Column

پی ڈی ایم کو مایوسی کا سامنا … امتیاز عاصی

امتیاز عاصی
بے چارے عوام کیا کریں، اپوزیشن کے ہر روز نئے نئے بیانات سن سن کر اِن کے کان پک گئے ہیں۔ایک عرصہ سے پی ڈی ایم حکومت کے خلاف کسی نہ کسی طریقے سے متحرک ہے مگر اپوزیشن کو حکومت گرانے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی ۔مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں کے مختلف بیانات اِس اَمر کا غماز ہیں کہ اپوزیشن کے پاس عدم اعتماد لانے کے لیے عددی اکثریت کا فقدان ہے۔کوئی کہتا ہے عدم اعتماد کسی وقت بھی آسکتی ہے۔کوئی کہتا ہے جب بیساکھیاں ہٹ گئیں تو عدم اعتماد کامیاب ہوجائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے حکومت جانے کا وقت اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا ہے۔پی ڈی ایم کے حالیہ اجلاس میں وفاق اور صوبوں میں عدم اعتما د لانے کے لیے حلیف جماعتوں سے پی ڈی ایم کے وفود ملیں گے۔پی ڈی ایم کے وفود کی تشکیل
کامرحلہ ابھی باقی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے ایک بات واضح کر دی ہے کہ وہ حکومتی ارکان سے رابطہ نہیں کریں گے، اگر کوئی اپنی مرضی سے آئے گا تو خوش آمدید کہیں گے۔ جب کہ اِس کے برعکس مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال کا چند روز پہلے یہ دعویٰ تھا کہ پانچ حکومتی وزراءاِن کے ساتھ رابطے میں ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بڑی دلچسپ بات کی ہے کہ اپوزیشن عدم اعتما د لائے اِن کے اپنے ارکان اِنہیں سر پرائز دیں گے۔فواد چوہدری کی بات میں بڑا وزن ہے جس کا عملی مظاہرہ اپوزیشن سینیٹ میں سٹیٹ بنک ترمیمی بل کے موقع دیکھ چکی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا دعویٰ ہے کہ پی ڈی ایم نہ تو عدم اعتماد لائے گا اور نہ یہ 23 مارچ کو آئیں گے۔مولانا کی بات اپنی جگہ درست ہے وہ پہلے حلیف جماعتوں سے رابطہ کریں گے ۔پیپلز پارٹی توحلیف جماعت سے رابطہ کر چکی ہے ۔گجرات کے چودھریوں کا آصف علی زرداری کو جواب پی ڈی ایم کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔میاں شہباز شریف نے ایم کیو ایم سے ملاقات کرکے دیکھ لیا وہ بھی جھنڈی کر ا گئے۔پی ڈی ایم کی تسلی کے لیے دو حلیف جماعتوں کے جوابات کافی ہیں۔تاہم اِس کے باوجود پی ڈی ایم نے حلیف جماعتوں سے ملاقات کے لیے وفودبھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابھی وفود کی تشکیل ہونا باقی ہے۔اِن تمام باتوں کے باوجود پی ڈی ایم تحریک عدم لانے کی خواہش مند ہے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔بات دراصل بیساکھیوں والی ہے۔شاید خاقان عباسی حالات کی نزاکت کوبخوبی سمجھتے ہیں۔مگر وہ کیاکریں اِنہیں سیاست کرنی ہے کوئی نہ کوئی تو بیان دینا پڑتا ہے۔حقیقت بھی یہی ہے کہ جب تک مسلم لیگ (ن) پر بیساکھیوں کا سایہ رہا وہ حکومت کرتے رہے۔چنانچہ جیسے ہی بیساکھیوں نے ہٹنا شروع کیا وہ اقتدار سے محروم کر دیئے گئے۔
