Column

بزنس ہو رہاہے۔۔۔؟؟ … کاشف بشیر خان  

کاشف بشیر خان
رحمت شاہ آفریدی سے آف دی ریکارڈ متعدد مرتبہ 1989 میں بینظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے قبل جہاد کے نام پر نواز شریف کے اسامہ بن لادن سے لئے گئے ڈیڑھ ارب روپے پر بارے بات ہوتی رہی تھی۔پروگرام کے دوران میں نے دانستہ مدینہ کے ہوٹل میں ہونے والی ملاقات کا ذکر کیا اور اِس طرح اسامہ بن لادن سے بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنے اور مبینہ جہاد کے لیے 1989 میں لیے گئے ڈیڑھ ارب روپے کی تفصیلات عوام کے سامنے آئیں۔ نواز شریف کا اسامہ بن لادن سے ڈیڑھ ارب روپے حاصل کرنے والے پروگرام کی بازگشت بھارت سمیت دنیا بھر میں سنائی دی اور میرے اِس پروگرام کو عمران خان نے نہ صرف اپنے جلسوں میں چلایا بلکہ بی بی سی نے نواز شریف کی کرپشن پر بنائی ڈاکیومنٹری ”پینڈورا آف پانامہ“میں میرے پروگرام کے کلپ بھی ڈالے۔یہ پروگرام دنیا بھر میں مشہور ہوا اور پاکستان کے تمام چینلز نے بھی میرے پروگرام کے کلپس کو اپنے ٹاک شوز کا حصہ بنایا۔ جب نواز شریف نے دوسری مرتبہ 1997 میں اقتدار سنبھالا تو اِس نے رحمت شاہ آفریدی کو ایک خوفناک سزا دینے کا فیصلہ کیا اور پھر میاں نواز شریف کی فاشسٹ حکومت نے اِنہیں لاہور کے مال روڈ پر واقع ایک فائیو سٹار ہوٹل سے نہایت بھونڈے طریقے سے گرفتار کر کے فوری طور پرمنشیات سمگلنگ کا ایک ایسا جھوٹا مقدمہ درج کروا یا کہ جس کا ”مال مقدمہ“بھی نہیں تھا لیکن رحمت شاہ آفریدی کی بے باک صحافت کو روکنے کے لیے نواز شریف نے اپنے بندوبست کے تحت رحمت شاہ آفریدی کو سزائے موت دلوا کر پھانسی کی کوٹھڑی میں بند کروا دیا۔2008 میں جب آصف علی زرداری صدر پاکستان بنے تو پھر رحمت شاہ آفریدی کو معافی دے دی گئی لیکن فرنٹیئر پوسٹ تباہ کر دیا گیا۔
ہر صحافی کے پاس”آف دی ریکارڈ“ بہت سے گفتگو ہوتی ہے جو ہم الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا میں نہیں لاتے اور اگر آف دی ریکارڈ گفتگو کو پبلک کیا جائے تو یہ بدترین صحافتی بدیانتی کہلاتی ہے جو صحافی کی کریڈیبلٹی اور وقار کو بری طرح ٹھیس پہنچاتی ہے۔آج میں ایک آف دی ریکارڈ گفتگو کو اپنے کالم کا حصہ بنا رہا ہوں لیکن قارئین کو بتانے کی ضرورت ہے کہ اِس آف دی ریکارڈ گفتگو کو نذرِ قارئین کرنے سے پہلے میں رحمت شاہ آفریدی سے اِس کو شائع کرنے کی اجازت لے چکا ہوں۔ 1993 میں جب محترمہ بینظیر بھٹو دوسری اور آخری مرتبہ وزیر اعظم بنیں تو انہوں نے رحمت شاہ آفریدی (جو اُن کے بھائی بنے ہوئے تھے) کو حکومتی عہدہ دینے کی کوشش کی جسے آفریدی صاحب نے لینے سے انکار کر دیا تاہم محترمہ کے دور حکومت میں رحمت شاہ آفریدی اسلام آباد کے سندھ ہاؤس میں مستقل ٹھہرا کرتے تھے۔ رحمت شاہ آفریدی کے ساتھ والا کمرہ آصف علی زرداری کا تھا۔ اہم امور پر مشورے کے لیے محترمہ قریباً روزانہ ہی آفریدی کو بلایا کرتی تھیں۔