Column

تقسیم کی لکیر اور ہم … قادر خان یوسف زئی

قادر خان یوسف زئی
یوں تو تقسیم ہند انگریز، ہندو اور مسلمانوں کے مشترکہ معاہدہ کی رُو سے عمل میں آئی تھی، لیکن ہندو اور انگریز دونوں کے دل پر کیا گذری تھی، اِس کا اندازہ اِن اعلانات سے لگائیے، جس سے اِنہوں نے اِس معاہدہ کی رسمِ افتتاحیہ ادا کی تھی۔ یہ معاہدہ مسلم لیگ اور کانگریس کے مابین ہوا تھا۔ 3جون1947کو اِس پر دستخط ہوئے اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے 14جون کو قرار داد پاس کی کہ ”آل انڈیا کانگریس کمیٹی کو پورا پورا یقین ہے کہ جب موجودہ جذبات کی شدت میں کمی آجائے گی تو ہندوستا ن کے مسئلہ کا حل صحیح پس منظر میں دریافت کرلیا جائے گا اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے دو الگ الگ قومیں ہونے کا باطل نظریہ مردود قرار پاجائے گا۔“
پنڈت جواہر لعل نہرو ایک طرف اِس معاہدہ پر دستخط کررہا تھا اور دوسری طرف قوم سے کہہ رہا تھا کہ ”ہماری سکیم یہ ہے کہ ہم اِس وقت جناحؔ کو پاکستان بنا لینے دیں اور اِس کے بعد معاشی طور پر اور دیگر انداز سے، ایسے حالات پیدا کرتے جائیں جن سے مجبور ہو کر مسلمان گھٹنے کے بل جھک کر ہم سے درخواست کرے کہ ہمیں پھر سے ہندوستان میں مدغم کرلیجئے۔“یہ قوم پرستوں کے نیتاؔ تھے۔ ہندو مہا سبھا کے سرپنچ، ڈاکٹر شیاما پرشاد مکر جی، اپنی جاتیؔ کو یہ تلقین کررہے تھے کہ ”ہمارا نصب العین یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کو پھر سے ہندوستان کا حصہ بنالیا جائے، اِس حقیقت سے متعلق میرے دل میں ذرا سا بھی شبہ نہیں کہ ایسا ہو کر رہے گا، خواہ یہ معاشی دباؤ سے ہو یا سیاسی دباؤ سے، یا اِس کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرنے پڑیں۔“ انگریز کی کیفیت بھی ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ جب تقسیم ِ ہند کا بل پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش ہوا تو برطانیہ کے وزیراعظم لارڈ ایٹلی نے (جو اِس وقت میجر ایٹلی تھے) اپنی تقریر میں کہا کہ ”ہندو ستان تقسیم ہورہا ہے لیکن مجھے امید واثق ہے کہ یہ تقسیم زیادہ عرصہ تک قائم نہیں رہ سکے گی اور یہ دونوں مملکتیں جنہیں ہم اِس وقت الگ کررہے ہیں، ایک دن پھر آپس میں مل کر رہیں گی“ راجہ مہندر پرتاپ نے1950میں لاگ گزنی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”جب تک پاکستان کا وجود ختم نہیں ہوجاتا ہمارا ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ حالات اِس طرح بدل رہے ہیں کہ مجھے یقین ہوتا چلا جارہا ہے ہندوستان اور پاکستان میں جنگ، لانیفک ہوگئی ہے۔ بنا بریں میں حکومت ہند کو مشورہ دوں گا کہ وہ افغانستان کو اپنے ساتھ ملا کر پاکستان کو ختم کردے“۔
دسمبر1947سے لے کر 2022تک بھارت، پاکستان کے خلاف حملے کرنے اور سازشیں رچانے میں تن من دھن سے لگا ہوا ہے۔ ماضی سے سبق حاصل کرنے کے لیے جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو یقین کیجئے کہ پاکستان مخالفین کے بیانات، تقاریر پڑھنے کے بعد، اِس کا تقابلی جائزہ موجودہ حالات سے لینے پر محسوس ہوتا ہے کہ مملکت کو قیام پاکستان کے دور سے دیرینہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ اہل وطن میں ایسے گروہ بھی موجود ہیں جو تمام تر خرابیوں کا ذمہ دار ریاست کے چند اداروں کو دیتے ہیں لیکن تحمل سے سوچنا ہوگا کہ کیا قیام پاکستان کے وقت کوئی اور ادارہ یا منصوبہ سازتھا جو مہاجرین، دفاع اور معاشی چیلنجوں کا مقابلہ کررہا تھا۔ کیا سیاسی جماعتوں نے قیام پاکستان کے بعد’قوم‘ بننے کے لیے اپنے قدم بڑھائے تھے یا ہر اُس تانگہ میں سوار ہوجاتے تھے جو انہیں اقتدار کی کرسی کے قریب کردیتا تھا۔