ایک مرتبہ اقتدار کے مزے لوٹنے والوں سے جب اقتدار چھن جائے تو اِن کے لیے وقت گذارنا دشوار ہو جا تا ہے۔پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں کئی مرتبہ اقتدار کے مزے لوٹ چکے ہیں ۔اقتدار سے علیحدہ ہو کراِنہیں ایک ایک پل برسوں کالگ رہاہے۔دونوں جماعتوں کا بیساکھیوں کا انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ حلیف جماعتوں کو حکومت سے اتحاد ختم کرنے کے لیے قائل کریں گے۔ بھئی کس خوشی میں وہ حکومت سے اپنا اتحاد ختم کریں گے۔ اِنہیں حکومت سے علیحدہ ہونے کی کیا پڑی ہے۔چلئے اِن کے وزراءنہیں بھی تو کیا ہوا وہ حکومت سے اپنے کام تو کر الیتے ہیں جب کہ اپوزیشن کا ساتھ دے کر اِنہیں کیا حاصل ہو گا؟آصف علی زرداری چو دھری برادران سے ملاقات کرکے اپنی کر تسلی کرچکے ہیں ۔ اب رہ گئے میاں شہباز شریف تو اِنہیں یاد رکھنا چاہیے چوہدری برادران کبھی شریف برادران پر اعتبار نہیں کر سکتے۔وہ ماضی کی تلخ یادوں کو کیسے بھلا سکتے ہیں۔نواز شریف اپنی حکومت میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو دے دیتے تو آج اِنہیں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
کہتے ہیں ”جب چڑیاں جگ گئیں کھیت“ والی بات رہ گئی ہے۔یہ علیحدہ بات ہے کہ چودھری برادران اپنی میزبانی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے میاں شہباز شریف کو خوش آمدید ضرور کہیں مگر ساتھ دینے والی بات کوئی نہیں۔ دنیا جانتی ہے چوہدری برادران وعدے اور دھڑے کے بہت پکے ہیں۔کچھ بھی ہوجائے وہ عمران خان کو نہیں چھوڑیں گے۔حکومت سے اِنہیں شکایات ضرور ہیںجس کا مطلب یہ نہیں لیا جا سکتا وہ حکومت سے اپنا اتحاد ختم کردیں گے بلکہ وہ اپنی خاندانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے عمران خان کا کبھی ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کوحکومت سے جو شکایات ہیں عوام اِن سے اچھی طرح واقف ہیں۔چنانچہ انہی وجوہ کی بنا عوام اپوزیشن کی کسی تحریک میں ساتھ دینے سے قاصر ہیں۔اپوزیشن جماعتوں میں اندرونی طور پر اختلافات ہیں۔کوئی جماعت دوسری جماعت پر اعتماد کرنے پر تیار نہیں۔پیپلز پارٹی دعووں کے باوجود پی ڈی ایم کا عدم اعتماد میں ساتھ نہیں دے گی ۔اِنہیں کیا پڑی ہے وہ سندھ میں حکومت کرکے اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔افسوس تو اِس بات کا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کچھ اِس طرح کا طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں جیسا کہ تحریک انصاف پاکستانی عوام کی بجائے کوئی غیر ملکی جماعت ہے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کا وقت تو دے سکتے ہیں لیکن وہ تحریک انصاف کو ایک پل برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایک دوسرے کے خلاف مقدمات تو بناتے رہے مگر ایک دوسرے کے مقدمات کو التواءمیں رکھ کر ایک دوسرے کی ہمدردیاں حاصل کرتے رہے۔ وزیراعظم عمران خان کا قصور یہی ہے کہ وہ کرپٹ سیاست دانوں کو معاف کرنے کوتیار نہیں۔وزیراعظم اگر معاف کردیں تو اِن کی اپنی سیاست ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔اگر وہ اپنے دور میں کرپٹ سیاست دانوں کو سزائیں دلوانے میں کامیاب ہوگئے تو قوم اِنہیں ہمیشہ یاد رکھے گی بلکہ آئندہ انتخابات میں بھی اِنہیں ضرور ووٹ دے گی۔حالات وواقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اپوزیشن حکومت گرانے میں مایوسی کا شکار ہے ۔اِسے کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button