اِن کے بقول ایک دن جب وہ دوپہر کے قریب جاگے تو سندھ ہاؤس کی لابی میں غیر معمولی چہل پہل دیکھی وہ اُس شخصیت کو دیکھ کر حیران رہ گئے کیوں کہ یہی شخصیت تھی جو نواز شریف کے ساتھ مل کرملک کے خزانے پر ہاتھ صاف کرتی چلی آ رہی تھی، اِسی دوران آصف علی زرداری اپنے کمرے سے نکلے اور کہا”رحمت شاہ!تھوڑی دیر میں اور مہمان بھی آ رہے ہیں،تم بھی تیار ہو جاؤ۔اِس میٹنگ میں تم نے بھی شرکت کرنی ہے۔“آفریدی صاحب کے بقول وہ پریشانی میں فوراً اپنے کمرے میں چلے گئے اور وہاں سے کھسکنے کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔چند ہی منٹ کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو کی کراچی سے کال آ گئی اور انہوں نے رحمت شاہ آفریدی سے پوچھا”رحمت شاہ!سندھ ہاؤس میں کیا ہو رہا ہے“؟رحمت شاہ کا جواب بہت دلچسپ تھا۔انہوں نے بی بی سے کہا کہ ”بی بی!یہاں بزنس ہو رہا ہے“۔اِس پر محترمہ بینظیر بھٹو غصے میں آ گئیں اور تفصیلات معلوم کر کے فون بند کر دیا۔ رحمت شاہ آفریدی اپنے کمرے میں تیار ہوتے ہوئے وہاں سے نکلنے کی تیاری اور پلاننگ میں مصروف تھے اور اِس دوران آصف علی زرداری کی جانب سے تیار رہنے اور کہیں نہ جانے کے لیے دو پیغامات بھی آ چکے تھے۔اِس تمام صورتحال میں دن کے 4 بج چکے تھے۔رحمت شاہ آفریدی کے بقول اِسی دوران وزیر اعظم کے پروٹوکول کی گاڑیاں سندھ ہاؤس کی جانب آتی دکھائی دیں تو وہ فوراً اپنی مرسڈیز میں بیٹھ کر پشاور روڈ کی جانب چل پڑے اور اپنی گاڑی وہاں چھوڑ کر فلائنگ کوچ میں بیٹھ کر اپنے آبائی گھر پشاور والدہ کے پاس جا ٹھہرے۔محترمہ بینظیر بھٹو سندھ ہاؤس پہنچ چکی تھیں اور اِن کی آصف علی زرداری سے زبردست لڑائی ہوئی تھی کہ جن لٹیروں نے ملکی دولت نواز شریف کے ساتھ مل کر لوٹی اِن کو کیوں سندھ ہاؤس بلایا گیا۔یہ وہ ہی مفاد پرست بڑی کاروباری شخصیات تھیں جنہوں نے اپنے مفادات کے لیے محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت نواز شریف کے ساتھ ملک کر ختم کروائی تھی۔ رحمت شاہ آفریدی کے مطابق سندھ ہاؤس میں اِس واقعہ کے فوری بعد آصف علی زرداری نے محترمہ بینظیر بھٹو کو قائل کیا تھا کہ اگر نواز شریف کا مقابلہ کرنا ہے تو پھر اِن سب”شخصیات“کو ساتھ ملانا ہو گا۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یہ ایک سیاہ دن تھا جب بھٹو کی بیٹی نے اپنے شوہر کی بات مانی اور یوں ملکی سیاست میں میگا کرپشن میں اِس وقت کی وزیر اعظم نے نواز شریف جیسے مخالفین کا سیاست میں مقابلہ کرنے کے لیے کرپشن کا ساتھ دیا تھا۔آج یہ دونوں کرپٹ خاندان پھر اکٹھے ہیں اور اِن کا عمران خان کی حکومت کو مل کر گھر بھیجنے کا دعویٰ ہے۔لیکن یہ سب ماضی میں پاکستان کو بری طرح لوٹنے کے بعد امیر ترین خاندان بن چکے اور پھر سے حکومت میں گھُسنے کے خواہش مند ہیں دیکھیں اِن کی یہ ناپاک خواہش پوری ہوتی ہے یا پھر ذلت آمیز ناکامی ہی ان کا مقدر رہتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button