بھارت قیام پاکستان سے پہلے کہہ رہا تھا کہ ملک کو معاشی اور سیاسی طور پر اِتنا دباؤ کا شکار کیا جائے گا کہ وہ ”مجبور“ ہوجائے گا۔ بھارت پاکستان کو مجبور تو نہ کرسکا لیکن اِس نے چھوٹے چھوٹے گروپوں کو لسانیت، صوبائیت، نسل پرستی اور فرقہ وارانہ جھنڈوں تلے اکٹھا ضرور کردیا ہے۔ بعض احباب بیزاری ظاہر کرتے ہیں کہ ہر معاملہ میں بھارت کو لانا غلط ہے۔ لیکن مسئلہ یہی ہے کہ بھارت کی تاریخ ہمیں یہی بتا رہی ہے کہ وہ پاکستان کو سُکھ سے رہنے نہیں دے گااور روز اوّل سے جس پالیسی پر کاربند تھا، وقت ثابت کرتا رہا ہے کہ اِس میں اِس کا ہاتھ ہی نہیں بلکہ پورا بھارت ملوث تھا اور ہے۔ ہمارے ہاں غداری کے سرٹیفکیٹ دیئے جانا اور سیاسی مخالفین کو بھارت سے جوڑنے کی روایت نئی نہیں، سیاسی بنیادوں پر اِس قسم کے عمل سے مملکت کے اصل غدار قوم سے چھپ بیٹھ جاتے اور اِن کی سازشوں  سے ریاست کو مشکل اہداف کا سامنا رہتا ہے۔
آج دیکھ لیں کہ جواہر لعل نہرو سے لے کر مودی سر کار، پاکستان کے خلاف کیا کچھ کہتے ہی نہیں بلکہ کرتے رہے اور اَکھنڈ بھارت کا خواب ابھی تک ہندو توا کے پیروکاروں کو چھچھڑے دکھا رہا ہے۔ اِس سے انکار ممکن نہیں کہ اِس وقت مملکت کو معاشی اور سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ داخلہ و خارجہ سطح پر دفاعی پوزیشن کا سامنا ہے۔ اِن حالات کی زیادہ تر ذمے داری کسی ایک ادارے پر نہیں بلکہ اُن تمام پر عائد ہوتی ہے جو اقتدار میں رہے۔ آج تک کوئی ایسا دور نہیں گذرا، جب کسی مالیاتی ادارے یا ملک سے قرض نہ لیا ہو اور مہنگائی عروج پر نہ ہو۔ معاشی اشاریئے مسلسل ہر دور میں مد و جزر رہے، کبھی کم تو کبھی زیادہ، لیکن سب یکساں اِس کے ذمے دار اِس لیے ہیں کہ انہوں نے معیشت کی مضبوطی کو کبھی ترجیحات میں شامل ہی نہیں کیا۔ قرض لیتے رہے، سود ادا کرتے رہے، پھر قرض لیا اور سود ادا کرنے کے لیے وہ سب کچھ کیا جارہا ہے، جس کا ادارک کسی عام شہری کو اِس صورت میں ملا کہ اِس کا سیاسی مستقبل تو درخشاں تھا ہی نہیں اب معاشی تحفظات خوف و بے حواسی میں تبدیل ہوچکے ہیں۔
یاد رکھیئے کہ جب معاشی عدم تحفظ یا سیاسی دباؤ سے دباؤ میں لاکر پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والوں کی سازشیں اُس وقت تک ناکام نہیں ہوسکتیں جب تک ملکی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے نوجوان نسل کو ’بابو صاحب‘ کے بجائے معمار ِ پاکستا ن بننے کی درست سمت پر گامزن نہیں کیا جاتا۔ ماضی میں کیا ہوا، ہم جیسے تیسے سب جانتے ہیں، لیکن مستقبل میں کیا ہوگا، اِس پر قوم کے نوجوانوں کو سوچ فکر اور عملی قدم اٹھانا ہوگا کیونکہ ماضی پیچھے جاچکا، حال بدتر ہے اور مستقبل مخدوش ہوسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button