ایف آئی والے لاہور سے آئے ہیں؟،لاہور والے ایف آئی اے والے ویڈیو میں آئے،

جہانگیر جدون ایڈووکیٹ نے کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا قانون کے تحت گرفتاری سے روک رکھا ہے،عدالتی حکم ہے کہ گرفتاری سے قبل بندہ بلائیں انکوائری کریں،ایف آئی اے نے غیر قانونی چھاپہ مارا،کس کے کہنے پر یہ غیر قانونی کام کیا،محسن بیگ نے جو بولا اسکے خلاف پیمرا جانا چاہیے تھا،ایف آئی اے کے پاس کوئی قانونی اختیار نہیں تھا،ایف آئی اے نے چھاپہ نہیں مارا،نامعلوم لوگوں نے چھاپہ مارا،محسن بیگ نے کہاکہ زخمی شخص اور تفتیشی آفیسر کوئی اور ہے،جب بیلف تھانے گیا اس وقت پرچہ نہیں ہوا تھا،بیلف کوبھی تھانے داخل نہیں ہونے دیا جا رہا تھا،

جہانگیرجدون ایڈووکیٹ نے کہاکہ ڈی جی ایف آئی اے کے خلاف آبزرویشن دیں کہ عام لوگ کیسے ایف آئی اے کے ساتھ گئے، عدالت نے کہاکہ ایف آئی آر میں نامزد سات نامعلوم لوگ کون ہیں،کیوں نہیں پکڑے،یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مرکزی ملزم پکڑا گیا اور نامعلوم نہیں پکڑے گئے،

جہانگیر جدون ایڈووکیٹ نے کہاکہ ہمیں محسن بیگ سے پندرہ منٹ کی ملاقات کی اجازت دی جائے،عدالت نے محسن بیگ کی غیر قانونی حراست کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

بعد ازاں جاری اپنے فیصلہ میں عدالت نے 5 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ میں کہاہے کہ مقدمہ 9 بجے ہوا اور ساڑھے 9 بجے ایف آئی اے نے چھاپہ مارا،بغیر کسی سرچ وارنٹ کے چھاپہ مارا گیا، محسن بیگ کا بیان پولیس ریکارڈ کرے اور قانون کے مطابق کارروائی کرے،سوا دو بجے تک ایس ایچ او نے ریکارڈ اور غیر قانونی حراست میں رکھے محسن بیگ نہیں پیش کیا،ایف آئی اے اور ایس ایچ او کی ایف آئی آر سے ثابت ہوتا ہے چھاپہ غیر قانونی مارا گیا،

چھاپہ مار ٹیم میں جو لوگ شامل تھے وہ چھاپہ مارنے کا اختیار نہیں رکھتے تھے، تھانہ مارگلہ ایس ایچ او نے ان غیر قانونی افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بجائے اپنا الگ مقدمہ دیدیا، ایس ایچ او نے جعلی کارکردگی دکھانے کے لیے مقدمہ درج کیا۔

عدالت نے ایس ایچ او کے خلاف کاروائی کی ہدایت کرتے ہوئے اس فیصلہ کی کاپی انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد کو بھی بھیجنے کی ہدایت کردی اور کہاکہ ایف آئی اے کے افسران محسن بیگ کو گرفتار کرنے کے مجاز نہیں تھے،

محسن بیگ کے خلاف ایف آئی اے لاہور نے 9 بجے مقدمہ درج کیا 10 بجے ٹیم اسلام آباد کیسے پہنچی؟،اسلام آباد پولیس کو غیر قانونی چھاپہ مارنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنی چاہیے تھی نہ کہ محسن بیگ کیخلاف۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button