تازہ ترینخبریںکاروبار

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا، پٹرول12.03، ہائی اسپیڈ ڈیزل9.53، لائٹ اسپیڈ ڈیزل9.43، مٹی کا تیل 10.08روپے مہنگا، پیٹرول کی نئی قیمت159 روپے 86پیسے ، ڈیزل 154روپے 15پیسے،لائٹ ڈیزل 123روپے 97پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت 126روپے 56پیسے فی لیٹر ہوگئی.

 وزارت خزانہ کاکہناہےکہ پی ڈی ایل اور دیگر ٹیکس کم کرنے سے حکومت کو ماہانہ 70 ارب روپے نقصان ہورہا ہے،ادھر وزیر اطلاعات فواد چوہدری کاکہناہےکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے پرہم بھی بڑھائیںگے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 12 روپے 3 پیسے فی لیٹر بڑھنے کے بعد نئی قیمت 159 روپے 86 پیسے فی لیٹر ہوگئی،نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے 53 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 154 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے.

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 10 روپے 8 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے اور اب نئی قیمت 126 روپے 56 پیسے فی لیٹر ہوگی،لائٹ ڈیزل کی قیمت 9 روپے 43 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 123 روپے 97 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ 15 روز کیلئے کیاگیا ہے۔وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پرپی ڈی ایل اور دوسرے ٹیکس کم کرنے سے حکومت کو ماہانہ 70 ارب روپے نقصان ہورہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وزرات خزانہ نے اوگرا سفارشات کے مطابق ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدر ی نےکہاہےکہ پیٹرول کی قیمت بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں، اسٹے آرڈرز کے سبب حکومت کے کھربوں روپے پھنسے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے انتظامی بحران پیدا ہورہا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فواد حسین چوہدری نے کہا کہ یورپ امریکا تناؤ کی وجہ سےعالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو رہا ہے آخر ہم کتنی دیرتک پٹرول کی قیمتیں روک سکتے ہیں؟ ہمارے پاس بھی پیٹرول کی قیمت بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button